Referred back. Correct it and send it again till Feb 22
پ کا فائل نیم اور سبجیکٹ لائن غلط ہے آئندہ اس طرح بھیجیں گے تو قابل قبول نہیں ہوگا۔ فائل کے نام کی ایکسٹیشن غلط لگائی ہے۔ جس سے فائل کو کھولنے میں دقت ہورہی ہے۔
یہ اعدادوشمار آپ کہاں سے لے آئے؟ ( تقریبن 60 سے 70 فیصد لوگ سود کے شکنجے میں پھسے ہوئے ہیں)
آپ نے جس طرح موضوع منظور کرایا ہے اسی طرح لکھیں۔
املا کی بہت غلطیاں ہیں۔
اس کو ٹھیک کر کے دوبارہ بھیجیں۔
کہاں کہاں پر ہے؟ کون لوگ لیتے ہیں اور دیتے ہیں۔ ایسا لوگ کیوں کرتے ہیں۔ اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟ اعدادوشمار، کوئی واضح مثالیں؟ کوئی تحقیقاتی رپورٹس وغیرہ۔
کوئی اور نئی معلومات دیں۔ جو دلچسپ ہو تو اچھا ہے۔ آپ کا مضمون بہت ہی عمومی ہے۔
Saad Ahmed
BS partlll2k16-87-mc
Assigned by Sir Sohail Sangi
سندھ مین بہڑتا ہوا سود کا کاروبار
حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے معیشیت دان ، عالمی سطح کے مفکرین ، دانشور اور صاحبان علم تو پکارپکار کر کہہ رہیں کہ اس دنیا کی بدقسمتی کا آغاز اس دن سے شروع ہو گیا تھا جب سود کے کاروبار کو ایک مضبوت اور مستحکم ادارے کی صورت منظم کرنے کے لیے بینکنگ سسٹم کا آغاز ہوا اور لوگ اپنی تباہی کی طرف گامزن ہونے لگے۔
اس سودی نظام نے لوگوں کو قرض کی راہ دکھای تاکہ لوگ ان سے قرض لے کر اپنا کام اسان کرلیں لیکن انہیں یے اندازہ نہ تھا کہ انہیں اس قرض کی رقم کے بدلے اس رقم سے زیادہ ادا کرنا ہوگی۔ آج کل پاکستان کیدوسرے صوبوں کی طرح صوبہ سندھ میں بھی سود کا کاروبار سرگرم ہے۔ تقریبن 60 سے 70 فیصد لوگ سود کے شکنجے میں پھسے ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں برباد ہورہے ہیں خاص کر دیہاتی لوگ اور غریب مزدور بینکوں اور سود خور لوگوں سے اس لیے ارھار لیتے ہیں تاکہ ان کا کام آسان ہوجائے لیکن اس کے برعکس ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور انہیں لیے گئے قرض کے بدلے دگنی رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور وہ سال و سال ان لوگوں کے مقروض رہتے ہیں۔ اس سودی کام کی شرطوں میں ایک شرط یہ ہے کہ جتنی لمبی قسط ہوگی اتنا ہی سود ادا کرنا ہوگا۔
کچہ لوگ اپنی جمع پونجی بینکوں میں رکہ کر ماہ وار لیتے ہیں اور اس طرح وہ محنت سے جی چراتے ہیں کیونکہ گہر بیٹہے انہیں ایک رقم مل جا تی ہے بغیر کسی محنت مشقت کیے اور پہر وہ اس کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ محنت اور حلال روزی کمانے میں انہیں موت آتی ہے.اس سودی کاروبار میں صرف لوگ ہی نہیں حکومتیں بہی شامل ہیں جو دوسرے ممالک سے اودہار لیتے ہیں اور اسے واپس کرنے کے لیے ٹکس لگاتے ہیں جس کی وجہ سے مہنگاء میں اضافہ ہوتا ہے اور ملک تباہی کی طرف گامزن ہوتا ہے.
سندہ میں مسلمانوں کے ساتہ ساتہ روسرے مزاہب کے لوگ بہی رہاش پزیر ہیں جن میں سے کچہ لوگ سور کے اس دلدل سے منسلک ہیں جو زیادہ طر دیہاتی علاقوں سے تعلق رکہتے ہیں اور وہ لوگ دیہی علاقوں کے غریب اور ماسوم لوگوں کو اپنے اس کام میں شامل کرتے ہیں اور انکی اس وقت کی ضرورت کو پورا کر کے دی گء رقم کو تین گنا بڑہا کر وصول کر کے سالوں کے لیے اپنا غلام بنا لیتے ہیں اور یے راستہ انہیں بعذ اوقات انہیں موت کی طرف بہی لے جا تا ہے.جب لوگ اپنی ضرورت کو پورا کر نے کے لیے ان کے پاس جاتے ہیں تو یہ اس وقت انکا کام آسان کر دیتے ہیں لیکن جب واپسع کا وقت آتا ہے تو ان لوگوں کا دولیا نکل جاتا ہے.اس سودی نظام کی وجہ سے آج ہمارا معاشرا جن مشکلات سے دوچار وہ بہت افسوس ناک ہے اور اس گندگی سے بہار آنا بہت مشکل ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ان سب کو خد سے دور رکہے اور دینی تعلیم بہی حاصل کریں تاکہ اپنی دنیاوی اور آخرت رونوں کو بر برباد ہونے سے بچا سکے.
No comments:
Post a Comment