Send from ur own ID.
THis is not according to approved outline
File name is wrong
Name : Muhammad Noman Roll No : 2K16-MC-60
Class : BS Part-III
بڑ ھتی ہو ئی آبادی
ہم اگر کسی سے یہ سوال کر یں کے پا کستان کا سب سے بڑا مسلہ کیا ہے تو کو ئی کہے گا لوڈشیڈ نگ ،بے روززگاری ،تعلیم ، غر بت جسیے مسا ئل سنے کو ملیں گئے ۔ شا ید ہی کو ئی بڑھتی ہوئی آبادی کو اہم مسئلہ قرار دے کیونکہ اکثر لوگوں کے نزدیک یہ بڑا مسئلہ نہ ہو۔
بڑھتی ہوئی آبادی سےغربت بے روزگاری ، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل جنم لیتے ہیں ۔مردم شماری 2017 کے عبوری نتائج کے مطابق پاکستان کی حالیہ آبادی 21 کڑوڑ سے زائد ہے ۔ جس میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس وقت پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک جبکہ اسلامک ممالک میں اس کا نمبر دوسرا ہے پاکستان میں سالانہ آبادی میں اضافے کی شرلے ٪3.6 فیصد ہے۔ آبادی میں ہوتا ہوا یہ اضافہ خصوصیات کے ساتھ دیہات میں جہاں فی خاندان 8 بچے پیدا ہوتے ہیں جبکہ والدین کے پاس ان بچوں کو تعلیم، صحت اور صاف پانی مہیا کرنے کے سلسلے میں کوئی بندوبست نہیں ہوتا۔ حکومت پاکستا ن تعلیم اور صحت کی مد میں ٪2 فیصد سے زائد خرچ نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ دیہات میں اسکولوں اور ہسپتالوں کی تعداد بہت کم ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کرنے کے لیے انتہائی بڑی نیم دلی سے کام لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبادی میں اضافہ ہوا چلا ہی جارہا ہے جس کی وجہ سے عوام میں معاشی محرومیوں میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم اور ناخواندگی بھی آبادی میں اضافے کی اہم وجہ ہے ۔ اکثر کم آمدنی والے لوگ اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت نہیں کرپاتے جس کی وجہ سے یہی بچے بڑے ہوکر معاشرے پہ اپنے منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ خطے کے دوسرے ممالک نے اپنی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے خاصہ اخدامات کیے ہیں۔ ایران ، بنگلہ دیش اور انڈونیشیاء نے اس حوالے سے علماء کرام کی مدد سے خاندانی منصوبہ بندی پر زور دیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک محتاط سروے کے مطابق 09 کڑوڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ تقریباً ڈھائی کڑوڑ بچے پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہات میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ والدین بھی غربت اور افلاس کی وجہ سے ان کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے مناسب طبیعی سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں بچوں کی امواتکی شرح پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں خواتین مردوں کی نسبت 80 لاکھ زائد ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعلیم کو زیادہ توجہ نہیں دی جاتی آج بھی کہیں جگہوں پر لڑکیوں کا اسکول جانا منع ہے۔ جوکہ ہمارے لیے لمحہ فکر یہ ہے کیونکہ ایک ناخواندہ خواتین بھی آبادی میں اضافے کا ایک سبب ہوسکتی ہیں۔
ہمیں ملک کے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ہمیں لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہوگا۔ لوگوں کو بتانا ہوگا کہ زیادہ ہونا ہی صرف مضبوطی کی علامت نہیں ہے بلکہ اس وقت ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پہ توجہ دینا ہوگی۔ ہمارے سامنے یورپین ملکوں کی مثال موجود ہے جہاں آبادی ایشائی ملکوں کی نسبت کافی کم ہوتی مگر تعلیم کے ذریعے ان ملکوں نے اپنا معیار بڑحادیا جس کی بدولت آج وہ معاشی طور پر ہم سے زیادہ مضبوط ہیں۔ اگر آج ہم مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کرلیا تو یقیناً آنے والے دنوں میں ہم معاشی طور پہ پہلے سے زیادہ مستحکم ہوسکیں گے۔
No comments:
Post a Comment