Mention in the file that it is article or feature etc and also ur name in urdu. Ur subject line and file name are wrong. Next time sent in this manner will not be consideredBOI is not proper format. U should send it in inpage format.
Ur class, roll number,
Article posted on blog. wait for comments
معدنی وسائل ہونے کے باوجود بھی ضلع سانگھڑ گیس سے محروم
دانشور کے بقول:کنبھار کے گھر مٹی کے برتن کا موجود نہ ہونا ۔درزی کے گھر سوئی کا موجود نہ ہونا ۔اسی طرح بلوچستان کا علاقہ سوئی جہاں سے گیس طوفان کی طرح نکلتاہے ،اسی علاقے سے یہی گیس بلوچستان سے ہوتا ہوا پنجاب اور دوسرے تیسرے علاقوں تک پہنچتا ہے مگر بلوچستان کو خود نصیب نہی ہوتااور گیس کو استعمال کرنے سے محروم ہے ۔ آج بھی بلوچستان ایسے علاقے جہاں گیس موجود نہیں ہے۔جیسا کہ خضدار، ڈالبندیں،آواراں جہاں کے مقامی لوگ آج بھی کھانا پکانے کے لئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں سردیوں میں پانی گرم کرنے کے لئے بھی لکڑی کا استعمال کرتے ہیں ۔ بلکل یہی خستہ حال ضلع سانگھڑ کا بھی ہے۔ضلع سانگھڑ میں آئل اور گیس کے دو بڑے زخائر موجود ہیں ۔سنجھورو جس میں آئل اور گیس کا پلانٹ موجود ہے جو سانگھڑ کے شمال اور جنوب اور 22.5کلو میٹر کے مفاصلے پر موجود ہے۔دوئم بوبی آئل گیس پلانٹ25 کلو میٹر کے مفاصلے سانگھڑ کے جنوب میں واقع ہے ۔روزانہ کی بنیاد پر یہ دونو ں پلانٹ تقریبا 3000 بیرل آئل تخلیق کرتے ہیں اور ساتھ میں150 ٹن ایل پی جی گیس تیار کرتے ہیں ۔لیکن افسوس بلوچستان کی عوام کی طرح ضلع ساگھڑ بھی گیس تو دیتا ہے لیکن استعمال کرنے سے محروم ہے سانگھڑ کے 55 کلومیٹیر کے مفاصلے پر تعلقہ کھپرو جہاں آج بھی وہاں کے مقامی لوگ گیس سے محروم ہیں ۔تپتی دھوپ میں تندور پر روٹیاں پکائی جاتی ہیں ۔ اسکے علاوہ سانگھڑ کے اپنے ہی علاقے ورکشاپ اور چکوں کی طرف گیس کا نام ونشان ہی نہیں ہے۔مقامی لوگ گرمیوں میں کوئلے پر کھانا پکانے سے سخت دق میں ہے۔عوام گورنمنٹ سے گذار ش کر کے دق میں ہیں جبکہ ضلع سانگھڑ کو حر کے نام سے جانا جاتا ہے ،دو بڑی جماعت ہے پی پی اور حر جماعت ؛ حرجماعت شروع سے حکومت کرتی آرہی ہیے،لیکن اب پی پی بھی وجود میں ہے الیکشن کے ضمن میں ووٹ کی غرض سے آجاتے ہیں وعدے ،قسم کھالیتے ہیں ،لیکن الیکشن جیتنے کے بعد پھر سے عوام کا وہی حال
یے معدنی وسائل ہونے کے باوجود بھی ضلع سانگھڑ گیس سے محروم
دانشور کے بقول:کنبھار کے گھر مٹی کے برتن کا موجود نہ ہونا ۔درزی کے گھر سوئی کا موجود نہ ہونا ۔اسی طرح بلوچستان کا علاقہ سوئی جہاں سے گیس طوفان کی طرح نکلتاہے ،اسی علاقے سے یہی گیس بلوچستان سے ہوتا ہوا پنجاب اور دوسرے تیسرے علاقوں تک پہنچتا ہے مگر بلوچستان کو خود نصیب نہیں ہوتی اور گیس کو استعمال کرنے سے محروم ہے ۔ آج بھی بلوچستان ایسے علاقے جہاں گیس موجود نہیں ہے۔جیسا کہ خضدار، ڈالبندیں،آواراں جہاں کے مقامی لوگ آج بھی کھانا پکانے کے لئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں سردیوں میں پانی گرم کرنے کے لئے بھی لکڑی کا استعمال کرتے ہیں ۔ بلکل یہی خستہ حال ضلع سانگھڑ کا بھی ہے۔ضلع سانگھڑ میں آئل اور گیس کے دو بڑے زخائر موجود ہیں ۔سنجھورو جس میں آئل اور گیس کا پلانٹ موجود ہے جو سانگھڑ کے شمال اور جنوب اور 22.5کلو میٹر کے مفاصلے پر موجود ہے۔دوئم بوبی آئل گیس پلانٹ25 کلو میٹر کے مفاصلے سانگھڑ کے جنوب میں واقع ہے ۔روزانہ کی بنیاد پر یہ دونو ں پلانٹ تقریبا 3000 بیرل آئل تخلیق کرتے ہیں اور ساتھ میں150 ٹن ایل پی جی گیس تیار کرتے ہیں ۔لیکن افسوس بلوچستان کی عوام کی طرح ضلع ساگھڑ بھی گیس تو دیتا ہے لیکن استعمال کرنے سے محروم ہے سانگھڑ کے 55 کلومیٹیر کے مفاصلے پر تعلقہ کھپرو جہاں آج بھی وہاں کے مقامی لوگ گیس سے محروم ہیں ۔تپتی دھوپ میں تندور پر روٹیاں پکائی جاتی ہیں ۔ اسکے علاوہ سانگھڑ کے اپنے ہی علاقے ورکشاپ اور چکوں کی طرف گیس کا نام ونشان ہی نہیں ہے۔مقامی لوگ گرمیوں میں کوئلے پر کھانا پکانے سے سخت دق میں ہے۔عوام گورنمنٹ سے گذار ش کر کے دق میں آچکی ہے جبکہ ضلع سانگھڑ کو حر کے نام سے جانا جاتا ہے ،دو بڑی جماعت ہے پی پی اور حر جماعت ؛ حرجماعت شروع سے حکومت کرتی آرہی ہیے،لیکن اب پی پی بھی وجود میں ہے الیکشن کے ضمن میں ووٹ کی غرض سے آجاتے ہیں وعدے ،قسم کھالیتے ہیں ،لیکن الیکشن جیتنے کے بعد پھر سے عوام کا وہی حال
No comments:
Post a Comment