Edited - to be published in first issue of this batch's Roshni
عزت اور غیرت کی ذمہ داری صرف عورت پر کیوں ؟
ٓٓربیعہ واحد
آج کل ہما رے معا شرے کا مر د کس قدر آزا د ہے جہا ں مر ضی چا ہے چلا جا ئے جس سے دل چا ہے با ت کر ے، اسے پسند کر ے اس سے شا دی کر لے۔ لیکن جب با ت حوا کی بیٹی کی آتی ہے تو تما م تر تا لے بند کر دئے جا تے ہیں۔ کبھی ان زنجیروں کو پاؤں کی بیڑیا ں بنا دیا جا تا ہے تو کبھی ان زنجیروں کو گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جا تا ہے، یہی ہے حقیقت ہما رے یہا ں ایک عام عورت کی ۔گزشتہ سال سندھ اسمبلی کی رکن نصرت سحر عباسی اپنا موقف پیش کر رہی تھی کہ جواب میں صو با ئی وزیر امدا د علی پتا فی نے غیر اخلا قی جملیاستعما ل کر تے ہو ئے اسمبلی میں سب کے سا منے چیمبر میں آ نے کی پیشکش کی۔کیا یہی مقا م ہے ایک عورت کا کے سرعام اس کو نا زیبا جملوں کا استعمال کر کے اسے مخاطب یا جا ئے۔
بچپن سے ہمارے گھروں میں لڑکیوں کو پردہ داری ،تہذیب،ادب سکھا یا جا تا ہے ان کی تربیت پر خا ص تو جہ دی جا تی ہے۔ لیکن سوال یہاں یہ ہے کہ کیا عز ت کی ذمہ اری صرف اور صرف عورت پر ہے کیا ؟مرد کے پاس عزت،ادب یا تہذیب لاگو نہیں ہوتی ؟تعلیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو پا کستا ن میں ۵۶ فیصدمرد اور ۴۴ فیصدلڑکیا ں ہیں۔ ہما رے یہا ں لڑکی عورت کو تعلیم دلانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے یہ تصور کارفرما ہے کہ وہ کس کا م آئینگی؟۔قومی اسمبلی میں کل ۳۴۳ نشستوںں ہو نے کے با وجو د ۶۰ نشستیں خواتین کے حصے میں آ تی ہیں ۔دنیا میں ۷۵۰ملین عو رتیں ہیں جن کو ۱۸ سا ل کی عمر سے پہلے شا دی کے بندھن میں با ند ھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعدان کے سا تھ کچھ بھی غلط ہو تا ہے ہوتا رہے۔ گھریلو جھگڑے ما ر پیٹ پر ان کو آواز اٹھانے کے بجا ئے عزت رکھنے کا کہہ کر چپ کرا دیا جا تا ہے۔کیا ایک عو رت کو بو لنے کا حق نہیں ؟ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطا بق پا کستا ن کی ہر دوسری عو رت گھریلو تشدد کا شکا ر ہے۔ گزشتہ دسمبر میں پسند کی شا دی کر نے پر جرگہ کی طر ف سے اس لڑ کی کو زیا دتی کی سزا سنا دی گئی اور جب قصور وا قعہ منظر عا م پر آیا تو پتہ چلا کہ گیارہ ایسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ وہ لو گ جو چپ بیٹھے ہو ئے تھے ہمت کر کے با ہر آئے اور اپنے حق کے لئے آواز آٹھا ئی ۔
جو لا ئی ۲۰۱۷ کی رپوٹ کے مطا بق ایک گا ؤ ں میں ۱۶ سا لہ لڑ کی کو اس کے بھا ئی کے جرم کے خلاف تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔�آخر اس معصوم لڑ کی کا کیا قصور تھا ؟ مجر م اور معتبر ہو نے کی بنیا د پر کیف کردا ر تک نہ پہنچے اور آ زادانہ معا شرے میں آزاد بے لگام گھوڑے کے مانند معاشرتی دشمن بننے پھر رہے ہیں۔ پا کستان میں ہر سا ل کئی عورتیں اپنی عزت سے ہا تھ دھو بیٹھتی ہیں۔ کیاعو رت ہو نا اتنا ہی بڑا گنا ہ ہے؟
غیرت اور عزت کی با ت آجا ئے تو بھی قر با نی ایک عو رت کو ہی دینی پڑتی ہیں۔کیا کبھی کسی نے سنا کہ ایک عورت نے مر د کو غیرت کے نا م پر قتل کر دیا۔ ایک فضول رسم و رواج کے نام پر اپنی بہن یا بیٹی کو کسی دو سرے کے گنا ہ کے ازالہ کے طو ر بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے ۔اس میں بھی ایک عورت کوہی اپنا کر دا ر ادا کر نا پڑتا ہے ۔ گزشتہ سال مشہور ماڈل قندیل بلو چ کو اسکے بھائی عظیم نے غیرت کے نا م پر قتل کر دیا۔ عظیم کے بیان کے مطا بق وہ لو گ بلو چ تھے اور ایسا کا م ان کو نازیبالگتا تھا اس لئے اس کو قتل کر دیا ۔جب کہ قندیل کے پر انے انٹر ویو کے مطابق وہ ایک عر صے سے اپنی اسی کما ئی سے اپنے گھر والوں کا پیٹ پا ل رہی تھی۔ کیا قصو ر تھا قندیل کا ؟یہ کہ وہ ایک ما ڈل تھی یا جلد سستی شہرت حاصل کر نے وا لی ایک عا م عورت اس وقت کہاں تھی یہ عظیم غیرت جب وہ اپنی اسی کما ئی کے پیسو ں سے اپنے گھر کی کفالت کر رہی تھی۔
معرو ف ہو سٹ علی سلیم مر د ہو نے کے با وجو د عو رت کا لبا س زیب تن کر کے وقا ر کے سا تھ ٹی وی اسکر ین پر آتے ہیں ۔ ہم ہمیشہ بیٹیوں کو سکھا تے ہیں کہ بیٹی سر جھکا کے چلو ،بیٹو ں کو یہ کیوں نہیں سیکھا تے کہ نظریں جھکا کے چلو؟ آ خر ایک عو رت ہی کیو ں نما ئیش کا پیکر بنے ۔عز ت کی ذمہ داری صرف ایک عو رت پر ہی نہیں اس کے ساتھ ساتھ مر د پر بھی لا گو ہو تی ہے ۔
عورتوں کو جہان ہمارے معاشرے میں غیرت کے نام پر قید کیاجاتا ہے وہیں کئی ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جنھوں نے خود کو ایک عظیم ہستی بھی ثابت کر دکھایا ۔ان میں محترمہ بے نظیربھٹو،ملالا یوسف زئی،عارفہ کریم اور کئی خاتون سرفہرست ہیں۔
---------------------------------------------
To be checked
نام:ربیعہ واحد
رول نمبر:۲کے۱۶۔ایم سی۔۱۴۰
کلاس:بی ایس ۔پا رٹ ۳
عورت ہی کیوں ؟
ٓٓآج کل ہما رے معا شرے کا مر د کس قدر آزا د خیا ل ہے اتنا آ زا د کے جہا ں مر ضی چا ہے چلے جا ئے جس سے دل چا ہے با ت کر ے اسے
پسند کر ے اسے شا دی کر لے ہما رے معا شرے نے اس کے لئے تہذیب کی زنجیروں کا ہر تا لا کھلا رکھا ہے اور جب با ت آ جا ئے حواہ کی
بیٹی کی تو یہی تما م تر تا لے بند کر دئے جا تے ہیں کبھی ان زنجیروں کو پا وں کی بیڑیا ں بنا دیا جا تا ہے تو کبھی ان زنجیروں کو گلے میں تو خ بنا کر ڈال دیا جا تا ہے یہی ہے حقیقت ہما رے یہا ں ایک عام عورت کی ۔گزشتہ سا ل ۲۰۱۷میں اسمبلی میں فنکشل لیگ کی ممبر نصرت سحر عباسی
اپنا موقف پیش کر رہی تھی کے جواب میں صو با ئی منسٹر امدا د پیٹا فی نے غیر اخلا قی جملوں کا استعما ل کر تے ہو ئے اسمبلی میں سب کے
سا منے چیمبر میں آ نے کی پیش کش کر دی۔کیا یہی مقا م ہے ایک عورت کا سرعام اس کو غیر اخلا قی جملوں کا استعمال کر کے اسے مخاطب
کیا جا ئے۔ بچپن سے ہمارے گھروں میں لڑکیوں کو پردا داری ،تہذیب،ادب سیکھا یا جا تا ہے ان کی تربیت پر خا ص تو جہ دی جا تی ہے
لیکن سوال یہاں یہ ہے کہ کیا عز ت کی ذمداری صرف اور صرف ایک عورت کے دامن میں ہے کیا مرد کے پاس عزت،غیرت نہیں ۔تعلیم
کے معیا ر پر جا نچا جا ئے تو پا کستا ن میں ۵۶222مرد اور ۴۴222لڑکیا ں ہیں اسکو لز میں ہما رے یہا ں ایک عورت کو تعلیم دینا غیر منا سب سمجھا
جا تا ہے اور اس کی بنیا دی وجہ یہ ٹیگ ہے کہ وہ کس کا م آئینگیے ۔نیشنل اسمبلی کی ہی با ت کی جا ئے تو ٹو ٹل۳۴۳ نشتیں ہو نے کے با وجو د ۶۰222نشتیں عورتوں کے حصے میں آ تی ہیں ۔دنیا میں ۷۵۰ملین عو رتیں ہیں جن کو ۱۸ سا ل کی عمر سے پہلے شا دی کے بندھن میں با ند ھ دیا جاتا ہے اور اس دورانیہ ان کے سا تھ کچھ بھی غلط ہو تا ہے گھریلوں جگھڑے ما ر پیٹ تو ان کو آواز آٹھانے کے بجا ئے عزت کا مان کہ کر چپ کیوں کر وا دیا جا تا ہے؟ کیا ایک عو رت کو بو لنے کا حق نہیں ۔ (ڈبلوایچ او)کے سروے کے مطا بق پا کستا ن کی ہر دوسری عو رت گھریوں تششدت کا شکا ر ہے۔حا ل ہی دسمبر ۲۰۱۷میں پسند کی شا دی کر نے پر جرگہ کی طر ف سے اس لڑ کی کو زیا دتی کی سزا سنا دی گئی اور جب قصور وا قعہ منظر عا م پر آیا تو (۱۱) ایسے کئی واقعات سا منے آ ئے اور وہ لو گ جو چپ ہو کر بیٹھے ہو ئے تھے ہمت کر کے با ہر آئے اور اپنے حق کے لئے آواز آٹھا ئی ۔جو لا ئی ۲۰۱۷ کی رپو ڑٹ کے مطا بق ایک گا ؤ ں میں ۱۶ سا لہ لڑ کی کو اس کے بھا ئی کے کر دا گنا ہ کی سزا جرگے کہ فر د کی طر ف سے زیا تی کا حکم دے دیا گیا۔�آخر اس معصوم لڑ کی کا کیا قصور تھا ؟ یہ تما م لوگ مجر م ہو نے اور پا ور ہو نے کی بنیا د پر کیفرکردا ر تک نہ پہنچے اور آ زادانہ معا شرے میں دندنا تے پھر رہے ہیں پا کستان میں ۷۰سے ۸۰222عو رتیں ہر سا ل اپنی عزت سے ہا تھ دھو بیٹھتی ہیں کیا ایک عو رت ہو نا اتنا ہی بڑا گنا ہ ہے ۔غیرت اور عزت کی با ت آجا ئے تو اس میں بھی قر با نیا ں ایک عو رت کو ہی دینی پڑتی ہیں۔کیا کبھی کسی نے ایسا سنا کہ ایک عورت نے مر د کو غیرت کے نا م پر قتل کر دیا یا گا ؤ ں کی ایک فضول یا پھر اس کو انسا نی حقوق کا قتل کہیں تو زیا دہ بہتر ہو گا ونی کر دینا جس میں اپنی بہن یا بیٹی کو کسی دو سرے کو اپنے گنا ہ کے ازالہ کے طو ر پر دے دینا ہو تی ہے نہیں ۔اس میں بھی ایک عورت کوہی اپنا کر دا ر ادا کر نا پڑتا ہے ۔۶۱جولا ئی ۲۰۱۷ میں مشہور مو ڈل قندیل بلو چ کو اسکے بھائی عظیم نے غیرت کے نا م پر قتل کر دیا عظیم کے بیان کے مطا بق وہ لو گ بلو چ تھے اور ایسا کا م ان کو نہ زیبہ لگتا تھا اس لئے اس کو قتل کر دیا جب کہ قندیل کے پر انے انٹر ویو کے مطابق وہ کئی عر صے سے اپنی اسی کما ئی سے اپنے گھر والوں کا پیٹ پا ل رہی تھی کیا قصو ر تھا قندیل کا ؟یہ کہ وہ ایک ما ڈل تھی یا جلد سستی شہرت حاصل کر نے وا لی ایک عا م عورت جب کہا تھی یہ غیرت جب وہ اپنی اسی کما ئی کے پیسو ں سے اپنے گھر کا خر چ آٹھا رہی تھی ایسی کو نسی غیرت تھی جو اتنے عرصے بعد جا گی؟ معرو ف ہو سٹ علی سلیم ایک مر د ہو نے کے با وجو د عو رت کا لبا س زیب تن کر کے اپنے وقا ر کے سا تھ ٹی وی اسکر ین پر آتے ہیں لوگ اب کیو ں خا مو ش ہیں ۔ہم ہمیشہ بیٹیوں کو یہی سیکھا تے ہیں کے بیٹی سر جھکا کے چلو بیٹو ں کو یہ کیوں نہیں سیکھا تے کہ نظریں جھکا کے چلو آ خر ایک عو رت ہی کیو ں نما ئیش کا پیکر بنے ۔عز ت کی زمہ داری صرف ایک عو رت پر ہی نہیں اس کے ساتھ ساتھ مر د پر بھی لا گو ہو تی ہے ۔جس نا زک دور سے ہما را ملک گزرہا ہے تو دل سے بس یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ پا ک ہم سب کی عزت وآبرو محفوظ اور اپنے حفظ واما ن میں رکھے۔
No comments:
Post a Comment