آرٹیکل
تحریر: بی بی رابعہ
بی ایس پارٹ ااا
رول نمبر۔24
پاکستان میں سوشل میڈیا کا بڑھتا اثر
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں سوشل میڈیا اکیسویں صدی میں رابطے کا ایک بہت بڑا زریعہ بن چکا ہے یہ ایک ایسا اوزار ہے جو لوگوں کو اظہارے رائے کے مواقع فراہم کرتا ہے پچھلے چند سالوں میں سوشل میڈیا کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر سے پاکستانی عوام بھی بچ نہ پائی ہے ایک سوشل میڈیا کمپنی کی تحقیق کے مطابق ہمارے ملک کی عوام کے تقریبا۴۴ ملین سوشل اکانٹس ہیں جس میں فیس بک، ٹوئیٹر،لائن،انسٹاگرام شامل ہیں
اس وقت ہمارے ملک کو ایسے پڑھے لکھے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اسے تباہی سے بچا سکے لیکن افسوس ہماری یوتھ اس وقت سوشل میڈیا پر ذہنی غلامی میں مصروف ہے سماجی سائٹس نے ہماری یوتھ کو میں میں مبتلا کردیا ہے ہر کوئی اپنا نام ایسے کام کے ساتھ جوڑتا ہوا نظر آرہا ہیجو اس نے کیا ہی نہیں ہے اس ناصور سوشل میڈیا نے محاورہ نیکی کر دریا میں ڈال کو جو بھی کر فیس بک پرڈال میں تبدیل کر دیا ہے فیس بک پر اسٹیٹس ڈالنا ،مسخرہ پن آمیز پوسٹ شیئر کرنا ہمارا مقصد بن گیا ہے صرف یہی نہیں جو کھایا،پیا حتی کہ جس راستے سے بھی گزر ہوا اس کے بارے میں بھی مختلف سماجی سائٹس پر پوسٹ دینا ہمارا مشغلہ بن گیا ہے
ہمیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہورہاہے کہ اس کے ہمہ وقت استعمال نے ہمیں اپنی ذندگی کے اصل مقصد سے دور کر دیا ہے اتنا دور کہ ہم کہیں ایسی جگہ جائے جہاں انٹرنیٹ کی حصول پذیری نہ ہو تو ہمیں پریشانی اور بے سکونی گیرنے لگتی ہے ان سماجی سائٹس کی عادت نے ہمیں اپنے قریبی رشتوں سے دور کردیا ہے اس پر اپنے رائے کے اظہار کا حق تو حاصل ہے لیکن دوسری طرف اس کے غلط استعمال سے کافی انتشار بھی پھیلتا ہے
اس میں کوء شک نہیں ہے کہ انٹرنیٹ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے درست استعمال سے ہم اپنیملک کو ترقی کی جانب لے جاسکتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرسکتے ہیں لیکن ہم نے اس ٹیکنالوجی کو بد اخلاقی کا سامان کردیا ہے طنز،طعنے،گالیاں سوشل سائٹس پر بد اخلاقی کی تصویر پیش کررہیہیں
طالبعلم جو کہ پاکستان کے مستقبل کے معمار ہیں جو کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا یہ طبقہ سوشل میڈیا پر مصروف ہے۔ دیکھا جائے تو سماجی سائٹس کے بہت سے مثبت پہلو بھی ہیں ایک تو یہ کہ اس کے ذریعے ہمیں ایک دوسرے کے خیالات جاننے کا موقع ملتا ہے اور یہ بھی کہ اس کی مدد سے ہم ایک دوسرے کی رائے،سوچ،نظریات سے آگاہ ہوتے ہیں دوسرا یہ کہ اس کے آنے سیبہت سی ایسی چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں جو کہ نیوز میڈیا کی نظر سے اوجھل ہوجاتی ہیں
لیکن کء بار سوشل میڈیا پرغلط افواہیں بھی پھیلاء جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بدنظمی کا شکار ہو جاتا ہے سوشل میڈیا ہماری ذندگی میں جو سب سے بڑی تبدیلی لایا وہ یہ کہ ہم اپنے پرانے رسومات سے کافی دور ہوگئے ہیں چاندنی رات میں گھر کے بڑے بزرگ سے قصہ کہانیاں سننے کا رواج تو جیسے ہم بھولا ہی چکے ہیں
اس بات سے انکار نہیں ہے کہ سماجی میڈیا کی وجہ سے ہماری ذندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا ہوگء ہیں جیسا کہ ہم گھر بیٹھے آسانی سے شاپنگ کر سکتے ہیں اونلائن بزنس کرسکتے ہیں اور بھی اس سے کء فائدے حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس کے نقصانات سے واقف ہوجائیں اور اس کا جائز استعمال کریں تا کہ ہمارا آنے والا کل روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہوسکے اور ہم اپنے آپ کو تاریخی حوالے سے مسمار ہونے سے بچاسکے۔
بے محنت پیہم کوء جوہر نہیں کھلتا
روشن شررتیشہ سے ہے خان فرہاد!
تحریر: بی بی رابعہ
بی ایس پارٹ ااا
رول نمبر۔24
پاکستان میں سوشل میڈیا کا بڑھتا اثر
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں سوشل میڈیا اکیسویں صدی میں رابطے کا ایک بہت بڑا زریعہ بن چکا ہے یہ ایک ایسا اوزار ہے جو لوگوں کو اظہارے رائے کے مواقع فراہم کرتا ہے پچھلے چند سالوں میں سوشل میڈیا کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر سے پاکستانی عوام بھی بچ نہ پائی ہے ایک سوشل میڈیا کمپنی کی تحقیق کے مطابق ہمارے ملک کی عوام کے تقریبا۴۴ ملین سوشل اکانٹس ہیں جس میں فیس بک، ٹوئیٹر،لائن،انسٹاگرام شامل ہیں
اس وقت ہمارے ملک کو ایسے پڑھے لکھے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اسے تباہی سے بچا سکے لیکن افسوس ہماری یوتھ اس وقت سوشل میڈیا پر ذہنی غلامی میں مصروف ہے سماجی سائٹس نے ہماری یوتھ کو میں میں مبتلا کردیا ہے ہر کوئی اپنا نام ایسے کام کے ساتھ جوڑتا ہوا نظر آرہا ہیجو اس نے کیا ہی نہیں ہے اس ناصور سوشل میڈیا نے محاورہ نیکی کر دریا میں ڈال کو جو بھی کر فیس بک پرڈال میں تبدیل کر دیا ہے فیس بک پر اسٹیٹس ڈالنا ،مسخرہ پن آمیز پوسٹ شیئر کرنا ہمارا مقصد بن گیا ہے صرف یہی نہیں جو کھایا،پیا حتی کہ جس راستے سے بھی گزر ہوا اس کے بارے میں بھی مختلف سماجی سائٹس پر پوسٹ دینا ہمارا مشغلہ بن گیا ہے
ہمیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہورہاہے کہ اس کے ہمہ وقت استعمال نے ہمیں اپنی ذندگی کے اصل مقصد سے دور کر دیا ہے اتنا دور کہ ہم کہیں ایسی جگہ جائے جہاں انٹرنیٹ کی حصول پذیری نہ ہو تو ہمیں پریشانی اور بے سکونی گیرنے لگتی ہے ان سماجی سائٹس کی عادت نے ہمیں اپنے قریبی رشتوں سے دور کردیا ہے اس پر اپنے رائے کے اظہار کا حق تو حاصل ہے لیکن دوسری طرف اس کے غلط استعمال سے کافی انتشار بھی پھیلتا ہے
اس میں کوء شک نہیں ہے کہ انٹرنیٹ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے درست استعمال سے ہم اپنیملک کو ترقی کی جانب لے جاسکتے ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرسکتے ہیں لیکن ہم نے اس ٹیکنالوجی کو بد اخلاقی کا سامان کردیا ہے طنز،طعنے،گالیاں سوشل سائٹس پر بد اخلاقی کی تصویر پیش کررہیہیں
طالبعلم جو کہ پاکستان کے مستقبل کے معمار ہیں جو کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا یہ طبقہ سوشل میڈیا پر مصروف ہے۔ دیکھا جائے تو سماجی سائٹس کے بہت سے مثبت پہلو بھی ہیں ایک تو یہ کہ اس کے ذریعے ہمیں ایک دوسرے کے خیالات جاننے کا موقع ملتا ہے اور یہ بھی کہ اس کی مدد سے ہم ایک دوسرے کی رائے،سوچ،نظریات سے آگاہ ہوتے ہیں دوسرا یہ کہ اس کے آنے سیبہت سی ایسی چیزیں ہمارے سامنے آتی ہیں جو کہ نیوز میڈیا کی نظر سے اوجھل ہوجاتی ہیں
لیکن کء بار سوشل میڈیا پرغلط افواہیں بھی پھیلاء جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بدنظمی کا شکار ہو جاتا ہے سوشل میڈیا ہماری ذندگی میں جو سب سے بڑی تبدیلی لایا وہ یہ کہ ہم اپنے پرانے رسومات سے کافی دور ہوگئے ہیں چاندنی رات میں گھر کے بڑے بزرگ سے قصہ کہانیاں سننے کا رواج تو جیسے ہم بھولا ہی چکے ہیں
اس بات سے انکار نہیں ہے کہ سماجی میڈیا کی وجہ سے ہماری ذندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا ہوگء ہیں جیسا کہ ہم گھر بیٹھے آسانی سے شاپنگ کر سکتے ہیں اونلائن بزنس کرسکتے ہیں اور بھی اس سے کء فائدے حاصل کر سکتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس کے نقصانات سے واقف ہوجائیں اور اس کا جائز استعمال کریں تا کہ ہمارا آنے والا کل روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہوسکے اور ہم اپنے آپ کو تاریخی حوالے سے مسمار ہونے سے بچاسکے۔
بے محنت پیہم کوء جوہر نہیں کھلتا
روشن شررتیشہ سے ہے خان فرہاد!
No comments:
Post a Comment