Thursday, 15 February 2018

Mahnoor Channa Artilce BS



آپ کا موضوع مصنوعی مہنگائی ہے لیکن آپ کے آرٹیکل میں کہیں موجود نہیں کہ مصنوعی کیسے؟ 
فائل نیم اور سبجیکٹ لائن غلط ہیں۔ آئندہ اس طرح بھیجی گئی تحریر قابل قبول نہیں ہوگی۔ 
لائن اسپیس زیادہ ہے۔ ایڈیٹنگ میں اور لے آؤٹ میں مسئلہ کرے گی

مصنوعی مہنگائی اور عوام 

ماہ نور چنہ بی ۔ ایس ۔ 44
مہنگائی سے مراد ہے اشیا کی قیمتوں کا آمدنی کے مقابلے میں بڑھ جانا ۔ یا پھر ہم اس طرح کہیں کہ آمدنی کا نہ بڑھنا اور اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا نا س کو مہنگائی کہتے ہیں ۔ پاکستان میں مہنگائی شددت سے آگے بڑھ رہی ہے ۔جس کو روکنا بہت مشکل نظر آرہا ہے ۔ مہنگائی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جرم ، بروزگاری ، اور جہالت بڑھتی جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دس برس سے عام آدمی کا جینا مشکل ہو گیا ہے اب اپنے آپ کو موت کی گہری نیند سلانا یعنی خود کشی کر نا آسان لگتا ہے ۔ لیکن اپنے آپکو زندہ رکھنا مشکل ! یہ سچ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی طرف سے جو جن جس طرح بوتلوں میں برآمد ہوا ہوا ہے اس کا واپس بوتلوں سے نکلنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن لگ رہا ہے ۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اس بڑھتے ہوئے عذاب یعنی مہنگائی کے ذمہ دار ساٹھ فیصد ہمارے لوک افسران ، حکمران ، اور تاجر بھائی ہیں تو چالیس فیصد اس کی ذمہ دار خود عوام بھی ہے ۔ 
مہنگائی کا سامنہ کرنے کا ایک سبب غربت بھی ہے کیو کہ جو چیز مہنگی ہو جاتی ہے اس کو خریدنا ہر فرد کے بس کی بات نہیں ایک طرف دیکھا جائے تو ہمارے ملک کی انتالیس فیصد آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے ۔ جس میں صوبہ بلوچستان اول ، صوبہ سرحد دو سرے ، صوبہ سندھ تیسری اور صوبہ پنجاب چوتھے نمبر پر نمایا ں ہیں ۔ سندھ میں بھی اگر دیکھا جائے تو Multi Poverty Index ایم پی آئی کی 2016 مین جاری کر دہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ صوبہ میں بھی غربت کی لپیٹ میں آنے والا 84 فیصد کے ساتھ صوبہ تھر پاکر ہے ۔ جس کی باعث اپنا پیٹ بھر نے یا پھر اسی مہنگی چیز کے ریٹ کو پورا کرنے کے لیے چوری چکاری ، دوسرے لوگوں کا حق لوٹنے پر اتر آتے ہیں ۔ جس سے بھی معاشرہ میں بد حالی جہالت جنم لیتی ہے ۔ ڈان اخبار کے ایک سروے کے مطابق پیسے کم ہونے کی وجہ سے مریض سستی دوائی کھانے پر مجبور ہیں ۔ا ور ہسپتالوں میں75 فیصد مریض اپنی زندگی کی جنگ ہا رجاتے ہیں۔ 
مہگائی جیسے بر پا ہونے والے اس طوفان سے متحد ہوکر ہی رہائی پائی جا سکتی ہے ۔ جیسا کہ اگر ایک چیز مہنگی ہوتی ہے تو ہم سب ایک ہوکر اس کو لینا ہی چوڑدیں تو اس چیز کے خراب ہونے کے ڈر سے سستے ریٹ پر فروخت کرنے پر مجبور ہوجائینگے ۔ اسی طرح سے ہی روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرنے والی چیزوں کے مہنگاہونے پر سب ملکر مقابلہ کرینگے تو ایک مہنگائی جیسے طوفان سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ اپنی زندگی میں جلنے والے دیپ کو بھجا سکتا ہے ۔ لیکن متحد ہوکر یا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی سے چھوٹکارا پانے کے لیے ہر کسی کو اجتماعی طو رپر خصوصاً عورتوں کو اپنا کر دار ادا کرنا ہوگا ۔ ہماری میڈیا کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ مہنگائی کے مطابق پروگرام نشر کیئے جائیں اور مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح اور اس سے بچنے کے طریقے میڈیا کے ذریعے چلائے جائیں تاکہ لوگوں میں بیداری کا شعور پیدا ہو ۔اس طرح سے اگر معاشرے میں اتحاد پیدا ہوگیا تو مہنگائی تودور کی بات حکمران بھی منمانی نہیں کرسکتے ۔ مہنگائی کو روکنے کا ایک حل یہ بھی ہے ہر فرد کو دن میں اٹھارہ گھنٹے کام کرنا ہوگا ۔دنیا کے دوسرے ممالک کی مثال لیں تو ان کی ترقی کا سبب بھی یہی ہے ۔ کہ ان کے عوام نے اس طوفان کو دور کرنے کے لیے خودکشیاں نہیں کیں بلکے متحد ہو کر اٹھارہ گھنٹے کام کیا اور اپنے ملک کی معیثیت کو مضبوط کیا ۔ حکومت کو چاہیے کہ کرپشن اور منی لانڈرینگ کے بجائے عوام کے ان مسائل کو حل کرنا چاہیے ۔ بنیادی سہولتوں کو فراہم کرنا اور اس کی فراہمی کو پورا کرنا ملک میں غربت کی شرع کو جڑسے مٹانے کا ذریعہ بھی ہے ۔

No comments:

Post a Comment