Write u name in the language in which u are writing. Subject line, file name are wrong. wait for detailed feedback
سندھ میں پانی کے مسائل
پانی انسانی حیات کی بنیادی ضرورت ہے ہر واحد فرد کو اس زمین پر زندہ رہنے کیلئے 20سے 50لیٹر پانی کی ضرورت ہے جس میں پینے اور کھانے پکانے کی دیگر ضروریات شامل ہیں پانی کے آلودہ ہونے کے باعث انسانی حیات میں کئی مرض جنم لیتے ہیں جس کے باعث 1.8ملین لوگ ہر سال اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں 10ملین لوگ پانی کے باعث خطرناک بیماریوں سے جدو جہد کر رہے ہوتے ہیں یونائٹیڈ نینشن ک مطابق صاف پانی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اسی سے انسانی صحت تبدیلیاں آتی ہیں۔
پانی کی آلودگی کے باعث معاشرے کے لوگ مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں آتے جارہے ہیں اور معاشرہ اقتصادی طور پر اور معاشی طور پر کمزور پڑتا جارہا ہے یہ حالات کسی دوسرے ملک کے نہیں بلکہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں رہنے والی عوام کیلئے گھمبیر مسئلہ بنتے چلے جارہا ہے بدقسمتی سے صوبہ سندھ میں رہنے والی عوام بھی ان سب پریشانیوں میں مبتلا ہے اور گذشتہ کئی سالوں سے سندھ میں پانی کی صورتحال دن بدن ابتر ہوتی چلی جارہی ہے حالیہ پاکستان کونسل ریسرچ کے مطابق سندھ بھر میں سے چار سو ساٹھ زمینی پانی کے نمونے تحقیق کئے گئے جس سے انکشاف ہوا ہے کہ سندھ بھر میں 80%پانی ناقابل استعمال ہے
جکبہ 75%سے 80%پانی کی آلودگی تجاوز کر گئی ہے اور یہ پانی کے نمونے مختلف اسپتالوں ،اسکولوں اور دفاتر سے طلب کئے گئے جس سے معلوم ہو اہے کہ سندھ کا موجودہ پانی انسانی حیات کیلئے ناقابل استعمال ہے سندھ بھر میں نو عمر بچے پانی کے باعث بیماریوں کاشکار ہوتے ہیں جس میں ٹائفائیڈ ، پولیو اور دیگر خطرناک بیماریاں شامل ہیں یہ کمسن بچے ہر سال ان بیماریوں کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
لیکن یہ سب مسائل جنم کیوں لیتے ہیں ؟ اس کا جواب نہ حکمرانوں کے پاس ہے نہ ہی متعلقہ اداروں کے پاس کیونکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی پانی کو آلودہ کرنے میں پیش پیش ہیں حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں بسنے والی عوام کو ان کی بنیادی سہولتیں فراہم کرے لیکن بدقسمتی سے ہماری حکومت اور متعلقہ ادارے بے بسی کاشکار ہیں اور اپنی زمہ داری سے غافل ہیں جس کی جیتی جاگتی زندہ مثال SIDAکی ہے یہ ادارہ سندھ میں رہنے والی عوام کیلئے پانی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے تشکیل دیا گیا تھا لیکن بلاآخر اس کی بھی ناکامی کی قلعی کھل گئی حکومت اور متعلقہ اداروں کی چشم پوشی کے باعث شہری ٹینکر ز اور نجی کمپنیوں کا پانی استعمال کرتے ہیں جب کہ حیدرآباد اور کراچی کے بیشتر علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل ہے اور جن علاقوں میں پانی فراہمی موجود ہے وہ بھی بیماریوں سے بھر پور ہے غریب عوام مہنگائی کے دور میں اتنے مہنگے ٹینکرز اور پانی کابھاری خرچہ برداشت کرنے سے قاصر ہے جس کے باعث وہ واسا کا مہیا کردہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے جب کہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بھی پانی کے حوالے سے کافی اقدامات پر نوٹس لیا لیکن ان کے اس عمل سے ٹینکرز مافیہ اور نجی پرائیویٹ کمپنیوں کا تو خاتمہ ہوا لیکن پانی میں کسی قسم کی بہتری نہیں آئی اور پانی کی آلودگی کا مسئلہ جوں کا توں کھڑا ہے کراچی حیدرآبا د جیسے بڑے شہروں میں بیشتر علاقوں میں پانی کی فراہمی موجود ہے لیکن کئی علاقے اس حق سے بھی محروم ہیں اور مہیا کردہ پانی کسی آفت سے کم نہیں ساری سندھ کی عوام مضرِ صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے حکمران ساٹھ ساٹھ لاکھ کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور خود کے بچوں کو باہر ممالک میں پڑھاتے ہیں لیکن غریب عوام کیلئے تو پینے کیلئے بہتر پانی بھی میسر نہیں 2300پانی کی اسکیمیوں کا آغاز کیا گیا تھاجس کیلئے 4.59ملین کی لاگت مہیا کی گئی تھی لیکن چوروں اور ڈاکوں کیلئے یہ رقم بھی کم پڑ گئی 2300میں سے 539اسکیمین ناکام ہو گئی عوام کا مرنا جینا سندھ میں ہے لیکن متعلقہ ادارے اور حکومت سندھ سے کوئی پوچھنے والا نہیں یہ غریب عوام کب تک اس چکی میں پستی رہے گی۔
No comments:
Post a Comment