Monday, 26 February 2018

Rabeya Mughal Feature Urdu

Not reporting based

ریلوے اسٹیشن تاریخی شہر حیدرآباد کا!!! 

دلکش اسٹال اپنی جانب کھینچتے ہیں تو کہیں آنکھوں میں 
بَس جانے والے مناظر ۔ ریلوے اسٹیشن سے جڑی 
کچھ گہری یادیں۔۔۔
ربیعہ مغل
ہمارے شہر حیدرآباد کا ریلوے اسٹیشن خاصہ مشہور ہے یہاں ہر دن ٹرینوں کی آمدورفت رہتی ہے ۔اسٹیشن کے کُل آٹھ پلیٹ فارم اور پانچ ٹریک ہیں آئے دن ہزاروں مسافر یہاں سے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں.یہ بدھ کی دوپہر تھی اور گرمی بھی شدید تھی جس وجہ سے موسم کچھ اچھا نہ تھا .اس دن کافی سال بعد میرا اسٹیشن آنے کا اتفاق ہوا .ہمارے کچھ عزیزوں نے واپسی کا سفر ٹرین سے اختیار کرنا تھا .چناچہ جب ہم پہنچے تو تھوڑی دیر بعد روایتی طور پر پتا چلا کہ جس گاڑی کا ہمیں انتظار ہے وہ ۲گھنٹے لیٹ ہے.اسی اثناء میں میں نے سوچا کیوں نہ اسٹیشن پر تھوڑا گھوم پھر لیں.اور پھر میں نے اسٹیشن کا جائزہ لینا شروع کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ اب کافی چیزیں بدل گئی ہیں .لیکن نہ بدلا تو صفائی کا نظام اور ٹرینوں کی تاخیر..

 اس دن لوگوں کا رَش زیادہ تھا عین ممکن ہے کہ اس کی وجہ ٹرینوں کا دیر سے پہنچنا ہو.البتہ اسٹیشن کے ویٹنگ رومز تسّلی بخش تھے وہاں بیٹھے لوگ پُر سکون دکھائی دے رہے تھے .عام طور پر مجھے شور اور تیز آوازیں پسند نہیں لیکن اسٹیشن کے پلیٹ فارمز پر ہر جگہ شوروغُل سے زندگی کا احساس ہورہاتھا اور لوگ ایک دوسرے کی باتوں اور چھوٹی موٹی لڑائیوں سے محظوظ ہوررہے تھے.چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بَس ایک ہی سوال پوچھ رہے تھے کہ ریل گاڑی کب آئے گی؟ہمیں ریل گاڑی دیکھنی ہے! ان کو دیکھ کر مجھے اپنا وقت یاد آگیا کہ بچپن میں مجھے بھی اسٹیشن گھومنے اور ریل گاڑی دیکھنے کا بہت شوق تھا اُس وقت حیدرآباد کے ریلوے اسٹیشن کی اپنی رنگ و رونق ہوتی تھی . لیکن آج انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن اپنا معیار کھو رہے ہیں.
اسٹیشن پر مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں کا تانتا بندھا ہوا تھااور وہ اس انتظار میں تھے کہ ان کی گاڑی آئے اور وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوں۔یہ ایک اذیت ناک وقت تھا جب ہماری ٹرین بھی مزید آدھے گھنٹے لیٹ ہونے کا اعلان ہوا ا. آج سے تقریباً دَس سال پہلے جب میں اسٹیشن آئی تھی . تب بھی ٹرینیں اسی طرح لیٹ تھیں .گویا تاخیر کی وجوہات بدل گئی ہیں پر نظام نہیں بدلا. 
اسٹیشن پر ناقص صفائی اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر تھے. جیسے انتظامیہ کے پاس صفائی کرنے کو ملازم ختم ہوگئے ہوں. .پھَلوں اور مشروبات کے اسٹالز پر مکھیاں بھنبھنارہی تھیں اور پان تھوکے نشان نمایاں دکھائی دے رہے تھے.ٹریکس کی حالت بھی کچھ مطمئن نہ تھی. آوارہ کُتے بھی کثرت سے دکھائی دے رہے تھے.میں نے ایک بات محسوس کی کہ صفائی نہ ہونے کی ایک بڑی و جہ اہلِ اسٹیشن کا رہن سہن ہے جو مانگنے والے اور کولی وغیرہ اسٹیشن پر ہی رہتے ہیں
وہ بھی یہاں کی صفائی ستھرائی کا خیال نہیں کرتے.
آس پاس موجود گندگی اور مانگنے والوں کی لائن دیکھ میں بینچ سے اٹھی اور مختلف اسٹالز پر چلی گئی.ایسے کونسی چیز تھی جو موجود نہ تھی حیدرآباد کی ہر مشہور شِہ یہاں تک کہ چوڑیوں کے بھی اسٹالز تھے .لیکن جب میں نے یہاں قیمتیں پوچھی تو میری حیرت کی انتہاء نہ رہی.ہر چیز دَس گُنا اضافے سے بیچی جارہی تھا ہر چیز کو مہنگائی کے پَر لگے تھے.
یہاں کتابوں کے اسٹالز بھی تھا میں نے یادگار کے طور پہ ایک کومک بک بھی خریدی۔کتابوں کے اسٹالز پر نوجوان زیادہ دلچسپی لے رہے تھے.اسی طرح چوڑیوں کے اسٹالز پر بچیاں موجود تھیں اور دوسری طرف لوگ اپنے عزیزوں کے لئے پھل خریدنے میں مصروف نظر آئے.وہ لوگ جو کافی گھنٹوں سے اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کررہے تھے . وہ چٹ پٹے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیئے.سارے اسٹالز بہت ہی دلکش تھے.یہاں کی تفریح کے بعد میں نے دوسرے
پلیٹ فارم پر جانے کا ارادہ کیا۔
پلیٹفارم پر جانے کے لئے پُل موجود تھا .میں نے اِس پُل پر بہت سی تصاویر بنوائیں.یہاں سے دور دور تک اسٹیشن اور ریل کی پٹری کانظارہ بہت ہی پُر لطف تھا ۔عین اسی وقت میں نے دیکھا کہ ساتھ والے ٹریک پر موجود ایک ریل گاڑی جو کراچی کیلئے نکل رہی تھی اس کا ایک نوجوان مسافر ٹرین میں چڑھ نہ سکا.وہ بہت دور تک پیچھے دوڑا لیکن بَدقسمتی سے اس کی چھوٹ گئی تھی.یہ ایک عجیب و غریب اور دلکش سے بھرپور منظر تھا۔
ٹرین آنے میں اب محض پندرہ منٹ رہ گئے تھے.سامان اٹھانے کے لئے ہم نے ایک کولی سے مدد لی.اور اسے اُسے اُس کا جائز منافع دیا جو اُس کا حق تھا۔ شام ہوگئی تھی اور گرمی کا زور ختم ہوچکا تھا.ٹھنڈی ہوائیں بہت لطف دے رہی تھیں میں نے دور سے آتی ٹرین کو دیکھا اور اُس کا ہارن سُن کر میرے چہرے پہ مسُکرا ہٹ بکھر گئی.اور یہ یادوں سے بھرپور اسٹیشن کا سفر میرے دِل پر گہرے نقوش چھوڑگیا۔ 
تحریر۔۔ربیعہ مغل
بی۔ایس۔۳ تھری
رول نمبر۔۸۲
ٹیچر۔سَر سُہیل سانگی 

No comments:

Post a Comment