First two paragraphs are irrelevant
Reasons are manifold include those
کیا پاکستان میں عورتوں پر مظالم کبھی ختم نہیں ہونگے
حسیب دیسوالی
14 اگست 1947 علیحدہ وطن دنیا کے نقشہ پر نمودوار ہو اجسکا نام اسلامی جمہوریہ ملک پاکستان رکھا گیا اس علیحدہ وطن کے لیے لاکھوں لوگون نے قربانیاں دیں ۔ اورر اپنی جان و مال کا نظرانہ بھی پیش کیا اس قربانی میں عورتوں کا حصہ بھی خاطر خواہ تھا اور اس کو بنانے کا مقصد یہاں کے لوگوں کو برابری کے حقوق دینا تھے چاہے وہ امیر ہو یا غریب چاہے وہ مرد ہو یا عورت سب کو برابر کے حقوق اور آزادی مرحمت کرنے کے تھے لیکن جب سے لیکر آج تک انسانیت کی ماں اماں حواہ کی بیٹیاں ظلم و بربت شقاوتِ قلبی ، نفرت، حرص و ہوس اور مردوں کی بالادستی کا شکار بنتی چلی آرہی ہیں کبھی غیرتِ حور کو غیرت کے نام پر ہلاق کردیا جاتا ہے تو کبھی اس بنتِ حواہ کو قرآن سے شادی کی غیر اسلامی اور غیر انسانی رسموں کی قبر میں اتار دیا جاتا ہے۔ تو کبھی سرِ بازار ان کی عزتِ اچھالی جاتی ہیں ۔
عورت اگر ماں ہو تو عظمت ،بیوی ہو تو محبت ،بیٹی ہو تو رحمت اور بہن ہوتو عزت ہوتی ہے گویا عورت ہر رشتے میں عزت وقار اور وفاداری کا پیکر ہے ۔ کسی نے اس عظیم ہستی کے بارے میں کیا خوب کلماتِ طیبات ادا کیے ہیں کہ " عورت نے اپنی ترتیب عناصر کے مطابق اپنے کردار سے مختلف رشتوں کو اپنی بے پایاں شفقت ، محبت ، خلوص اور وفا سے نوازا ہے ۔ بیٹی اور بہن کے رشتوں کو تقدس اور احترام کا مرقع بنایا ۔ بیوی اور ماں کی صورت میں قربانی کے لازوال ابواب رقم کیئے ہیں ۔ دنیا کا حسن اس مرقع حسن و وفا کے بغیر نہ صرف تہی دامن بلکہ بے رنگ و بو ہے ۔لیکن جس صنف کو پیغمبرِ اعظم رح نے "رحمت " قرار دیا ایسی بنتِ حواہ کو پاکستان میں ظلم و بربت ، زیادتی ، تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے ۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 2014میں 5ہزار 965 ، 2015میں 6ہزار 476 ، 2016میں 7ہزار 311 اور 2017کے جون کے ماہ تک 3ہزار 406کیسز عورتوں کے ساتھ زیادتی کے درج ہوئے جس میں سے عورتوں کے خلاف جرائم کے مطالعے اور مشاہدے سے یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ ان میں سے پچاس فیصد سے زائد کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور اگر بات کی جائے پاکستان کے صوبوں کے حوالے سے تو پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا صوبہ ، صوبہ پنجاب میں ایک سروے کے مطابق گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران 9ہزار قتل اور تشدد کے 2ہزار ،غیرت کے نام پر قتل کے 745 کیسز رپورٹ ہوئے بہ نسبت پنجاب کے دیگر صوبوں میں یہ کیسز کم رپورٹ ہوئے لیکن ہر گز یہ نہ سوچا جائے کے وہاں یہ کیسز نہیں ہوتے ۔
سانحہ قصور میں ننھی کلی کے ساتھ پیش آنے والے دررد ناک اور ناقابلِ برداشت واقعہ اپنے ساتھ کئی سوالات چھوڑ گیا جس میں سے اول ، کیا پاکستان میں عورتوں پر مظالم کبھی ختم نہیں ہونگے ؟ آخر عورت کو ہی کیوں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ؟ آخر عورت کی مظلومیت کا فائدہ کیوں اٹھایا جاتا ہے غیر ت کے نام پر ماں ، بیٹی ، بہن ، بیوی کو ہی کیوں قتل کیا جاتا ہے کبھی بھائی ، باپ ، بیٹے ، شوہر کو کیوں نہیں کیا جاتا جبکہ غیرت کے نام پر مرد کا عمل دخل زیادہ ہوا ہے ۔ آخر کیوں حکومت اور ریاست ان مجرموں کو پکڑ کر کیفر کردار تک نہیں پہنچاتی جس سے دوسری ملک کی بچیوں کے ساتھ یہ سانحہ پیش نہ آئے آخر کیوں حکومتِ اور ریاست نے زینب سے پہلے اس مجرم کو 11مرتبہ جرم کرنے کے بعد سزا تو دور کی بات سرے سے پکڑا ہی نہیں جس کی وجہ سے اس مجرم نے بڑی دلیری سے بارہویں بار بھی یہ گھناؤنی حرکت کی ۔
اس کے بعد یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اس سانحہ میں جتنا مجرم شامل ہے اتنی ہی ریاست اور حکومت بھی ہے کیونکہ جرائم دنیا کے ہر ملک اور ہر کونے میں ہوتا ہے لیکن ان کو روکنا اور مجرم کو اس کی حرکت کے مطابق سزا دینا حکومت اور ریاست کا کام ہے اگر مجرم کو بروقت سزا مل جائے تو معاشرے میں سے ایک مجرم کی کمی ہوسکتی ہے ۔ اور یہ ہی ایک آسان نقصہ ہے معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے کا بھی اور عورتوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کا بھی اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں عورتوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے پولیس اہم کردار ادا کرسکتی ہے لیکن جب پنجاب میں پولیس کے احتجاج کرنے والوں کے خلاف بلکل سیدھی سیدھی فائرنگ کے مناظر سامنے آئے اور کئی انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تو عوام کے دلوں میں پولیس کو لیکر ایک خوف طاری ہوگیا اور قوم کے محافظ نما ہی قوم کے لیے ایک خوف اور ڈر کی علامت بن گئے جس کی وجہ سے پاکستان میں پچاس فیصد سے زیادہ عورتیں ان پر ہونے والے مظالم اور زیادتی کے خلاف آواز تک نہیں اٹھا پاتی اور جرائم پیشہ لوگ خلے عام ایک کے بعد ایک جرم کرتے ہی چلے جاتے ہیں عورتوں پر مظالم ختم کرنے کے لیے ہمارے معاشرے کے ایک ایک فرد کو اٹھنا پڑے گا اور اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا ملک بھر کی ایک ایک سیاسی اور سماجی جماعتوں کو ایک ہوکر دن رات اس پر کام کرنا پڑے گا پھر جاکر کوئی اچھی صورت نکلنے کے امکانات ہیں ۔
حسیب دیسوالی
2K16-MC-55
BSC Part III
ماس کمیونیکیشن
No comments:
Post a Comment