Population and area of Latifabad
File name and subject line not correct
محمد احتشام شوکت
ایم اے 2K18-
آرٹیکل
لطیف آباد میں کھیلوں کی سر گرمیوں میں فقدان
دنیا بھر میں عوام کو حکومت کی جانب سے مختلف سہولیات فراہم کے جاتی ہیں ان میں سیرو تفریح اور کھیل کود کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں جس کے لیے مختلف علاقوں میں گراؤنڈ کی تعمیر بھی کی جاتی ہے تاکہ زہنی نشو نما کے ساتھ ساتھ جسمانی نشونما کا بھی خیال رکھا جا سکے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں کچھ زیادہ کھیلوں کا رجھان دیکھا جاتا ہے لطیف آباد میںآٹھ گراؤنڈ ہیں لیکن دیکھا جائے تو یہاں کے گراؤنڈ آہستہ آہستہ اپنی رونقیں کھوتے جارہے ہیں۔ ان میں سے صرف دو ایسے گراؤنڈ ہیں جہاں کھیلوں کی سرگرمیوں کا با قاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے جبکہ 6 گراؤنڈ شادی بیاہ اور سیاسی تقریبات کی زینت بن گئے ہیں۔لطیف آباد نمبر 8 میں واقع اکبری گراؤنڈ سیاسی تصویر شاعری اور پارٹی کے پرچموں سے سجا ہوا ہے ۔ حال ہی میں ایک سیاسی پارٹی نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اس جلسے میں لاکھوں روپے خرچ کئے یہاں تک کہ ارد گرد کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی قسمت کھلی راتوں رات ان سڑکو ں کی مرمت کی گئی جو ایک عرصہ سے بدحالی کا شکار تھی علمیہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے گراؤنڈ تعمیر کر دیے جاتے ہیں لیکن اس کی صفائی صتھرائی سے حکومکت اور حکومت کے نمائندے قاصر ہیں ۔
ان تمام گراؤنڈ میں سے اگر سب سے اچھا گراؤنڈ کی بات کی جائے تو وہ لطیف آباد نمبر 10کا افضال شاہ گراؤنڈ ہے جو کہ کئی سالوں پہلے حکومت کی جانب سے بنایا گیا ۔لیکن اب یہ بھی کمائی کے دھندے سے پاک نہ رہ سکا 2010 سے پہلے یہ ہر چھوٹے بڑے شہری کے لیے بلا ومعفزہ کھلا ہوا تھا دور دراز سے مختلف کرکٹ ٹیمیں میچ کھیلنے آیا کرتی تھیں اور خاس کر چھوٹے بچوں کی بہت گہما گہمی دکھائی دیتی تھی بغیر کسی کی اجازت کے بچے اپنی گیند اور بیٹ کے ساتھ آتے اور کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہوجاتے لیکن 6 مارچ 2010 کے بعد جب حکومت نے اس کی ازسرِ نو تعمیر کی اس کے بعد ایک بہترین گراؤنڈ کی شکل دی تو یہ عام لوگوں پر بوجھ بن کر ٹوٹا کیونکہ ایک ہزار (1000) فیس مقرر کی گئی جو ہر شہری کی پہنچ میں نہ تھی جس کے بعد خاصی آبادی نے اس گراؤنڈ کا رخ کرنا ختم کردیا اور مختلف ٹائمنگ کے مختلف ریٹ رکھ دیے گئے ۔ لوکل میچ کے ایک ہزار (1000) فیس جب کہ اسکول اور کالج والوں کے لیے پانچ ہزار اور سب سے زیادہ ہائی ریٹ پانچ ہزار (5000) اور تین ہزار (3000) روپے فی گھنٹہ فیول کی شکل میں لیا جاتا ہے بجلی کے ادم ادائیگی کی وجہ بتائی جاتی ہے جو ایک عام شہری اور بچوں کی پہنچ سے باہر ہے ۔ اب اکثر اوقات بچے گلی کوچوں میں کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں ہر ملک میں کھیلوں کو فروغ دیا جاتا ہے لیکن ہمارے حکمران کی اس جانب کوئی توجہ نہیں ۔لطیف آباد یونٹ نمبر 5میں محبوب گراؤنڈ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں سے معروف کرکٹر شرجیل خان جیسے ٹیلینٹڈکھلاڑی نے پروان چڑھااور کچھ عرصہ پہلے اس گراؤنڈ میں خاسی گہما گہمی نظر آتی تھی ۔لیکن حکومت کی جانب سے اس گراؤنڈ کی ازسرِ نو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور اسکے تعمیراتی کام کی وجہ سے کئی مہینوں سے کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد نہیں کیا جارہا ہے جبکہ پانچ نمبر کے شہریوں نے سڑکوں اور گلیوں کو میدان بنالیا جہاں وہ کرکٹ کھیل کر اپنی جسمانی نشونما کو برقرار رکھ رہے ہیں اور اس طرح دوسرے گراؤنڈ کا بھی یہی حال ہے حکومت کی جانب سے جہاں اسکول اور ہسپتال کو فروغ دیا جاتا ہے وہیں زہنی و جسمانی نشونما کے لیے گراؤنڈ کو توجہ دینی چاہیے جہاں شہری اپنی زہنی و جسمانی نشونما کو پروان چڑھا سکیں یہ شہری حکومت کی زمہ داری ہے کہ ان کا خیال رکھنا حکومت کا فرض ہے نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں جس کو برباد ہونے سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ اگر جوجوانوں کو ایسی سرگرمیاں میسر نہیں ہونگی تو ظاہر سی بات ہے وہ غلط مشغلوں میں پڑجائیں گے۔ ایک فلوسفر نے کہا ہے جہاں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں اگر یہ بات حکومت کو سمجھ آجائے تو کئی شہری زہنی و جسمانی بیماریوں سے بچ جائیں گے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسی سرگرمیوں کے لیے خاص فنڈ کا اجراء کریں ۔
No comments:
Post a Comment