In urdu sned in inapge format.
Subject line not proepr.
wait for detailed feedback
ٹیگ اور برانڈز کا کلچر:ایک سازش؟
حیدرآباد میں بھی یہ روایت پروان چڑھ رہی ہے!
اگر زمین کی پیدایش سے لیکر اس پر بسنے والے انسان پر غورکیاجائےتوہمیں معلوم ہوگا کہ تقریباہر دور میں ہی انسان کسی نہ کسی روایت اور ثقافت کے تحت زندگی بسرکرتا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کی پسند ناپسند وقت کےساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔شایداسے ہم دنیا کا دستور کہ سکتے ہیں جدید دور میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی ضروریات بھی جدید ہوگئ ہیں یا پھر بنادی گئ ہیں۔ آج سے دس پندرہ سال پہلے جو چیز اہم تھی اور پہنچ سے دور تھی آج وہ معمولی اور کوڑیوں کے دام فروخت ہوتیدکھائی دیتی ہے۔
آج دنیا جس دور سے گزر رہی ہے وہاں آدمی اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کررہا ہے۔ جدید مارکٹنگ نے نوجوان صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے اور اس طرحآج کی برانڈڈ پراڈکس “جبری طلب“ پیدا کررہی ہیں یعنی آپ کسی چیز کی طلب نہ کرہں بلکہ اسے کسی نہ کسی طرح بس خرید لیں۔ جبری طلب کا دئرہ وسیع کردیا گیا ہے تاکہ ان جیسے برانڈز کی کنزیومرازم بڑھے اور یہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔
حیدرآباد کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہاں روایتی انداز اور نئے کلچر کی طرف رجحان پہلے کم تھا لوگ زیادہ تر سستی لیکن معیاری اشیاء خریدنے کو ترجیح دیتے تھے۔ آج اس شہر میں بسنے والوں کا ذوق اور ذائقہ تبدیلی کی طرف چلا گیا ہے حیدرآباد شہر میں قائم چند لیکن اہم بازار جیسے چاندنی، ریشم گلی، آٹوبھان روڈ اور بلیوارڈ مال ہیں جہاں ہفتے کے ساتوں دن لوگوں کا رش خریداری کی غرض سے برقرار رہتا ہے، یہ بات غور طلب ہے کہ حیدرآباد کے شہری تیزی سے اس روایت کو اپنارہے ہیں خصوصآ نوجوانوں کو تبدیلی کی طرف جاتا دیکھ کر ملک کے اعلٰی برانڈز نے بھی یہاں اپنے دفاتر قائم کر لئے ہیں۔
ٹیگ اور برانڈز کے کلچر “پاپ کلچر“کا حصہ ہیں پاپ کلچر کے تحت آج دنیا میں کنسرٹس،فلمز،اسمارٹ فونز،سیلفیز اور وڈیو گیمز کے ذریعے طلب اور کنزیومرازم کو بڑھا یا جا رہا ہے۔ حیدرآباد میں بھی پاپ کلچر کی ساری اقسام بڑی تیزی سے جڑ پکڑ گئ ہیں،آئے دن لائیو کنسرٹ،نئی فلموں کی نمائش عروج پر ہے۔ حیران کن اور غور طلب بات یہ ہے کہ اس پاپ کلچر نے آج کے نوجوانوں میں یکسانیت پیدا کردی ہے،فاسٹ فوڈ سے لیکر کپڑوں کی برانڈز تک آج کا نوجوان ایک ہی ذائقہ اور ذوق رکھتا ہے۔ ہماری طرح اور کئی ممالک میں نوجوانوں کی ترجیحات کو یکساں کر دیا گیا ہے اس کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ کو پہنچ رہا ہے کیونکہ وہ برانڈڈ سیل فونز سے لیکر ٹیگ لگی ہوئی جینز کو ان ممالک مع زیادہ سے زیادہ برآمد کررہا ہے۔ فکر طلب بات یہ ہے کہ ہم نے اس پاپ کلچر کو اپنا تو لیا ہے لیکن اس سے ہونے والے نقصان کا جائزہ نہیں لیا ان غیر معیاری سرگرمیوں نے آج کے نوجوان دماغ بند کردیا ہے اور انہیں صرف اور صرف تفریح میں لگا دیا ہے۔ آج فاسٹ فوڈ نے ہمیں مختلف ذہنی اور جسمانی کمزوریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔
نوجوانوں کی سرگرمیوں پر تحقیق کرنے والے ادارے نے کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق آج سے کچھ عرصے قبل نوجوانوں نے ٦٠ارب ڈالرز کی اشیاء خریدیں،یہ رقم سینما کے ٹکٹس،وڈیوز اور فاسٹفوڈ سے زیادہ جینز اور کنسرٹس پر خرچ کی ہیں۔ حیدآباد کے شہریوں سے جب میں نے پوچھا کہ وہ عام اشیاء اور برانڈڈ چیزوں میں کس کو ترجیح دینا پسند کرینگے؟ تہ ان میں سے بیشتر کا کہنا تھا کہ وہ برانڈز والی دکان سے شوپنگ کرنا پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان جگہوں سے لی گئی چیزیں اعلئی معیار کی ہوتی ہیں اور زیادہ پائیدار ہوتی ہیں،یعنی ہر ١٠ میں سے ٦ لوگ خصوصآ نوجوان برانڈڈ خریدناہی پسند کرتے ہیں جبکہ دیگر برانڈڈ کے بجائے عام جگہوں پر ہی خریداری کرتے ہیں۔
ہمارے ملک میں ٹیگ،لوگوز اور برانڈز کی روایت عام ہوگئی ہے جیسے کہ ہر چیز کی حد مقرر ہے اسی طرح نوجوانوں پر اس بڑھتے جنون کےلئے بھی دائرہ بنانا ہوگا تاکہ ہمارے ملک کا غریب طبقہ مزید احساس محرومی سے دوچار نہ ہو۔ہم نے پاپ کلچر کی مہنگی روایات کو تو اپنالیا ہے اب ایک اور روایت جسے اپنانے کی ضرورت ہے وہ ہے نچلے اور پسے ہوئے غریبوں کی امداد۔۔۔جو منافع اور جائز سے کہیں زیادہ پیسا ہم ان کمپنیوں کی جھولی میں ڈال رہے ہیں وہ اگر ہم اپنے مجبور اور مظلوم لوگوں کو دیں تو وہ اپنے مالی مسائل دور کرسکتے ہیں اور ان کے ہونہار بچے قلم اور کتاب اٹھائے اسکول جانے کے قابل بن سکتے ہیں اور ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار با صلاحیت طور پر ادا کر سکیں گے۔
تحریر: ربیعہ مغل
بی-ایس-پارٹ-٣ تھری
رول نمبر-٨٢ ٹیچر:سر سانگی
No comments:
Post a Comment