Seems ok.
ماروی شوکت
بی ،ایس III-
رول نمبر 2K16/MC/47:
آرٹیکل
پو لیس اختیارات سے تجاوز کرتی ہے
پولیس کا ادارہ ہر ملک کے باشندوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے وجود میں آیا۔ یہ ادارہ خلفأے راشدین کے دور میں حضرت عمر فارواقؓ نے قائم کیا۔ جب کو ئی بھی ادارہ اپنی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ملک بدحالی اور تباہی کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ جس طرح پولیس جوایک بہت اہم ادارہ ہے اپنے اختیارات کی خلاف ورزی کرتا ہے تو بہت سی معصوم جانوں کا زیاں ہوتا ہے۔ جیسے 7 جون 2014 میں ماڈل ٹاؤ ن میں احتجاج کرنے والوں پر پولیس کا تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں 14جانیں گئیں اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے 2 فروری 2016 کو پی -آئی- اے (PIA) کے احتجاج میں پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور ساتھ ہی فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں 2 افراد مارے گئے اور پولیس اپنے اس عمل سے انکار کرتی رہی 7 جنوری 2018 کو سانحہ قصور پر احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلا ئی گئیں اور 3 بے گناہوں کی جان لے لی گئی ۔اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے والوں پر جب پولیس دھابہ بولتی ہے تو اختیارات کی پٹی اُن کے آنکھوں پر بندھ جاتی ہے اور یہ نہیں دیکھتے کہ احتجاج کرنے والا یہ طبقہ ہمارے معاشرے کا قابل احترام طبقہ ہے خواں وہ پڑھے لکھے ہوں یا مزدور محنت کش لوگ پولیس اُن پر تشدود کرنے میں کوی گریز نہیں کرتی ۔
جعلی مقابلوں میں بھی پولیس سر گرم نظر آتی ہے 13جنوری 2018کو ایس ایس پی (SSP) ملیر راو انوار کی سرپرستی میں نقیب اﷲ محسور سمیت 4بے گناہ مارے گے۔ہیوومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق2015میں2108 مرد اورعورتوں کو جعلی مقابلوں میں مارا گیا ۔
اختیا رات سے تجا وز کر تی پو لیس رشو ت لینا بھی اپنا علمیہ سمجھتی ہے جہا ں پو لیس کو عوام کی مدد اور تحفظ کیلئے جگہ جگہ تعینا ت کیا جا تاہے وہاں پولیس والے اپنا دھند ہ بنا لیتی ہیں ۔ اور شہر یو ں کو رو ک کر رشو ت کا تقاضہ کرتے ہیں ۔ جب وہ لو گ رشو ت دینے سے انکا ر کر تے ہیں تو وہ طر ح طر ح کے کیس بنا کر چا لا ن کاٹ لینے کی دھمکی دیتے ہیں ۔
پو لیس اپنے اختیا رات کا نا جا ئز فا ئد ہ اٹھا تی ہے اور اپنے من ما نی کر تی کجھ دن پہلے دادو میں ایک غریب بزر گ رکشہ ڈرائیو ر پرتشدد کیاگیا نیو ایئر نا ئٹ پر کراچی سی ویو پر منچلے نو جوا نو ں کیسا تھ بد ترین سلو ک کیا اور تشد د کر کے گاڑیو ں میں ڈال کر تھا نے لے گئے اور وہ پو چھتے رہے کہ ہمارا کیا قصو ر تھا ۔
پو لیس کے ان رویو ں سے عوام کے دلو ں میں انکی نفرتیں بڑ ھ رہی ہے اور پو لیس کا منفی چہر ہ سب کے سا منے آرہا ہے ۔ آخر کب تک یہ چلتا رہے گا اور عوا م کا لی وردی والے درندوں کے ظلم سہتی رہے گی ۔ پولیس کا عوا م کے ساتھ دن بدن رویہ عوام کے دلو ں میں انتقام کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں اور عوام کو برائی کی طر ف دھکیل رہے ہیں جو ملک اور پو لیس دنو ں کیلئے خطر نا ک ثابت ہو سکتے ہیں ۔جب قا نو ن کے رکھوالے ہی قا نو ن تو ڑ تے ہیں تو ملک تو ڑ تے ہیں ۔
پو لیس کے غیرقا نو نی حر کتیں ملک میں دہشتگر دی کو فرو غ دے رہے ہیں ۔ اظہارالحسن پر حملے کر نے والے ملز م عبد الکریم نے اپنے بیان میں بتا یا کہ وہ پو لیس کے رو ز برو ز بدسلو کی اور غیر اخلاقی رویو ں سے تنگ آکر پو لیس سے بد لا لینے کے لئے یہ راستہ اختیار کر نے پرمجبور ہو ا ۔
پو لیس کے کچھ لو گو ں کی وجہ سے اچھے کر دار والے پو لیس والو ں پر سے بھی عوا م کا اعتبا ر اٹھ گیا اور پولیس کے بارے میں اب سب کا ایک ہی مو قف بن گیا ہے یہ ہما ری محافظ نہیں دشمن ہے ۔ پو لیس کے نا م سے عوا م اور غصہ پیدا ہو جا تا ہے ۔ عوا م پو لیس سے خو د کو غیر محفو ظ سمجھتی ہے ۔ پھر ایسے ملک میں پو لیس کی کیا ضرو رت جہا ں عوا م اس سے غیر محفو ظ ہو اور خو د کو پو لیس کے بغیر محفو ط سمجھتی ہے ۔ پھر تو یقیناًمحکمہ پو لیس قو می خرانے پر بہت بڑا بو جھ ہے جو اربو ں روپے کا سا لا نہ حکومت کو نقصا ن پہنچا رہی ہے اگر پو لیس اپنے اختیارات کا تجا وز نہ کر ے اور عوا م کو تحفظ فراہم کر تی ہے تو شاہد عوام کا ردعمل کچھ اور ہی ہوگا اور عوا م پولیس دشمن نہیں دوست ہو گی ۔
پو لیس اپنے ہا تھ میں مو جو د لا ٹھی اور جیب کو گر م کر تی بندوق کا نا جا ئزاستعما ل کرتی ہے ۔ عوام کا خوف اب ان کے لئے ایک کھلو نا بن گیا ہے ۔ جس سے وہ وقت بہ وقت کھیلتی ہے ۔ بے گنا ہ انسا ن پرجر م عائد کر کے انکی جا ن لے لیتی ہے اور پھر معزر ت کر کے اس پھندے کو اپنے گلے سے اتار دیتی ہے پو لیس ایک طر ح سے پیسے پر نا چنے والی کٹھ پتلی بن گئی ہے ۔ پیسے کی کشش دیکھ کر اپنی پار ٹی پل بھر میں بدل لیتے ہیں پو لیس اپنے فرائض کو پو ری طر ح فرا مو ش کر چکی ہے اور جو لو گ اس کو سنجید گی سے لیتے ہیں انہیں بھی برائی پر گامزن کر دیا جا تاہے ۔
سیالکو ٹ میں پو لیس والو ں نے خا تون کو بھی نہیں بخشاعدالت کی با ہر 50 سالہ عورت پر تشدد کیا ۔
حکومت کو چا ہیے کہ اس کرپٹ افیسرو ں کا محاسبہ کیا جا ئے تو جو پو لیس کے ادارے کی بد نا می کا سبب ہیں اور ایسے اعلیٰ پیشے کا چند روپیو ں کی خاطر تقدس پا ما ل کر رہے ہیں اور اعلیٰ ما ہو ار عدالت قتل اور تشدد کے واقعات کا سختی سے نو ٹس لینے کی ضروت اور ایسے افسران کے لئے ایسا قا نو ن تجو ویز کر نا چا ہیے جس کے زریعے ایسے واقعا ت کی رو ک تھا م ہو سکے ۔
No comments:
Post a Comment