Showing posts with label Ahtisham Shoukat. Show all posts
Showing posts with label Ahtisham Shoukat. Show all posts

Tuesday, 10 April 2018

Ahtisham Shoukat Interview MA



محمد احتشا م شو ک 
کلا س M.A (Previous) 2K/18 
رول نمبر 21 # 
انٹر ویو کلیم شیخ 
تعارف :
کلیم شیخ کا تعلق شا ہی بازار حیدر آباد سے ہے وہ ایک کا رو باری شخص ہو نے کے ساتھ ساتھ سما جی کار کن بھی ہے انہو ں نے عبد الستار ایدھی اور رمضا ن چھیپاکی طر ح تو کوئی فلا حی ادارہ تو قا ئم نہیں کیا لیکن اپنے بل بو طے پر بہت سے متاثر ہ لو گو ں کی مدد کر تے ہیں ضرورتمندو ں کی ضرو رت کے وقت ایک مسیحا بن کر ثا بت ہو تے ہیں ۔ 
س۔ آپ سے کا تعلق کہا سے ہے اور ابتدائی تعلیم کہا ں سے حاصل کی ؟ 
ج۔ میرا تعلق شاہی بازار حیدر آباد سے ہے اور میں ابتدائی تعلیم نیو ل اکیڈ می اور انٹر میڈیٹ سند ھ کومر س کا لج سے مکمل کی ۔ 
س۔ آپ کس وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکے ؟ 
ج۔ جب میں نے 1987 میں B.A مکمل کیا تو میرے والد کے ما لی حا لا ت اتنے اچھے نہیں تھے کہ وہ گھر کے اخراجات پو رے کر سکتے اسلئے مجھے فو ری طور پر کا روبار کی ضرو رت تھی تو میں نے اپنے والد کے ساتھ کا م کر نا شرو ع کر دیا اور پڑھائی چھو ڑ نی پڑی ۔ 
س۔ کو نسی شخصیت سے متا ثر ہو کر آپ سما جی کا ر کن بنے؟ 
ج۔ ایک مر تبہ میرے کچھ دوست جو NGOمیں کا م کر تے تھے وہ ایک کا نفر نس میں شمو لیت کے لئے انڈیا جا رہے تھے تو میں نے بھی گھو منے کے ارادہ سے انکے ساتھ چلا گیا کانفر نس میں مو جو دلو گ اور انکی سماجی خد ما ت دیکھ کر میں بہت متاثر ہو ا اور میرے دل میں بھی سما جی خد ما ت کا جذبہ پیدا ہو ا۔ 
س۔ آپ نے اپنی سما جی زند گی کی شرو عا ت کہا ں سے کی ؟ 
ج۔ 2005 میں انڈیا کا نفر نس میں شر کت کے بعد واپس آکر میں نے اپنے دوستو ں کے ساتھ جڑارہا اور جاننے کی کو شش کی کہ وہ متاثر ہ لو گو ں کی مدد میں اپنی خد ما ت کو کیسے سرا نجا م دیتے ہیں ۔ یہ جا ننے کے بعد میں نے بھی سو چا جب میرے پا س کچھ پیسے ہے تو کیو ں نہ میں تھو ڑا وقت نکا ل کر میں بھی لو گو ں کی مدد کرو۔ 
س ۔ آپ نے کن کن ادروں کے ساتھ مل کر کا م کیا ؟ 
ج ۔ مختلف ادارو ں کے ساتھ کا م کیا اور شیڈول کا سٹ کمیو نٹی کے ساتھ بھی کا م کیا ور اس وقت شاہی بازار حید آباد کے سما جی کا رکنو ں کے ایک گرو پ کے ساتھ مل کر کا م کررہا ہو ں ۔ 
س ۔ کیا آپ کا مستقل میں کو ئی ادارہ قائم کر نے کا ارادہ ہے ؟
ج۔ فلحا ل تو ایسا کوئی اردہ نہیں ہے کیو نکہ ماضی میں ہم نے ایک ادارہ قائم کیا تھا People Developed Foundation کے نا م سے جو Society میں بھی رجسٹر ڈ تھا جو بند کر نا پڑا ۔ 
س۔ کیا وجہ تھی آپ کو ادارہ بندکر نا پڑا ؟ 
ج۔ ادارہ بند کر نے کی سب سے بڑی وجہ پیسو کی کمی اور جیسے آفس بریئر کے اخرا جا ت پو رے کر نے مین جو رقم چا ہی ہو تی ہے وہ ہماری پا س کم تھی تو ادارے کے اخرا جا ت پو رے نہیں ہو سک رہے تھے اسلئے ہم نے سو جا ادارے کو بند کیا جا ئے اور آفس بریئر کے اخراجا ت بچا کر یہ پیسے کیو ں نہ متا ثر ہ لو گو ں کی مدد پر لگا ئے جائے اور گرو پ کی شکل میں کا م کرکے ۔ 
س۔ آپ نے اس ادارے کے ما تحت آخری کام کب کیا ؟ 
ج۔ 2010 میں جب سند ھ میں سیلا ب آیا تھا تو بہت سے سیلا ب زدگان مختلف جگا ہوں سے آکر حیدر آباد میں نیو سبزی منڈی کے قریب خیمے بستی بنا کر بیٹھے تھے ان لو گو ں کی ضرو رت کی تما م اشیا ء مہیا کی جیسے کہ کھا نا ، دو دھ ، لکھڑیا ں وغیر ہ جو کہ بنیا د ی ضرورت تھی ۔ 

س ۔ آپ نے مختلف اداروں اور لو گو ں کے ساتھ کا م کیا لیکن کن لو گو ں ے سا تھ مل کر کا م کر نے میں زیا دہ خو شی محسو س ہو ئی ۔ 
ج ۔ ب مجھے شیڈول کا سٹ کمیو نٹی کے ساتھ کا م کر نے کے مو قع ملا تو مجھے حقیقتاََ انکے ساتھ کا م کر کے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور مجھے بہت مزا آیااور انکے ساتھ خد ما ت انجا م دینے میں جو خو شی محسو س ہو ئی شاید ہی میں انہیں اپنے لفظو میں بیا ن کر سکو ں ۔
س۔ لو گو کے مسائل حل کر نے میں کن مشکلا ت کا سا ما کر نا پڑھتا ہے ؟ 
ج۔ بنیا دی طو ر پر جن مسائل کا سا منا کر نا پڑھتا ہے وہ یہ ہے کہ مثال کے طو رپر ہمارے پا س پانچ افرادایسے ہیں جن کے مسا ئل حل کر نا ہے تو ان پا نچ میں سے کسی ایک سے شروع کر تے ہیں تو باقی کے چار لو گ محسو س کر تے ہیں کہ وہ ایک ہمارے قریب ہے تو اس لئے ہم نے پہلے اسکی مدد کر نا شرو ع کی اور بد قسمتی سے وہ شخص بھی خو د معتبرسمجھنے لگتا اور باقی لو گو ں کے ساتھ غیر اخلا قی رویہ کے سا تھ پیس آتا یہ بہت عجیب تاثر دیکھنے کو ملتا ہے جسے ختم کر نا بہت مشکل ہو تا ہے ۔ 
س۔ پاکستا ن کی بڑھتی ہو ئی غر بت پر آپ کے کیا خیا لا ت ہے ؟
ج۔ ہر شخص کا اپنا نظریہ ہے کو ئی کہتا ہے کہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے غر بت بڑھ رہے ہے لیکن میرا پنا نظریہ اور ذاتی تجر بہ ہے کہ نئی نسل خو د سے پیا ر کر نا اور خوا ب دیکھنا چھو ڑ دیائے ہے اور اپنے ارادہ میں پختگی نہیں رکھتے یہ بڑھتی ہوئی غر بت کا ایک بڑا سبب ہے ۔ 
س ۔ آپ کے نظریہ میں غر بت کا خا تمہ کیسے ممکن ہے ؟ 
ج۔ ہمیں اپنے پیرو ں پر کھڑے ہو نے کی کو شش کر نی چا ہیے اور ارادے میں مضبو طی ہو نی چا ہیے کیونکہ ارادے کی ایک بڑی اہمیت ہے اور ارادہ ہمیں ضرو ر آگے لیکر جا تا ہے ایک ہی جگہ کھڑا نہیں رکھتا یہ ممکن نہیں کوئی امیر کسی غریب کی غر بت ختم کر دے اس لئے جب تک ہم اپنے لئے خو د سے کچھ نہیں کرینگے تو اپنے غربت ختم نہیں کر سکے گے۔

س۔ بحیثیت سما جی کا ر کن نو جوانو ں کو کیا پیغام دینا چاہو گے؟ 
ج۔ میرے خیا ل سے سما جی ہمدر دی کا جذبہ ہر انسا ن میں مو جو د ہوتا ہے ہمیں اس کا صحیح وقت پر احساس نہیں ہوتا سب ہی انسا ن ایک دوسرے کی مدد کر نا چا ہتے ہیں لیکن اکثر ہم سو چتے ہیں ہمارے پا س بہت سارے پیسے ہونگے تب مدد کرینگے جیسے کہ 10,00000/- ہونگے تو ایک لا کھ غریبو ں پر خر چ کرینگے مگر ایسا نہیں سو چنا چا ہیے ہم چند پیسو ں سے بھی کسی کی مدد کر سکتے ہیں تو اس لئے نو جو ا نو ں کو یہی پیغام دینا چا ہتا ہوں کہ اردگر د مو جو د متاثر ہ لو گو ں کی مدد کرو کیو نکہ کسی کی مدد کر نا بھی عبا دت ہے ۔ 

Monday, 9 April 2018

Ahtisham Shoukat Profile MA





نام: محمد احتشام شوکت
کلاس: MA Previous
رول نمبر: MMC2K18-21
پروفائل: راشد شکور

بے زبان نوجوان ہمت اور حوصلہ کی مثال
اگر بات کی جائے محرومی کی جو انسان کے بس میں نہیں اﷲ کی طرف دی ہوئی ہوتی ہے لیکن ہمیں مایوس نہیں ہوناچاہیے اور اﷲ کے ہر فیصلہ پر شکر ادا کرنا چاہیے کیونہ جب اﷲ اپنی ایک رحمت سے مایوس کرتا ہے تو بدلے میں ہمیں (10) دس رحمتیں عطا کر تا ہے۔
راشد شکور 44 سالہ نوجوان جو اپنی مثال اپ ہے یہ نوجوان حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد 11 نمبرمیں رہائش پذیر ہے ۔پیدائشی گونگا بہرہ ہے لیکن اس شخص نے کبھی اپنی محرومی کو مجبوری نہیں بنائی بلکہ ہمت بنائی بچپن ہی سے بہت محنتی اور حوصلہ مند رہا اور 15 برس کی عمر سے کمانا شروع کر دیا۔ 14 سال تک حیدرآباد ٹاور مارکیٹ میں ٹرک لوڈنگ کی مزدوری کی وہاں سے مزدوری کے کے کچھ پیسے جمع کر کے ایک Suzuki خریدی اور Suzuki ڈرائیور کا پیشہ اپنالیا اور کئی بار راشد شکور کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آئے۔
2010 میں کراچی ہائی وے پر Accident پیش آیا جس میں راشد شکور بہت شدید زخمی ہوا اور گونگا بہرہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگوں کو کچھ نہیں بتا سکا جو اسکی مدد کو آئے تھے وہ لوگ بار بار اسکے گھر اور رشتے داروں کا پتہ کر رہے تھے آخر کسی نہ کسی طرح سے تفتیشی آفیسر کی محنت سے دو دن کے بعد اسکا گھر کا پتہ لگا ہی لیا اور اسے گھر پہنچا دیا۔
کچھ دنوں بعد جیسے ہی راشد شکور صحتیاب ہوا اور پھر اپنے روزگار کے لیے جانے لگا لیکن اس حادثہ کے بعد راشد شکور نے اپنے پاس موبائل فون رکھنا شروع کر دیا۔ لوگ اس کے پاس موبائل فون دیکھ کر حیرت میں آجاتے ہیں کہ گونگا بہرہ فون پر کیسے بات کرے گا ؟ نو اس نوجوان نے اسکا بھی حل نکال رکھا ہیجب اس کے پاس کسی شخص کی کال آتی ہے تو وہ اپنے قریبی ساتھی یا دوست سے بات کروا دیتا ہے اور اسکا دوست اسکی زبان میں اسے سمجھا دیتا ہے اس طرح راشد شکور کو ایک نام ور ڈرائیور کی مقبولیت مل گئی جو اب پورے لطیف آباد میں راشد گونگا ڈرائیور کے نام سے جانا جاتا ہے ۔جدید ٹیکنانوجی کی وجہ سے اب راشد شکور کی ذیادہ تر بکنگ موبائل فون پر آتی ہے لیکن اس شخص نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور ہر مشکل وقت نے اسے مزید حوصلہ مند بنایا۔
راشد شکور کی پانچ بیٹیاں ہیں جس کی کفالت وہ خود محنت مزدوری کر کے کرتا ہے" اس نوجوان کا کہنا ہے کہ اﷲ کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاؤ" راشد شکور کی طرح اسکے بیوی اور بچے بھی بہت صبر اور شکر کرنے والوں میں سے ہیں اور اگر کبھی کسی مجبوری کے تحت گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تو یہ کسی سے بھیگ مانگنے کے بجائے بھوکے سو جانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔اس گونگے اور بہرے نوجوان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کوئی امیر شخص ایک غریب کی غربت ختم کردے یہ ممکن نہیں کیونکہ انسان خود ہی محنت کر کے اپنی غربت ختم کر سکتا ہے کیونکہ محنت میں عظمت ہے ۔


Saturday, 3 March 2018

Ahtisham Shoukat Feature Urdu MA

Not reporting based
فیچر : محمد احتشام شو کت
M.A Prev MMC/21/2K18
اچھڑو تھر کے دلفریب منا ظر 
دنیا کے خو بصو ر ت اور دلفریب مکا ما ت کی طر ح سند ھ میں مو جو د دلکش نظارے جنہیں دیکھنے سے دل نہیں بھر تا ۔سند ھ میں ایک ایسا علا قہ مو جو د ہے جو دنیا میں بینظیر مکا م رکھتا ہے مگر کچھ عام اور خا ص پاکستانی اس کی خو بصو ر تی سے شا ید ہی واقف ہو ں ۔ اس علا قے کی کئی خصو صیا ت ہیں ۔ خو بصور ت آسما ن ،چھو ٹے مٹی کے پہا ڑ ان پہا ڑو ں کے در میان ایک نمک کی چھیل کے پر کشش منظر اور ایک میٹھے پا نی کی جھیل ، اس جھیل میں قدرت کی طر ف سے بے شما ر مچھلیا ں مو جو د ہیں ۔ خاص کر سیا ہو ں کا رات کے وقت بسیرہ دیکھا جا تا ہے ۔ کیو نکہ اچھڑو تھر کی رات ایک خا ص اور اعلیٰ مقا م رکھتی ہے ۔ اس کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اور پر سکو ن ما حو ل جو آنے والے سیا ہو ں کے دلو ں کو چھو تی
ہیں ۔ تا کہ وہ لو گ کبھی اس خوبصو ر ت لمحات کو نہ بھلاسکیں ۔ 
تحصیل کھپرو ضلع سانگھڑ کے علا قے اچھڑو تھر جو سیاحت کے لحا ظ سے دلفریب اور پر کشش منظر پیش کر تا ہے ۔ جسے دور دراز سے لو گ دیکھنے آتے ہیں ۔ اچھڑو تھر کو خدا نے قدر تی منظر سے نوازہ جگہ جگہ ہریالی، بڑے بڑے پہا ڑ نما ٹیلے اور باریشو ں میں ان ٹیلو پر ہریا لی ایک اور منظر پیش کر تی ہے اور ان کے درمیان سے گزرتی ہوئی نمک کی جھیل جو کئی سو سا ل پہلے سے مو جو د ہے ۔ جس میں سے روزانہ نمک نکا ل کر پو رے سند ھ میں بھیجا جا تاہے ۔ لیکن قدر ت کی شا ن دیکھو اس جھیل سے جتنا نمک نکا لا جا ئے ۔ کچھ ہی دنوں میں وہ واپس اپنی سطح پر پہنچ جا تا ہے ۔ بر ف کی چٹا ن کی طر ح نمک چٹا ن ایک دلفریب منظر پیش کر تی ہے نمک کی یہ چٹا ن پانی کے چھ انچ نیچے ہو تی ہے جگہ جگہ نمک کے بنے ہوئے پہا ڑ سیاچن کے بر ف کے پہاڑوں کی طر ح لگتے ہیں ۔ 
یہا ں ایک میٹھے پا نی جھیل اور اس جھیل کو قدر ت کی طر ف سے اس میں بے شما ر مچھلیا ں جو قدرت ک نظا رو ں میں شامل ہیں ۔ یہ حسین جھیل انتہائی خو بصو رت دلفریب منظر پیش کر تی ہے شا م سے رات دیر تک یہا ں سیا ہو ں کو ہجو م لگا رہتا ہے ۔یہاں لو گ رات گزار نا بھی پسند کر تے ہیں ۔ سو رج ڈھلتے ہو ئے اور جھیل کے پانی لہریں ایک دلچسپ منظر پیش کر تیں ہیں ۔آنے والے سیا ہ اس خو بصو ر ت نظا رے کو اپنے کیمر وں میں محفو ظ کر کے اپنے ساتھ لیجا نا چا ہتے ہیں ۔ زند گی کے یا دگار لمحا ت کے طو ر پر رکھتے ہیں یہاں پر مچھلی کے شکا ر کر نے کا بھی بہت الگ مزہ ہے ۔ آنے والے سیا ہ مچھلی کا شکار کر کے لطف اندوز ہو تے نظر آتے ہیں اور سا تھ ہی جھیل کے کنا رے مچھلی کو بڑے محنت سے تلتے ہو ئے اور وہیں کھانے کے مزے لوٹتے ہیں ۔ان مچھلیا ں کے زائقے میں ایک الگ خا صیت ہے جو شا ید ہی کسی اور در یا یا پھر جھیل کی مچھلیو ں میں ہو ۔ میں ان نظا رو ں کا زاتی شاہد ہو ں ۔ جب بھی کو ئی مجھ سے سند ھ کے پر فضا ء مکامات کے بارے میں بات کر تا ہے تو میں اچھڑو تھر کے خو بصور ت اور دلکش مناظرو ں کو ذکر ضرور کر تا ہو ں ۔یہ قدرت کا سندھ کے لو گو ں کے لئے ایک خا ص تحفہ ہے ۔ تھر اور تھر کے باسیو ں کی زند گی شہر کے لو گو ں سے مختلف ہو تی ہے ۔ وہاں کاپر سکو ن ما حو ل ہے نہ کوئی گاڑیو ں کاشور اور نہ ہی ما حو لیا تی آلو د گی ۔ تھر کی پر فضا ء ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں انسا ن کو زہنی سکو ن مہیا کر تی ہے ۔ مٹی کے بنے ہوئے گھر جو شیشے طر ح چمکتے ہیں اور لکڑی کی خو بصو رت جھونپڑیا ں جو سند
ھ کی ثقافت میں اعلیٰ مقا م رکھتی ہیں ۔

لیکن اس خوبصو ر ت مقا م کو حکو مت کی توجہ کی انتہائی ضرورت ہے حکو ت کو چا ہیے کے یہاں ایسی سہو لیا ت فراہم کرے جس سے یہ نہ صر ف ملک کے سیا ہو ں کو اپنی جا نب کھنچے بلکہ غیر ملکہ سیا ہو ں کی بھی توجہ کو مر کز بن سکے ۔ 

Saturday, 17 February 2018

Ahtisham Shoukat MA article

Should have make more paragraphing. paragraphs.
Population and area of Latifabad
File name and subject line not correct


محمد احتشام شوکت 

ایم اے 2K18-

آرٹیکل
لطیف آباد میں کھیلوں کی سر گرمیوں میں فقدان
دنیا بھر میں عوام کو حکومت کی جانب سے مختلف سہولیات فراہم کے جاتی ہیں ان میں سیرو تفریح اور کھیل کود کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں جس کے لیے مختلف علاقوں میں گراؤنڈ کی تعمیر بھی کی جاتی ہے تاکہ زہنی نشو نما کے ساتھ ساتھ جسمانی نشونما کا بھی خیال رکھا جا سکے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں کچھ زیادہ کھیلوں کا رجھان دیکھا جاتا ہے لطیف آباد میںآٹھ گراؤنڈ ہیں لیکن دیکھا جائے تو یہاں کے گراؤنڈ آہستہ آہستہ اپنی رونقیں کھوتے جارہے ہیں۔ ان میں سے صرف دو ایسے گراؤنڈ ہیں جہاں کھیلوں کی سرگرمیوں کا با قاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے جبکہ 6 گراؤنڈ شادی بیاہ اور سیاسی تقریبات کی زینت بن گئے ہیں۔لطیف آباد نمبر 8 میں واقع اکبری گراؤنڈ سیاسی تصویر شاعری اور پارٹی کے پرچموں سے سجا ہوا ہے ۔ حال ہی میں ایک سیاسی پارٹی نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اس جلسے میں لاکھوں روپے خرچ کئے یہاں تک کہ ارد گرد کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی قسمت کھلی راتوں رات ان سڑکو ں کی مرمت کی گئی جو ایک عرصہ سے بدحالی کا شکار تھی علمیہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے گراؤنڈ تعمیر کر دیے جاتے ہیں لیکن اس کی صفائی صتھرائی سے حکومکت اور حکومت کے نمائندے قاصر ہیں ۔
ان تمام گراؤنڈ میں سے اگر سب سے اچھا گراؤنڈ کی بات کی جائے تو وہ لطیف آباد نمبر 10کا افضال شاہ گراؤنڈ ہے جو کہ کئی سالوں پہلے حکومت کی جانب سے بنایا گیا ۔لیکن اب یہ بھی کمائی کے دھندے سے پاک نہ رہ سکا 2010 سے پہلے یہ ہر چھوٹے بڑے شہری کے لیے بلا ومعفزہ کھلا ہوا تھا دور دراز سے مختلف کرکٹ ٹیمیں میچ کھیلنے آیا کرتی تھیں اور خاس کر چھوٹے بچوں کی بہت گہما گہمی دکھائی دیتی تھی بغیر کسی کی اجازت کے بچے اپنی گیند اور بیٹ کے ساتھ آتے اور کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہوجاتے لیکن 6 مارچ 2010 کے بعد جب حکومت نے اس کی ازسرِ نو تعمیر کی اس کے بعد ایک بہترین گراؤنڈ کی شکل دی تو یہ عام لوگوں پر بوجھ بن کر ٹوٹا کیونکہ ایک ہزار (1000) فیس مقرر کی گئی جو ہر شہری کی پہنچ میں نہ تھی جس کے بعد خاصی آبادی نے اس گراؤنڈ کا رخ کرنا ختم کردیا اور مختلف ٹائمنگ کے مختلف ریٹ رکھ دیے گئے ۔ لوکل میچ کے ایک ہزار (1000) فیس جب کہ اسکول اور کالج والوں کے لیے پانچ ہزار اور سب سے زیادہ ہائی ریٹ پانچ ہزار (5000) اور تین ہزار (3000) روپے فی گھنٹہ فیول کی شکل میں لیا جاتا ہے بجلی کے ادم ادائیگی کی وجہ بتائی جاتی ہے جو ایک عام شہری اور بچوں کی پہنچ سے باہر ہے ۔ اب اکثر اوقات بچے گلی کوچوں میں کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں ہر ملک میں کھیلوں کو فروغ دیا جاتا ہے لیکن ہمارے حکمران کی اس جانب کوئی توجہ نہیں ۔لطیف آباد یونٹ نمبر 5میں محبوب گراؤنڈ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں سے معروف کرکٹر شرجیل خان جیسے ٹیلینٹڈکھلاڑی نے پروان چڑھااور کچھ عرصہ پہلے اس گراؤنڈ میں خاسی گہما گہمی نظر آتی تھی ۔لیکن حکومت کی جانب سے اس گراؤنڈ کی ازسرِ نو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور اسکے تعمیراتی کام کی وجہ سے کئی مہینوں سے کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد نہیں کیا جارہا ہے جبکہ پانچ نمبر کے شہریوں نے سڑکوں اور گلیوں کو میدان بنالیا جہاں وہ کرکٹ کھیل کر اپنی جسمانی نشونما کو برقرار رکھ رہے ہیں اور اس طرح دوسرے گراؤنڈ کا بھی یہی حال ہے حکومت کی جانب سے جہاں اسکول اور ہسپتال کو فروغ دیا جاتا ہے وہیں زہنی و جسمانی نشونما کے لیے گراؤنڈ کو توجہ دینی چاہیے جہاں شہری اپنی زہنی و جسمانی نشونما کو پروان چڑھا سکیں یہ شہری حکومت کی زمہ داری ہے کہ ان کا خیال رکھنا حکومت کا فرض ہے نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں جس کو برباد ہونے سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ اگر جوجوانوں کو ایسی سرگرمیاں میسر نہیں ہونگی تو ظاہر سی بات ہے وہ غلط مشغلوں میں پڑجائیں گے۔ ایک فلوسفر نے کہا ہے جہاں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں اگر یہ بات حکومت کو سمجھ آجائے تو کئی شہری زہنی و جسمانی بیماریوں سے بچ جائیں گے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسی سرگرمیوں کے لیے خاص فنڈ کا اجراء کریں ۔