Tuesday, 10 April 2018

Ahtisham Shoukat Interview MA



محمد احتشا م شو ک 
کلا س M.A (Previous) 2K/18 
رول نمبر 21 # 
انٹر ویو کلیم شیخ 
تعارف :
کلیم شیخ کا تعلق شا ہی بازار حیدر آباد سے ہے وہ ایک کا رو باری شخص ہو نے کے ساتھ ساتھ سما جی کار کن بھی ہے انہو ں نے عبد الستار ایدھی اور رمضا ن چھیپاکی طر ح تو کوئی فلا حی ادارہ تو قا ئم نہیں کیا لیکن اپنے بل بو طے پر بہت سے متاثر ہ لو گو ں کی مدد کر تے ہیں ضرورتمندو ں کی ضرو رت کے وقت ایک مسیحا بن کر ثا بت ہو تے ہیں ۔ 
س۔ آپ سے کا تعلق کہا سے ہے اور ابتدائی تعلیم کہا ں سے حاصل کی ؟ 
ج۔ میرا تعلق شاہی بازار حیدر آباد سے ہے اور میں ابتدائی تعلیم نیو ل اکیڈ می اور انٹر میڈیٹ سند ھ کومر س کا لج سے مکمل کی ۔ 
س۔ آپ کس وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکے ؟ 
ج۔ جب میں نے 1987 میں B.A مکمل کیا تو میرے والد کے ما لی حا لا ت اتنے اچھے نہیں تھے کہ وہ گھر کے اخراجات پو رے کر سکتے اسلئے مجھے فو ری طور پر کا روبار کی ضرو رت تھی تو میں نے اپنے والد کے ساتھ کا م کر نا شرو ع کر دیا اور پڑھائی چھو ڑ نی پڑی ۔ 
س۔ کو نسی شخصیت سے متا ثر ہو کر آپ سما جی کا ر کن بنے؟ 
ج۔ ایک مر تبہ میرے کچھ دوست جو NGOمیں کا م کر تے تھے وہ ایک کا نفر نس میں شمو لیت کے لئے انڈیا جا رہے تھے تو میں نے بھی گھو منے کے ارادہ سے انکے ساتھ چلا گیا کانفر نس میں مو جو دلو گ اور انکی سماجی خد ما ت دیکھ کر میں بہت متاثر ہو ا اور میرے دل میں بھی سما جی خد ما ت کا جذبہ پیدا ہو ا۔ 
س۔ آپ نے اپنی سما جی زند گی کی شرو عا ت کہا ں سے کی ؟ 
ج۔ 2005 میں انڈیا کا نفر نس میں شر کت کے بعد واپس آکر میں نے اپنے دوستو ں کے ساتھ جڑارہا اور جاننے کی کو شش کی کہ وہ متاثر ہ لو گو ں کی مدد میں اپنی خد ما ت کو کیسے سرا نجا م دیتے ہیں ۔ یہ جا ننے کے بعد میں نے بھی سو چا جب میرے پا س کچھ پیسے ہے تو کیو ں نہ میں تھو ڑا وقت نکا ل کر میں بھی لو گو ں کی مدد کرو۔ 
س ۔ آپ نے کن کن ادروں کے ساتھ مل کر کا م کیا ؟ 
ج ۔ مختلف ادارو ں کے ساتھ کا م کیا اور شیڈول کا سٹ کمیو نٹی کے ساتھ بھی کا م کیا ور اس وقت شاہی بازار حید آباد کے سما جی کا رکنو ں کے ایک گرو پ کے ساتھ مل کر کا م کررہا ہو ں ۔ 
س ۔ کیا آپ کا مستقل میں کو ئی ادارہ قائم کر نے کا ارادہ ہے ؟
ج۔ فلحا ل تو ایسا کوئی اردہ نہیں ہے کیو نکہ ماضی میں ہم نے ایک ادارہ قائم کیا تھا People Developed Foundation کے نا م سے جو Society میں بھی رجسٹر ڈ تھا جو بند کر نا پڑا ۔ 
س۔ کیا وجہ تھی آپ کو ادارہ بندکر نا پڑا ؟ 
ج۔ ادارہ بند کر نے کی سب سے بڑی وجہ پیسو کی کمی اور جیسے آفس بریئر کے اخرا جا ت پو رے کر نے مین جو رقم چا ہی ہو تی ہے وہ ہماری پا س کم تھی تو ادارے کے اخرا جا ت پو رے نہیں ہو سک رہے تھے اسلئے ہم نے سو جا ادارے کو بند کیا جا ئے اور آفس بریئر کے اخراجا ت بچا کر یہ پیسے کیو ں نہ متا ثر ہ لو گو ں کی مدد پر لگا ئے جائے اور گرو پ کی شکل میں کا م کرکے ۔ 
س۔ آپ نے اس ادارے کے ما تحت آخری کام کب کیا ؟ 
ج۔ 2010 میں جب سند ھ میں سیلا ب آیا تھا تو بہت سے سیلا ب زدگان مختلف جگا ہوں سے آکر حیدر آباد میں نیو سبزی منڈی کے قریب خیمے بستی بنا کر بیٹھے تھے ان لو گو ں کی ضرو رت کی تما م اشیا ء مہیا کی جیسے کہ کھا نا ، دو دھ ، لکھڑیا ں وغیر ہ جو کہ بنیا د ی ضرورت تھی ۔ 

س ۔ آپ نے مختلف اداروں اور لو گو ں کے ساتھ کا م کیا لیکن کن لو گو ں ے سا تھ مل کر کا م کر نے میں زیا دہ خو شی محسو س ہو ئی ۔ 
ج ۔ ب مجھے شیڈول کا سٹ کمیو نٹی کے ساتھ کا م کر نے کے مو قع ملا تو مجھے حقیقتاََ انکے ساتھ کا م کر کے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور مجھے بہت مزا آیااور انکے ساتھ خد ما ت انجا م دینے میں جو خو شی محسو س ہو ئی شاید ہی میں انہیں اپنے لفظو میں بیا ن کر سکو ں ۔
س۔ لو گو کے مسائل حل کر نے میں کن مشکلا ت کا سا ما کر نا پڑھتا ہے ؟ 
ج۔ بنیا دی طو ر پر جن مسائل کا سا منا کر نا پڑھتا ہے وہ یہ ہے کہ مثال کے طو رپر ہمارے پا س پانچ افرادایسے ہیں جن کے مسا ئل حل کر نا ہے تو ان پا نچ میں سے کسی ایک سے شروع کر تے ہیں تو باقی کے چار لو گ محسو س کر تے ہیں کہ وہ ایک ہمارے قریب ہے تو اس لئے ہم نے پہلے اسکی مدد کر نا شرو ع کی اور بد قسمتی سے وہ شخص بھی خو د معتبرسمجھنے لگتا اور باقی لو گو ں کے ساتھ غیر اخلا قی رویہ کے سا تھ پیس آتا یہ بہت عجیب تاثر دیکھنے کو ملتا ہے جسے ختم کر نا بہت مشکل ہو تا ہے ۔ 
س۔ پاکستا ن کی بڑھتی ہو ئی غر بت پر آپ کے کیا خیا لا ت ہے ؟
ج۔ ہر شخص کا اپنا نظریہ ہے کو ئی کہتا ہے کہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے غر بت بڑھ رہے ہے لیکن میرا پنا نظریہ اور ذاتی تجر بہ ہے کہ نئی نسل خو د سے پیا ر کر نا اور خوا ب دیکھنا چھو ڑ دیائے ہے اور اپنے ارادہ میں پختگی نہیں رکھتے یہ بڑھتی ہوئی غر بت کا ایک بڑا سبب ہے ۔ 
س ۔ آپ کے نظریہ میں غر بت کا خا تمہ کیسے ممکن ہے ؟ 
ج۔ ہمیں اپنے پیرو ں پر کھڑے ہو نے کی کو شش کر نی چا ہیے اور ارادے میں مضبو طی ہو نی چا ہیے کیونکہ ارادے کی ایک بڑی اہمیت ہے اور ارادہ ہمیں ضرو ر آگے لیکر جا تا ہے ایک ہی جگہ کھڑا نہیں رکھتا یہ ممکن نہیں کوئی امیر کسی غریب کی غر بت ختم کر دے اس لئے جب تک ہم اپنے لئے خو د سے کچھ نہیں کرینگے تو اپنے غربت ختم نہیں کر سکے گے۔

س۔ بحیثیت سما جی کا ر کن نو جوانو ں کو کیا پیغام دینا چاہو گے؟ 
ج۔ میرے خیا ل سے سما جی ہمدر دی کا جذبہ ہر انسا ن میں مو جو د ہوتا ہے ہمیں اس کا صحیح وقت پر احساس نہیں ہوتا سب ہی انسا ن ایک دوسرے کی مدد کر نا چا ہتے ہیں لیکن اکثر ہم سو چتے ہیں ہمارے پا س بہت سارے پیسے ہونگے تب مدد کرینگے جیسے کہ 10,00000/- ہونگے تو ایک لا کھ غریبو ں پر خر چ کرینگے مگر ایسا نہیں سو چنا چا ہیے ہم چند پیسو ں سے بھی کسی کی مدد کر سکتے ہیں تو اس لئے نو جو ا نو ں کو یہی پیغام دینا چا ہتا ہوں کہ اردگر د مو جو د متاثر ہ لو گو ں کی مدد کرو کیو نکہ کسی کی مدد کر نا بھی عبا دت ہے ۔ 

No comments:

Post a Comment