Saturday, 14 April 2018

Munawar Feature BS


تحریر: منور خان
رول نمبر: 2k16/MC/72
کلاس: بی ایس پارٹ3

فیچر:
سینی موش 3D سنیما ہاس
انٹرٹینمنٹ انسانی زندگی کا لازمی مشغلہ ہے۔ انسان کی زندگی جب مشکل حالات، مصائب اور پریشانی سے دوچار ہوتی ہے تو اس کا سامنا کرنے کے لئے اس کے پاس مضباط اعصاب کا ہونا بہت لازمی ہے اور انٹرٹینمنٹ اعصاب کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ انٹرٹینمنٹ کی بہت ساری اقسام ہیں جن میں سنیما گھر بھی انٹرٹینمنٹ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
1947 کی جنگِ آزادی کے بعد لاہور پاکستان کے سنیما گھروں کا مرکز تھا۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کی تاریخ کی سب سے پہلی فلم تیری یاداں ہے جو کہ لاہور کے بربت تھیٹر میں ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان فلم انڈسٹری نے عروج حاصل کرنا شروع کردیا اور پاکستان میں سنیما گھروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔ آج پاکستان کے تقریبا ہر شہر میں سنیما گھر موجود ہیں جہاں پر لوگ فلم دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان کے شہر حیدرآباد میں بھی کافی سنیما گھر موجود ہیں جن میں سب سے نمایاں مقام سینی موش 3Dسنیما ہاس کو حاصل ہے۔ یہ حیدرآباد کا سب سے پہلا 3D سنیما ہاس ہے جو کہ پر کشش آٹو بھان روڈ پر واقع ہے۔ شہر حیدرآباد میں کافی سنیما گھر ہیں مگر سینی موش سنیما گھر کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر ہالی وڈ، بالی وڈ اور لالی وڈ کی نت نئی فلم سب سے پہلے سینی موش میں ہی دکھائی جاتی ہیں۔ سینی موش دوسرے سنیما گھروں سے اس لئے نمایاں ہے کیوں کہ یہاں کو ماحول اچھے معیار کا ہے۔ یہاں نہ صرف امیر گھرانے کے لوگ فلم دیکھنے جاتے ہیں بلکہ مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ سینی موش میں تین قسم کے ٹکٹ فراہم کیے جاتے ہیں جن میں سب سے نچلے درجے کی ٹکٹ سلور ، اسکے بعد گولڈ اور سب سے نمایاں پلاٹیننیم ہوتی ہے اور ان ٹکٹ پر ان کے رنگ اور درجے کے حساب سے الگ الگ ریٹ پر فروخت کیے جاتے ہیں جب کہ اسکول، کالجز اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے لئے خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے طالبِ علموں کی خاص تعداد سینی موش کا رخ کرتے ہیں۔
سنیما ہاس میں فلم دیکھنے کی خاص وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو بھی نئی فلم ریلیز ہوتی ہے اس کا ایچ ڈی پرنٹ صرف سنیما گھروں میں ہی دستیاب ہوتا ہے اسی لئے ہر رنگ و نسل اور ذات پات کے لوگ بلا کسی تفریق کے ساتھ بیٹھ کر فلم کو دیکھ کر محظوظ ہوتیہیں۔

No comments:

Post a Comment