تحریر: راؤ حسنین
رول نمبر: 2K16/MC/84
( بی ایس پارٹ : 237237237 )
پروفائل:
کوٹری کے چھوٹے گاؤں کا جیالا (کامریڈ دین محمد خاصخیلی)
رول نمبر: 2K16/MC/84
( بی ایس پارٹ : 237237237 )
پروفائل:
کوٹری کے چھوٹے گاؤں کا جیالا (کامریڈ دین محمد خاصخیلی)
اگر تاریخ کا مطالعہ کِیا جائے تو دورِ ازل سے ہی شہرت حاصل کرنے کی لگن ابنِ آدم کی فطرت میں ہے، پھر چاہے یہ شہرت حاصل کرنے کے لئے اسے کتنے ہی جتن کیوں نا کرنا پڑیں۔ ایسے لوگوں کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں نام سے جانے جائیں اور علاقے کی عوام ان کی عزت کرے۔
د ین محمد خاصخیلی پچھلے 35 سالوں سے ہر سال گڑھی خدا بخش جاتا ہے جہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو اور شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو دفن ہیں۔ اب اسے دین محمد کا شوق کہا جائے یا پھر بھٹو خاندان سے عقیدت دونوں ہی قابلِ قبول ہیں۔
آپ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آرہا ہوگا کہ بی بی کے مزار پر سندھ بھر بلکہ پورے پاکستان سے جیالے آتے ہیں تو دین محمد میں کیا خاص ہے تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ دین محمد خاصخیلی پچھلے 35سالوں اپنی ایک بوسیدہ سی سائیکل پر جامشورو سے لاڑکانہ کا سفر کرتا ہے یہ چیز کامریڈ دین محمد خاصخیلی کو دیگر جیالوں سے ممتاز بناتی ہے۔
دین محمد خاصخیلی کی پیدائش تھانہ بھولا خان کے ایک غریب گھرانے میں سن 1953 میں ہوئی۔دین محمد چار بہنوں کا اِکلوتا بھائی ہے۔ کم عمری میں ہی والدین کا سایہ رحمت سر سے اُٹھنے کے سبب دین محمد پڑھ نہ سکا۔ وسائل کم ہونے کے سبب دین محمد نے اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنی چار بہنوں سمیت اپنی سائیکل اُٹھا کر کوٹری کے ایک گاؤں قادن شورو گوٹھ میں آبسا۔ کوٹری میں آنے کے بعد دین محمد نے ایک گھانس کاٹنے والی مشین لی اور پیپلز پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے باغیچے میں بہت ہی کم اُجرت پر کام کرنے لگا۔ یہ سن 1975 کی بات ہے جب دین محمد نے مزدوری شروع کی ، پیپلز پارٹی کے عہدیدار کے گھر کام کرنے کی وجہ سے اِسے پارٹی سے متعلق خبریں ملتی رہتی تھی اور دین محمد پارٹی کا باتوں میں کافی دلچسپی رکھتا تھا۔ کچھ عرصے بعد ہی دین محمد کو ذوالقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر لگ گئی ۔۔ پس اُسی پل اسنے فیصلہ کرلیا کہ کچھ بھی ہوجائے گڑھی خدا بخش جانا ہے، دین محمد کسی کو بتائے بغیر جیب میں 25 روپے لیکر اپنی سائیکل پر نکل پڑا۔دین محمد کی زبانی جامشورو سے لاڑکانہ کا سفر اس نے اپنی سائیکل پر تقریباٌ آٹھ دِنوں میں پورا کیا۔ اندازے کے مطابق یہ سفر تقریباٌ 310 کلومیٹر کا ہے ۔ لاڑکانہ پہنچ کر اس نے ایک مسجد میں قیام کِیا اور اگلے دِن گڑھی خدا بخش کے لئے نکلا وہاں دو دن رُک کر شھید ذولفقار بھٹو کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کر کے واپسی کے لئے نکل پڑا ۔ جب سے لیکر اب تک یہ شخص تقریباٌ 35 بار جامشورو سے لاڑکانہ کا سفر کر چُکا ہے اور اس طویل سفر میں اِسے کوئی پریشانی پیش نہیں آتی۔ دین محمد خاصخیلی کے مطابق پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار بذاتِ خود اس کے گھر آتے ہیں اور اس سے مل کر اسکی بہت عزت افزائی بھی کرتے ہیں۔ اب تک اس جیالے نے پارٹی سے کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کِیا ، دین محمد کا کہنا ہے کہ اِسے بیشتر دفعہ پارٹی کے مقامی عیدیداروں نے موٹر سائیکل کا کہا لیکن یہ شخص کہتا ہے کہ جب اتنے سالوں سے سائیکل پر جاتا ہوں تو باقی زندگی بھی اسی پر جاؤں گا۔
دین محمد کی عمر 72 سال ہو گئی ہے لیکن ابھی تک اس کے حوصلے بلند ہیں اور اسکا کہنا ہے کہ اگر زندگی نے ساتھ دیا تو مزید سفر کرنے کی ہمت ہے اس میں۔دین محمد کے مطابق اس کی زندگی کا بہترین لمحہ وہ تھا کہ جب یہ محترمہ بینظیر بھٹو سے مِلا ۔
میرا یہ تحریر لکھنے کا مقصد معاشرے کے عام لوگوں کی جرأت اور اپنے عزائم پر ڈٹے رہنے کی ہمت اُجاگر کرنا ہے ۔ دین محمد بھی اس بارے میں یہی کہتا ہے کہ اگر آپ کوئی کام کرنے کی ٹھان لو تو اسے ادھورا مت چھوڑو ۔ کیونکہ مایوسی کُفر ہے، خودکُشی حرام ، اورہر حال میں جینا ضروری ۔۔۔
اس کے بالکل برعکس معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نا چاہتے ہوئے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے مخصوص علاقے میں اپنے قول و فعل کی وجہ سے مشہور ہوجاتے ہیں۔ اور یہ لوگ اپنے علاقے میں مقبولیت حاصل کرلیتے ہیں۔
بالکل اسی طرح کوٹری ضلع جامشورو کے ایک چھوٹے گاؤں کا رہائشی دین محمد خاصخیلی بھی ہے۔ جو ناں تو ایم این اے یا پھر ایم پی اے ہے اور نا ں ہی اپنے علاقے کا کونسلر بلکہ یہ شخص ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کا ایک نہایت چھوٹا سا کارکن ہے۔ کسی سیاسی جماعت میں عام طور پر نِچلے طبقے کے عوام یا اپنی پارٹی کے ہی کارکُنان کی ذیادہ عزت افزائی یا پھر اُنہیں اتنی توجہ نہیں دی جاتی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے ہی اپنے جیالوں کو عزت دیتی آئی ہے جس میں ایک نام کامریڈ دین محمد خاصخیلی کا بھی ہے۔د ین محمد خاصخیلی پچھلے 35 سالوں سے ہر سال گڑھی خدا بخش جاتا ہے جہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو اور شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو دفن ہیں۔ اب اسے دین محمد کا شوق کہا جائے یا پھر بھٹو خاندان سے عقیدت دونوں ہی قابلِ قبول ہیں۔
آپ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آرہا ہوگا کہ بی بی کے مزار پر سندھ بھر بلکہ پورے پاکستان سے جیالے آتے ہیں تو دین محمد میں کیا خاص ہے تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ دین محمد خاصخیلی پچھلے 35سالوں اپنی ایک بوسیدہ سی سائیکل پر جامشورو سے لاڑکانہ کا سفر کرتا ہے یہ چیز کامریڈ دین محمد خاصخیلی کو دیگر جیالوں سے ممتاز بناتی ہے۔
دین محمد خاصخیلی کی پیدائش تھانہ بھولا خان کے ایک غریب گھرانے میں سن 1953 میں ہوئی۔دین محمد چار بہنوں کا اِکلوتا بھائی ہے۔ کم عمری میں ہی والدین کا سایہ رحمت سر سے اُٹھنے کے سبب دین محمد پڑھ نہ سکا۔ وسائل کم ہونے کے سبب دین محمد نے اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنی چار بہنوں سمیت اپنی سائیکل اُٹھا کر کوٹری کے ایک گاؤں قادن شورو گوٹھ میں آبسا۔ کوٹری میں آنے کے بعد دین محمد نے ایک گھانس کاٹنے والی مشین لی اور پیپلز پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے باغیچے میں بہت ہی کم اُجرت پر کام کرنے لگا۔ یہ سن 1975 کی بات ہے جب دین محمد نے مزدوری شروع کی ، پیپلز پارٹی کے عہدیدار کے گھر کام کرنے کی وجہ سے اِسے پارٹی سے متعلق خبریں ملتی رہتی تھی اور دین محمد پارٹی کا باتوں میں کافی دلچسپی رکھتا تھا۔ کچھ عرصے بعد ہی دین محمد کو ذوالقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر لگ گئی ۔۔ پس اُسی پل اسنے فیصلہ کرلیا کہ کچھ بھی ہوجائے گڑھی خدا بخش جانا ہے، دین محمد کسی کو بتائے بغیر جیب میں 25 روپے لیکر اپنی سائیکل پر نکل پڑا۔دین محمد کی زبانی جامشورو سے لاڑکانہ کا سفر اس نے اپنی سائیکل پر تقریباٌ آٹھ دِنوں میں پورا کیا۔ اندازے کے مطابق یہ سفر تقریباٌ 310 کلومیٹر کا ہے ۔ لاڑکانہ پہنچ کر اس نے ایک مسجد میں قیام کِیا اور اگلے دِن گڑھی خدا بخش کے لئے نکلا وہاں دو دن رُک کر شھید ذولفقار بھٹو کی قبر پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کر کے واپسی کے لئے نکل پڑا ۔ جب سے لیکر اب تک یہ شخص تقریباٌ 35 بار جامشورو سے لاڑکانہ کا سفر کر چُکا ہے اور اس طویل سفر میں اِسے کوئی پریشانی پیش نہیں آتی۔ دین محمد خاصخیلی کے مطابق پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار بذاتِ خود اس کے گھر آتے ہیں اور اس سے مل کر اسکی بہت عزت افزائی بھی کرتے ہیں۔ اب تک اس جیالے نے پارٹی سے کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کِیا ، دین محمد کا کہنا ہے کہ اِسے بیشتر دفعہ پارٹی کے مقامی عیدیداروں نے موٹر سائیکل کا کہا لیکن یہ شخص کہتا ہے کہ جب اتنے سالوں سے سائیکل پر جاتا ہوں تو باقی زندگی بھی اسی پر جاؤں گا۔
دین محمد کی عمر 72 سال ہو گئی ہے لیکن ابھی تک اس کے حوصلے بلند ہیں اور اسکا کہنا ہے کہ اگر زندگی نے ساتھ دیا تو مزید سفر کرنے کی ہمت ہے اس میں۔دین محمد کے مطابق اس کی زندگی کا بہترین لمحہ وہ تھا کہ جب یہ محترمہ بینظیر بھٹو سے مِلا ۔
میرا یہ تحریر لکھنے کا مقصد معاشرے کے عام لوگوں کی جرأت اور اپنے عزائم پر ڈٹے رہنے کی ہمت اُجاگر کرنا ہے ۔ دین محمد بھی اس بارے میں یہی کہتا ہے کہ اگر آپ کوئی کام کرنے کی ٹھان لو تو اسے ادھورا مت چھوڑو ۔ کیونکہ مایوسی کُفر ہے، خودکُشی حرام ، اورہر حال میں جینا ضروری ۔۔۔
No comments:
Post a Comment