
فاروق کرسی والا
انسان کے بلند حوصلے اسے اس کا مقصد پانے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں اور جب یہ حوصلے بلند ہو ں تو انسان اپنی منزل تک با آسانی پہنچ جاتا ہے ۔ اور یہ کامیابی کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے ۔ یہی حوصلے فاروق میں بھی کی زندگی سے جڑے ہیں ۔ فاروق معذور ہونے کے ناوجود کبھی مایوس نہیں ہوا ۔ فاروق بظاہر معذور ہے لیکں اس کے حوصلے معذور نہیں ہے ۔ دن بھر اپنی مدد آپ کے تحت ویل چیئر کو سہار ا بنا کر گھر کا سار ا کام سرانجام دیتا ہے فاروق اپنی بوڑھی مان کا ایک ہی سہارا ہےْ ۔ حکومت کی جانب سے معذورون کا5 فیصد کوٹہ ہونے کے باوجود فاروق بدقسمتی سے حکومت کی چشم پوشی کے باعث تاحال بے روزگار ہے ۔ اور اپنے بنیادی حق سے محروم ہے ۔ اپنی بوڑھی مان اور بہنون کی کفالت کے لیے فاروق مختلف جگہوں پر کرسی بناتاہے اور ان پیسوں سے گھر کا چولا جلتاہے ۔ فاروق جو کہ ایک معذور فرد ہے لیکں معاشرے کے لیے بوجھ نہیں بننا چاہتا۔ فاروق نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے کیونکہ فاروق ایک خودمختیار انسان ہے اور ہمیشہ قدرت کا شکر ادا کرتاہے کہ اس مالک نے مجھے لاکھوں مفلوج افراد سے بہتر تخلیق کیا خدا نے پیروں سے مفلوج کیا لیکں میرے ان ہاتھوں میں اتنی صلاحیت بیدار کی ہے کہ میں ایک عام آدمی سے ذیادہ اچھاکام کرسکتاہوں ۔
لیکں افسوس اس بات کا ہے ہماری حکومت نے ہم معذور لوگوں کو نظر انداز کیا ہوا ہے ۔ کبھی کبھی یہ آنکھیں بھی ٹپک پڑتی ہے جب میں روزی کمانے میں ناکام ہوجاتاہوں کیونکہ کرسیوں کا کام مجھے کبھی کبھی ملتا ہے ۔لیکن اسے دنوں میں گزر سفر کرنا دشواری کا باعث بنتا ہے ۔ فاروق بھی اس معاشرے کا حصہ ہے اس کے بھی اتنے حقوق ہیں جتنے کے دوسرے معاشرے کے لوگوں کے ہیں ۔فاروق نے مختلف اداروں میں نوکری کے حصول کے لیے درخواستں دی لیکں حکومت کی طرف سے کوئی عملی کاروائی نظر نہیں آئی ۔فاروق کئی دشواریوں اور کٹھنائیوں کا سامنا کرتے ہوئے امید لیکر حکومتی اداروں میں ایک امید کی کرن سے جاتا ہے لیکن بدلے میں مایوسی وصول ہوتی ہے ۔ اور یہ امیدیں صرف ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے ۔
معذور افراد کے ساتھ ہماری حکومت بھی معذور ہوچکی ہے فاروق کئی مرتبہ انٹرویو دینے کے کئی اداروں میں گیا لیکں ان معذور لوگو ں سے عام لوگوں جسیا سلوک کیا جاتا ہے۔انٹرویو کے دوراں معذور افراد کے لیے کسی قسم کاانتظام نہیں کیا جاتاہم اپنی مدد آپ کے تحت کئی کئی منزل اوپر جاتے ہیں جو کہ ایک معذور افراد کے لیے اذیت کا باعث بنتا ہے ۔حکومت نے بائیومٹریک سسٹم کا اغاز تو کیا لیکں اس میں سے بھی معذرو لوگوں کو نظر انداذ کیا کے یہ معذور کس طرح وقت پر پہنچ سکتے ہیں اکثر ہماری ویل چیئر کے ٹائیر پنچر ہوجاتے اور وقت پر کام پر نہیں پہنچ پاتے اور پھر ہماری تنخوائیں کاٹ دی جاتی ہے
ریلوے اسٹیشں ،بس اسٹاپ اور دیگر ٹرانسپورٹس میں معذور افراد کے لیے کوئی سہولت میسر نہیں ہم اپنی جان پر کھیل کر سفر کرتے ہیں اور کبھی بھی کسی بھی حادثے کا شکار ہوسکتے ہیں جبکہ دیکھا جائے تو بیرونی ممالک میں معذوروں کی ایک عام آدمی سے ذیادہ حفاظت کی جاتی ہے لیکں ہمارے ملک میں معذور افراد کو سماجی بوجھ تصور کیا جاتا ہے ۔ ٹرانسپوٹ میں ہم سے معذور ہونے کے باعث زیادہ کرایا لیا جاتاہے معذور ہونا شاہد ہمارے معاشرے میں جرم ہے ۔ لیکں جرم کس بات کا ؟ہم جان بوجھ کر معذور نہیں بنتے ہمیں بھی خدا ہی تخلیق کرتاہے
کئی لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ملک چھوڑکر چلے جاؤ لیکں میں ایک سچا پاکستانی ہو اور کبھی اپنی سرزمین کو دھوکا نہیں دو گا وہ لو گ غدار ہیں جو اس سرزمین کانمک کھا کر اور دوسرے ممالک فرار ہوجاتے ہیں میرا نوجوانو ں سے یہی کہنا ہے کہ چاہے کیسے بھی حالات آجائے لیکن اپنے ملک کو چھوڑکر نہیں جانا ہمیں جینا مرنا اس سرزمین پر ہے اور یہی سرزمیں ہمیں اپبنے اند ر پناہ دے اور ہمیں اس کی ترقی کے لیے کام کرنا ہے ۔اگر ہمیں یہاں ہمارے حقوق نہیں ملتے تو اس کی مذمت کریں کیونکہ یہ ملک ہمارا اور یہاں سے حقوق مانگنا ہمارا بنیادی فرض ہے ۔
No comments:
Post a Comment