Saturday, 14 April 2018

Muhammad Taha Profile BS


نام: محمّد طحہ رول نمبر:(2k16/MC/65) (BS part 3) 

نام: فیصل اطہر 
میجر ٹیم: پاکستان 
بتٹنگ سٹائل: سیدھا ہاتھ
بولنگ سٹائل: دائیں بازو 
عمر: 42 

فیصل اطہر بہترین جدید کرکٹر ہے.فیصل اطہرایک بہادر سٹروک پلیئر ہے وہ بال کو بری ہٹ لگا سکتے ہے، اپنے بازو سے تیز رفتار بولنگ کرا سکتے ہے اور فیصل اطہر میدان میں ایک پرجوس پلیئر کی حیثیت رکتا ہے. یہ پاکستان کی صلاحیتوں کا ایک مجموعہ ہے جو طویل عرصے سے امران خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ملا ہے. عظیم غمن نے انہیں کچھ دیر کی امید دی لیکن اس کے بعد اپنے موجودگی کو کھو دیا اور جلد ہی کرکٹ فیلڈ سے غائب ہوگیا. پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ فیصل اپنے اس کھیل کو اور بہتر کرے اور ملک بھر میں تیز رفتار آل راؤنڈ بولنگ کی حیثیت سے پہچانا جائے.فیصل اطہر لاہور میں 15 اکتوبر 1975 میں پیدا ہوے. ابتدائی تعلیم اسلامیہ کالج لاہور سے حاصل کے. اور اپنی کرکٹ کا آغاز دھرم پورہ کرکٹ کلب سے کیا جہاں پر فیصل اطہر نے 2 سے 3 سال تک کرکٹ کھیلی اور پھر فیصل اطہر حیدرآباد منتکل ہو گئے. حیدرآباد منتکل ہونے کے بعد فیصل اطہر نے غوری کرکٹ کلب سے اپنی کرکٹ کا دوبارہ سے آغاز کیا اور پھر اس کے بعد فرسٹ کلاس میچز میں شاندار کارکردگی کرنے پر چیف سلیکٹر امر سوہیل نے فیصل اطہر کو پاکستان کے لئے سلیکٹ کیا اور نوزیلنڈ کے خلاف سیریز کھیلنے کے لیے روانہ کر دیا اس وقت پاکستان ٹیم میں شعیب اختر' اور رشید لطیف جیسے لیجنڈ پلیئر شامل تھے پہلے دو میچز میں تو فیصل اطہر کو موقع نہیں ملا مگر تری نیشنل سیریز کے فائنل میچ میں فیصل اطہر کو موقع ملا مگر بدقسمتی سے وہ میچ پاکستان کے حق میں نہیں رہا.نوزیلنڈ کا دورہ کرنے کے بعد فیصل اطہر نے انگلینڈ کا دورہ کیا انگلینڈ کے دورے میں انجری کے سبب فیصل اطہر کو پاکستان واپس روانہ ہونا پڑھا.اس کے بعد فیصل نے پاکستان A کے ساتھ ساؤتھ افریقہ کا دورہ کیا.فیصل اطہر نی کافی فارن لیگز بھی کھیل چکے ہی اور انگلینڈ کے کافی کاؤنٹی کے ساتھ بھی منسلک رہے ہی جیسے کے یارکشائر کاؤنٹی کلب 'دربیسھرے کاؤنٹی کلب 'اور لیورپول کاؤنٹی کرکٹ کلب.حالیہ زندگی مے فیصل اطہر نیاز اسٹیڈیم میں کوچنگ کو مینیج کر رہے ہیں.اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ کے اسسنگنمنٹ میں کام کر رہے ہیں.فیصل اطہر پاکستان وومن کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی کوچنگ کے فرائیس بھی سرانجام دی چکے ہیں.اور کراچی کنگ ٹیم کے سلیکشن ٹیم کا بھی حصّہ بن چکے ہیں.اور سندھ یونیورسٹی میں ہونے والی کرکٹ ٹرائل کی ذومیداری بھی فیصل اطہر نے لی تھی.فیصل اطہر کے نکتہ نظر میں حیدرآباد میں سپورٹ کا رجحان کم ہو گیا ہیں کرپشن نے سپورٹس اکیڈمیز کا بدترین حال کر دیا ہیں لکن اسکے باوجود حیدرباد کے نوجوان اپنی محنت اور لگن سے اپنا لوہا منوا ہی لیتے ہیں..

No comments:

Post a Comment