
رول نمبر : 2K16 / MC / 72
کلاس : بی ۔ایس پارٹ ۳
پروفائل :-
ابتسام شیخ
اگر انسان کے حوصلے بلند ہوں اور ارادے نیک ہوں اور خدا پر یقین ہوں تو نا ممکن کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔اس کی جیتی جاگتی مثال حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ابتسام شیخ کی ہے جو کہ حالیہ پی ایس ایل کے ٹھرڈ ایڈیشن میں پشاور زلمی کی نمائندہ گی کررہے ہیں ۔ ابتسام شیخ نے تمام مصائب کا سامنا کیا اور ناممکن کو ممکن کردکھایا ۔
ابتسام شیخ کو بچپن سے ہی کرکٹ سے جنون کی حدتک لگاؤ تھا ۔ ابتسام شیخ کا بچپن عام بچوں سے مختلف رہا ہے نہ انکی شامیں
آوار اگردی میں گزری نا کسی بڑی عادت کا شکار ہوئے ۔چھوٹی عمرسے ہی ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز بس کرکٹ ہی کو اپنا سب کچھ بنالیا۔ اپنے شوق کو پورا کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کیلئے ابتسام شیخ نے ما ما شوکت بلوچ کی اکیڈمی جوائن کری جوکہ سنی کالج میں نیٹ پریکٹس کرتے تھے ۔ایسی وجہ سے ابتسام شیخ نے تعلیم بھی وہیں سے حاصلکی یعنی سٹی کالج اور سیٹھ کمال الدین ہائی اسکول سے ابتسام شیخ نے محنت لگن اورجذبہ سے لیگ اسپن کی پریکٹس شروع کی ابتسام شیخ کا پسند یدہ بولر شین وارن ہے اسی لیے شین وارن کی طر ز پر بالنگ سیکھنا شروع کردی ابتسام شیخ کو کم عمری میں ہی لیگ اسپن بالنگ میں مہارت حاصل ہوگئی ۔ابتسام شیخ نے آفیشل کرکٹ 14سال کی عمر میں U-16ریجن کھیل کرشروع کی ۔
ابتسام شیخ کی اصل کامیابی کا اور اس وقت شروع ہوا جب ابتسام نے U-19ڈسٹرک میں ٹاپ کیا پھر ابتسام شیخ کو اس کی اعلیٰ پر فارمنس کی بدولت نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی طرف سے دیجنل کرکٹ کھیلنے کی آفر ہوئی یہ ابتسام شیخ کے کیر ئیر کیلئے ترننگ پوائنٹ ثابت ہوا ۔ کیونکہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پاکستانی انٹرنیشنل کہ کٹرز کے ساتھ نیٹ پر یلکٹس کرنے کا موقع ملابس سے ان کے موراں میں بے انہتا اضافہ ہوا۔
ابتسام شیخ اوور ایج ہونے کی وجہ سے U-19ورلڈ کپ نہ کھیل سکے بد قسمتی سے مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ ابتسام شیخ نے فیصل آباد کی طرف سے اپنے فرسٹ کلاس میچ کاڈ یو کیا ور اپنی اعلیٰ کارکردگی کی بدولت سلیکٹر ز کی نظروں میں آگئے ۔ اسی لیے ابتسام شیخ کو پی ایس ایل تھری میں پشاور زلمی کیلئے امر جنگ پلیئرنگ میں شامل کرلیا گیا ۔ واضح رہے کہ ابتسام شیخ دوسرے حیدرآباد کے کھلاڑی ہیں ۔
جوپی ایس ایل میں شامل ہوئے ۔ان سے پہلے شرجیل خان کویہ اعزاز حاصل ہو چکا ہے ۔
ابتسام شیخ کی حسن کارکردگی کا سلسلہ ابھی رکا نہیں بلکہ پی ایس ایل میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لو ہا منوا چکے ہیں اور اگر اسی طرح اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا تو اس بات کے قوی امکان ہیں کہ ابتسام شیخ کو جدل ہی پاکستان کی نمائندہ کرنے کا اعزاز حاصل ہوجائے۔
No comments:
Post a Comment