Monday, 16 April 2018

Ahmed Raza Interview MA


انٹر ویو : محمد احمد رضا 
2K18/MMC/20 
M.A (Prev)
پروفیسر ضیا ء الدین شیخ 
پرو فیسر ضیا ء الدین شیخ ۱ جنو ر ی ۱۹۵۴ء کو حیدر آباد میں پیدا ہو ئے ۔آپ کو پڑھنے کا بہت شو ق تھا گھر کے معاشی حا لا ت کی وجہ سے گھر والو ں کے انکا ر کے با وجو د آپ نے ریا ضی(Maths) میں ما سٹر ز کیا اور کمیشن پاس کر کے لیکچررلگے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اب آپ ایک پراؤیٹ کالج میں پڑھا رہے ہیں ۔ 
سوال ۔ آپ نے کس طر ح تعلیم حاصل کی اپنے دور طالب علم کے بارے میں بتائیں ؟ 
جوا ب ۔ میرا تعلیمی دور بہت مشکل تھا اور میرے پا س کتا بیں خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہو تے تھے ۔ اسکول سے سیدھا 1 بجے دکا ن پر جا تا تھا ۔ وہا ں سے ۸ بجے فارغ ہو تاتھا ۔ پھر اپنی جما عت اور دوسری جماعت کے ساتھیو ں کو ٹیو شن پڑھا تا تھا۔ دکا ن سے سے جو پیسے ملتے تھے وہ والد صاحب رکھ لیتے تھے ۔اور جو ٹیو شن پڑھا کر تھو ڑے بہت پیسے آتے تھے وہ اپنے تعلیمی اخرا جا ت پو رے کر نے میں لگا دیتا تھا ۔ میں نے۱۹۷۰ء میں گور نمنٹ ہائی اسکو ل حیدر آبا د سے میٹرک کیا ،یہاں تک کے میری میٹر ک کی امتحا نی فیس بھی میرے دوستو ں نے جمع کر وائی، گور نمنٹ کا لج کا لی مو ری سے پری انجینئرنگ میں انٹر اور گریجو یشن (B.Sc )کیا اور پھر ۱۹۷۶ء میں یو نیو ر سٹی سند ھ سے ریا ضی (Maths)میں ماسٹرز کیا ۔ 
سوال ۔دیگر سبجیکٹ کے بجائے آپ نے ریا ضی(Maths) کو اپنا پیشورانہ سبجیکٹ کیو ں چنا ؟
جوا ب ۔جیسا کہ میں نے آپکو بتا یاکہ میرے گھر کے معا شی حا لات ٹھیک نہیں تھے ۔ تو میں ایک پنساری کی دکان پر کا م کر تاتھا مجھے وہا ں بھی جا نا ہو تا تھااور ریاضی(Maths) وہ سبجیکٹ ہے جس میں تحقیق (پریکٹیکل) نہیں ہوتے تو اس سے میرا وقت بچتا تھا اس لئے میں نے اسے اپنا پیشورانہ سبجیکٹ بنا نے کا فیصلہ کیا ۔ 
سوال ۔ آپ کا بچپن کیسا تھا اور آپ بچپن میں کیا بننے کی خوا ہش کر تے تھے ؟
جوا ب ۔ جس عمر میں بچے کھیلتے کو د تے ہیں اس عمر میں میں ایک دکا ن پر کا م کر تا تھا ۔ پڑھائی کو بہت شو ق تھا مگر والد صا حب کہتے تھے (کما کر لا کر دو پڑھا ئی کو چھو ڑ دو)۔ والد صاحب کی بلا وجہ کی مار پیٹ رو ک ٹو ک اور سختی کی وجہ سے سارے شوق مر گئے تھے بس پیسے کما نے کی خوا ہش رکھتے تھے ۔ پر اس دور کے لحاظ سے والد صاحب صحیح تھے کیونکہ آج کے دو ر میں اور اس دور میں بہت فر ق ہے۔
سوال ۔آپ کتنا عرصہ تعلیمی پیشے سے وابستہ رہے ہیں؟
جوا ب ۔میں ۲ فر وری ۱۹۷۷ء کو گورنمنٹ نو ر محمد ہائی اسکول حیدر آباد میں ریا ضی (Maths) کو ٹیچر لگا اور وہیں پڑھا یا کر تا تھا ۔پھر ۱۹۸۱ء میں کمیشن کا امتحا ن پا س کیا اور ۸مئی ۱۹۸۲ء کو گور نمنٹ کا لج آف ٹیکنولو جی حیدر آباد میں ریا ضی (Maths) کا لیکچرر لگا ۔اور پھر وہیں سے پرو فیسر ریٹائرڈ ہو ا۔ 
سوال ۔ آپ کے کتنے بچے ہیں اور وہ کیا کر تے ہیں ؟
جوا ب ۔ میرے ۵ بچے ہیں چا ر بیٹیا ں اور ایک بیٹا ۔بیٹا انجینئر ہے اور دو بیٹیا ں شادی شدہ ہیں اور ایک بیٹی پرائیویٹ اسکو ل میں پڑھا تی ہے اور دوسری پرا ئیویٹ کمپنی میں کام کر تی ہے ۔ 
سوال ۔ریٹائر منٹ کے بعد آپ کی کیا مصروفیا ت ہیں؟
جوا ب ۔زیا دہ تر گھر میں ہی رہتا ہو ں ۔صبح ایک پرا ئیو یٹ کالج (دی سپریریئر کالج آف سائینس ) میں کلا س لینے جا تا ہو ں اور شا م میں ٹیوشن پڑھا تا ہو ں ۔
سوال ۔تعلیم کے نا م پر جو کا رو بار کیا جارہا ہے اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
جوا ب ۔اصل میں ہمارے معا شرے میں یہ جو معا شی دوڑ چل پڑی ہے اب اس میں تعلیم بھی شامل ہے کیونکہ تعلیم بھی اب بکنے والی شہ ہو گئی ہے اسکو ل کھل رہے ہیں پر ان میں تعلیم کا معیا ر نہیں ہے سلیبس (Syllabus) غیر ضروری ہے ۔ جنہیں پڑھنے سے انسا ن کی ذہانت بڑھنے کی بجا ئے اور کم ہو تی ہے اور استاتذہ بھی غیر معیا ری ہیں۔گور نمنٹ پرائمری اسکو ل کا تو بہت برا حال ہے وہا ں سفارش پر ایسے استا د لگائے جا رہے ہیں ۔ جنہیں اپنا نا م تک نہیں لکھنا آتا تو وہ تعلیم کیا دینگے اس لئے استاتذہ کی غیرحاضریاں ہوتی ہیں ۔ 
سوال ۔تعلیمی ادارو ں میں پڑھنے والے طالب علم اور نو جوا نو ں کے لئے آپ کاکیا پیغا م ہے ؟
جوا ب ۔تما م طالب علمو ں کا چا ہیے کہ زیا دہ سے زیا دہ تعلیم حاصل کریں اور اپنی تعلیمی استطاعت کو بڑھائیں محنت کریں کیو نکہ محنت کبھی ناکام نہیں ہو تی کا میا بی ضرو ر ملتی ہے۔ آپس میں اتحا داور اتفا ق اور بھا ئی چارے سے رہیں ۔ آپنے ما ں با پ ، بہن بھائی اور ہر انسا ن سے وفا کریں ۔

No comments:

Post a Comment