نام : عمیر احمد مضمون : پروفائل
کلاس : بی ایس پارٹ 3 رول نمبر : 2k16/MC/110
عمران بروحی
ہر انسان کا دنیا میں آنے کا ایک مقصد ہوتا ہے اگر انسان اپنے اٌس مقصد کو پہچانے ذور محنت کرے تو یہی مقصد مستقبل میں اس کی کامیابی کی پہچان بن جاتا ہے۔ہر شخص کو دنیا میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی کامیابی اٗن چند لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو اسے حاصل کرنے کے لیے دن رات جدوجہد کرتے ہیں بنا کسی چیز کی پروا کیے انہیں بس اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا جنون ہوتا ہے۔ہر شخص کسی نہ کسی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے،ضرورت ہے تو اس صلاحیت کو پہچاننے کی،لوگ اپنے اندر چھپی صلاحیت کو جان کر اپنے مقصد کی جانب رواں دواں ہو جاتے ہیں ایسی دنیا میں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
عمران بروحی 1 اکتوبر 1963 کو پاکستان کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ عمران بروحی نے اپنی کرکٹ کا آغاز ساو?تھ زون کی جانب سے 1982۔1981 میں کیاجس میں انہوں نے ولس کپ میں تین میچ کھیلے۔یہ واحد میچ تھا جس میں ساؤتھ زون کی خصوصیات دیکھی گئی۔ عمران بروحی نے دائں ہاتھ سے بلے بازی کرتے ہوئے کراچی کے خلاف کوئی رن اسکور نہیں کر سکے تھے۔ دوسرے میچ میں انہوں نے تیرا رن بنائے جبکہ تیسرے میچ میں یہ کوئی رن نہ بنا سکے۔
عمران بروحی نے 1984 تک کسی اونچی سطح پر میچ میں حصہ نہیں لیا۔ عمران بروحی اپنی کارکردگی سے بہت مایوس تھے وہ جانتے تھے کہ ان خامیوں کے ساتھ آگے نہیں بڑھا جا سکتا لہٰذا انہوں نے اپنی خامیوں پر غور کیا اور 1985 میں حیدرآباد کی طرف سے ایک روزا ٹورنامنٹ پریزیڈینٹ ٹرافی کے نام سے کوئٹہ کے خلاف کھیلا گیا جس میں عمران بروحی 40 رن بنا کر سرِ فہرست رہے۔
اپنی اس محنت کو جاری رکھتے ہوئے عمران بروحی 1990 میں ملاوی چلے گئے جہاں انہوں نے 1994 اور 1997 آیؑ ۔سی۔سی ٹرافی میں ایسٹ اور سینٹرل افریقہ کیلئے کارکردگی پیش کی۔اس ٹرافی کا انعقاد کینیا میں کیا گیا تھا جس میں ساٹھ مختلف ملکوں کی ٹیم شامل تھیں۔ سنگاپور کے خلاف کھیلتے ہوئے عمران بروحی نے اپنی زندگی کے سب سے زیادہ 141 رن بنائے۔ان کی اس محنت نے ہی ایسٹ اور سینٹرل افریقہ کو ٹورنامنٹ کی پہلی جیت سے ہم کنار کیا۔
عمران بروحی 1994 کے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رن بنا کر دوسرے نمبر پر رہے۔ 33 سال کی عمر میں عمران 1997 آئی۔سی۔سی ٹرافی کے لیے ایسٹ اور سینٹرل افریقہ کے کپتان منتخب ہوئے۔ اس ٹرافی کا انعقاد ملیشیا میں کیا گیا تھا۔
عمران بروحی اب عمر کے 54 ویں حصہ میں داخل ہو چکے ہیں اور انہوں نے کرکٹ کی دنیا کو چھوڑ کر اپنی زندگی میں مصروفیات اختیار کر لی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ آباد رکھیں۔
کلاس : بی ایس پارٹ 3 رول نمبر : 2k16/MC/110
عمران بروحی
ہر انسان کا دنیا میں آنے کا ایک مقصد ہوتا ہے اگر انسان اپنے اٌس مقصد کو پہچانے ذور محنت کرے تو یہی مقصد مستقبل میں اس کی کامیابی کی پہچان بن جاتا ہے۔ہر شخص کو دنیا میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی کامیابی اٗن چند لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو اسے حاصل کرنے کے لیے دن رات جدوجہد کرتے ہیں بنا کسی چیز کی پروا کیے انہیں بس اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا جنون ہوتا ہے۔ہر شخص کسی نہ کسی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے،ضرورت ہے تو اس صلاحیت کو پہچاننے کی،لوگ اپنے اندر چھپی صلاحیت کو جان کر اپنے مقصد کی جانب رواں دواں ہو جاتے ہیں ایسی دنیا میں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
عمران بروحی 1 اکتوبر 1963 کو پاکستان کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ عمران بروحی نے اپنی کرکٹ کا آغاز ساو?تھ زون کی جانب سے 1982۔1981 میں کیاجس میں انہوں نے ولس کپ میں تین میچ کھیلے۔یہ واحد میچ تھا جس میں ساؤتھ زون کی خصوصیات دیکھی گئی۔ عمران بروحی نے دائں ہاتھ سے بلے بازی کرتے ہوئے کراچی کے خلاف کوئی رن اسکور نہیں کر سکے تھے۔ دوسرے میچ میں انہوں نے تیرا رن بنائے جبکہ تیسرے میچ میں یہ کوئی رن نہ بنا سکے۔
عمران بروحی نے 1984 تک کسی اونچی سطح پر میچ میں حصہ نہیں لیا۔ عمران بروحی اپنی کارکردگی سے بہت مایوس تھے وہ جانتے تھے کہ ان خامیوں کے ساتھ آگے نہیں بڑھا جا سکتا لہٰذا انہوں نے اپنی خامیوں پر غور کیا اور 1985 میں حیدرآباد کی طرف سے ایک روزا ٹورنامنٹ پریزیڈینٹ ٹرافی کے نام سے کوئٹہ کے خلاف کھیلا گیا جس میں عمران بروحی 40 رن بنا کر سرِ فہرست رہے۔
اپنی اس محنت کو جاری رکھتے ہوئے عمران بروحی 1990 میں ملاوی چلے گئے جہاں انہوں نے 1994 اور 1997 آیؑ ۔سی۔سی ٹرافی میں ایسٹ اور سینٹرل افریقہ کیلئے کارکردگی پیش کی۔اس ٹرافی کا انعقاد کینیا میں کیا گیا تھا جس میں ساٹھ مختلف ملکوں کی ٹیم شامل تھیں۔ سنگاپور کے خلاف کھیلتے ہوئے عمران بروحی نے اپنی زندگی کے سب سے زیادہ 141 رن بنائے۔ان کی اس محنت نے ہی ایسٹ اور سینٹرل افریقہ کو ٹورنامنٹ کی پہلی جیت سے ہم کنار کیا۔
عمران بروحی 1994 کے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رن بنا کر دوسرے نمبر پر رہے۔ 33 سال کی عمر میں عمران 1997 آئی۔سی۔سی ٹرافی کے لیے ایسٹ اور سینٹرل افریقہ کے کپتان منتخب ہوئے۔ اس ٹرافی کا انعقاد ملیشیا میں کیا گیا تھا۔
عمران بروحی اب عمر کے 54 ویں حصہ میں داخل ہو چکے ہیں اور انہوں نے کرکٹ کی دنیا کو چھوڑ کر اپنی زندگی میں مصروفیات اختیار کر لی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ آباد رکھیں۔
No comments:
Post a Comment