Tuesday, 10 April 2018

Hafeez Interview BS



نا م حفیظ الرحمن
شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن بی ایس (iii)
رول نمبر 2k16-mc-33
انٹرویو نواز کھمبر
کسی بھی مضموں کو پڑھنا بظاہر تو آسان ہوتا ہے ،لیکن کوئی ایک مضموں کو اپنے خیالات میں تحریر کرنا ایک انتہائی نازک کام ہے کیونکہ تحریر نگاری ایک فن ہے ہر دوسرا شخص سر انجام نہیں دے سکتا ،مصنف بننے کے لئے محنت درکار ہوتی ہے بلکہ اپنے خیا لات کو تراشنے کے ساتھ ور ق دانی بھی کرنا پڑتا ہے ان محنت کار مصنفوں میں بھی سر نواز کھمبر بھی سر فہرست ہیں جو سندھی ادب سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے سندھ میں سندھی زبان کو اجاگر میں بے شمار خدمات سر انجام دی۔ 
سوال سر میڈیا میں آنے کا شوق تھا یا آپکو قسمت یہاں لے کر آیا ؟
جواب وقت کرتا ہے پرورش کا حادثہ ایک دم نہیں ہوتا ۔صحافت میں میرا آنا اچانک نہیں تھا بلکہ شوق بھی تھا اورکچھ مجبوریں بھی تھی ایک تو گھر کا ماحول کشیدہ ہونے کی وجہ سے بھی آنا پڑاکیوں کہ جس کے اثرات میری گھر پر مرتب ہو رہے تھی جس سے راہ فرار اختیار کرنے کے لئے جس سے نشے کی طرف راغب ہونے لگا ،لیکن جب خیال آیا خدا نے بچا لیا ،اسی دوراں اسکول میں اتفاق کوئز مقابلوں میں حصہ لینا پڑا ،کوئز کی کتابیں بھی تھی ان میں سے کچھ کتابوں کے نام پڑے اچانک خیال آیا کہ یہ کتابیں پڑھ لینی چاہے اور اس وقت سانگھڑ میں نجی لائبریروں کا زمانہ تھا کرایہ پر کتابیں ملتی تھی اس وقت ہم گاؤں سے سانگھڑ منتقل ہوئے تھے میرا اس وقت گھر سے نکلنا منع ہوتا تھا تو میں گھر کا سودا سلف کے بہانے بزار جاتا وہاں سے کرایہ پر کتابیں خریدتا ابو سے چپ کر پڑھتا اور واپس کرتا اپنے خیالات کا اظہار تحریر کرتا اسی طرح 1980پہلی کہانی گلفل سندھی زباں میں چھپی ،یوں ہی کالج میں پہنچے تو ادبی دوستوں سے ملاقتیں بھی ہوئی اور کوئز مقابلوں میں بھی حصہ لیتا رہا ۔سن1985میں سوشل ویلئفر میں ملازمت بھی کی اور یہ محکمہ سماجی تنظیمیں رجسٹر ڈ کرتا تو اچانک مجھے خیال آیا اپنی نوجواں برادری کو ساتھ ملا کر کمبھر بلائی سماجی تنظیم بنائی اور اس تنظیم اغراض و مقاصد کی خبریں بناتا اور پوسٹ کرتا تھا صحافت کی ابتدا یہ تھی ،ایک وجہ یہ ہے شام کے وقت میں واک پہ نکلا تھا مغرب سے پولیس کی گادی آئی اور مجھے گھیرے میں لیا بندوق سر پر اسطرح رھا جیسے میں کوئی دہشت گرد ہوں تو میں بہت پریشان ہوا اسی وجہ سے میں مکمل طور پر صحافت کے پیشے کو چنا۔
سوال میڈیا اس وقت ہمارے معاشرے میں کیا کردار اادا کر رہا ہے؟
جواب میڈیا کا اصل کام معاشرے میں لوگوں کو شعور دلانا ہے ، اخبارات اور رسائل کا اصل کام ہونے والے مسائل کو اجاگر کرنا ہے اورمعاشرے میں تبدیلی لانا ہے لوگوں کی حقوق کی بات کرنا ہے ، لیکن اس وقت بد قسمتی یہ ہے میڈیا خود کو اجاگر کرنے میں مصروٖ ف ہے صحیح معنوں میں جو کردار ادا کرنا چاہے وہ نہیں ہو رہا ہے ، چند گنے چنے صحافی ہیں جن کی وجہ سے صحافت کا نام زندہ ہے ۔جب اخبارات اور چینل ،رسائل کی اغراض کا اجازت نامہ میرٹ پر ،اور بغیر کمیشن اور سفارش کے ہوگا ت،ویج بورڈ کا نفاذ ہوگا اور تب صحیح معنوں میں میڈیا اپنا کردار ادا کر سکے گا اسر وقت تک سوشل میڈیا نے اپنے ذمے لے رکھی ہے۔
سوال آپ جس مقام پر ہیں اس مطمءں ہو یا مزید کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟
جواب نزاع کا عالم ہے محبت بھی واپس لے لو جب کشتی دوبنے لگے ساماں اتارا کرے ، ذااتی طور پر اللہ کے احسانات کہ مجھے میری اور توقع سے بڑھ کر عزت،اہمیت،شہرت ملی ،لیکن حقیقت یہ ہے گزشتہ دس برس سے لکھ رہا ہوں،تین سالوں سے ایف ایم پر بھی کام کر رہا ہوں ۔25,30 کتابوں کا مواد بھی موجود ہے کچھ کتابیں چھپ بھی چکی ہیں،کچھ چھپ رہی ہیں جوکہ غریب جوان بیٹی کی اچھے رشتے کی آمد کی طرف سے کسی پبلشر کی منتظر ہیں ،ذاتی طور پر لکھنے کا تو مجھے بہت فائدہ ہوا،لیکن اس لکھنے کا بظاہر تو کسی اور کو فائدہ ہوتا نظر نہیں آیا،تو فائدہ کیا لکھنے کا ،میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنے نام کے لئے شاید خودغرضی کا مظاہرہ کیا ،جو وقت میرے والدین کا،بہن بھائیوں کا، بچوں کا ،دوستوں کا تھا وہ میں نے نام نہاد تحقیق اور لکھنے پر لگا دیا جس پر کبھی کھبا ر افسوس ہوتا ہے۔
سوال صحافت میں کافی عزت شہرت ملی اس میں کامیابی کاراز کیا ہے؟
جواب اسکا سبب قہت الرجال ہے اتفاق جو میں نے مضامین چنے یا جو مجھے پسند آئے ان پر لکھنے والوں کی تعداد بہت کم تھی اور دوسرا اتفاق یہ ہوا کہ مجھے سندھی کی سب سے بڑی اشاعت اخبار میں میں چھپنے کی وجہ سے بہت زیادہ لوگوں تک پہنچنے کا موقع ملا یا پھر خدا کا کرم تھا۔

No comments:

Post a Comment