
بی ایس پارٹ 3
رول نمبر 121
انٹرویو: لیکچرار حسن شیخ
لیکچرار حسن شیخآرمی کا جنون کی حد تک شوق رکھنے والے کو جب اپنی منزل نہ مل سکی تو کرائم کے شعبے کو اپنا جنون بنا لیا.. حسن شیخ سندھ یونیورسٹی کے شعبے کریمنولوجی میں بطورِ لیکچرار اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جو کہ ایک بہت قابل اساتذہ کے ساتھ ساتھ دوستانہ طبیعت کے مالک بھی ہیں...
سوال:آپ نے اپنی تعلیم کے سفر کا آغاز کہا سے کیا اور یہاں تک کیسے پہنچے؟
جواب: میں نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز گورنمنٹ کے مشہور ادارے نور محمد ہائی اسکول سے کیا کالج کی تعلیم مسلم سائنس کالج سے حاصل کی B.com کی ڈگری سندھ یونیورسٹی سے اورLLB کی سندھ کالج لا سے کیا.. MSc کرمینولوجی میں کیا جس میں میں پہلی پوزیشن بہی حاصل کی جس کی وجہ سے اس وقت کے گورنر سندھ عشرتالعباد صاحب کی طرف سے ہر پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کو دعوت دی گئی اور اِس کے ساتھ ساتھ کیش انعام بھی دیا گیا تھا جو کے میرے لیئے بڑے عزاز کی بات تھی
....سوال: کیا آپ کو دورانِ تعلیم کہیں ملازمت کرنی پڑی اور کیوں؟جواب:میرا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا اور میری تین سال کی عمر میں ہی والد وفات پا چکے تھے ایسے حالات میں بڑے بھائی نے بہت ذیادہ ساتھ دیا اور میں خود بھی پڑھنے کا بہت شوقین تھا تو ایسے میں اپنے شوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے پڑھنا شروع کر دیا تھا اور مختلف اداروں میں ملازمت کرتا رہتا تھا...
سوال: آپ کے دِل میں تعلیمِ کا شوق تھا تو آپ نے اس سلسلے میں غریبوں کے ساتھ کیا تعاون کیا؟
جواب: جی ہاں میں ہی میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مِل کر ایک ویلفیئر کی تنظیم تھی شاہ عبداللطیف ویلفیئر فانڈیشن جس کا ممبر بھی میں رہ چکا ہوں اس میں ہم لوگ اپنے علاقے کے غریب طبقے کے بچوں کو تعلیم دیتے تھے بنا کسی پیسے کے.۔
سوال: آپ کس طرح کا مزاج رکھتے ہیں؟جواب:میرا مزاج ہر ایک کے ساتھ دوستانہ ہے اور خاص کر اپنے طلبا کے ساتھ کیونکے میں سمجھتا ہوں نرم لہجے میں بولی ہوئی بات دِل میں اتر جاتی ہے بانسبت سخت لہجے میں بولی ہوئی بات کیسوال: کرائم کے شعبے میں دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟
جواب: مجھے آرمی میں جانے کا جنون کی حد تک شوق تھا جس کا ٹیسٹ بھی پاس کر چکا تھا لیکن بچپن ہی سے بیمار رہنے کی وجہ سے میں اپنے شوق کی تکمیل نہیں کر سکا پھر میں نے سوچا کہ میں ایسے ہی کسی ادارے سے وابستہ ہوجاں جس سے میرے جنون کو تسکینِ ملے...
سوال: آپ کو کیا لگتا ہے کے لوگ کس طریقے سے وارداتِ جروم میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور کیسے ہم انکو نکل سکتے ہیں؟جواب: جرم ایک معاشرتی بیماری ہے یہ ایک بہت بڑا مسلہ ہے آپ دنیا میں جہاں بھی دیکھ لیں جرم نظر آئے گا جیسے غریب غربت کی وجہ سے جرم کر رہا ہے تو امیر عیاشی میں ہمیں اپنے ماحول کو پرسکون بنانا ہوگا کیونکے یہ معاشرہ ہی ہے جو انسان کو اچھائی اور برائی کی طرف راغب کرتا ہے..سوال: آپ کتنی کتابیں اپنے مضمون میں دیتے ہیں؟جواب: کرمنولوجی کی کتابیں بہت زیادہ مہنگی ہیں تو میں پی ڈی ایف فائل دیتا ہوں اور ہر طلبا کو دس کتابیں دیتا ہوں...
سوال: کوئی ایسی چیز جو میں نہ پوچھ سکی لیکن آپ بتانا چھاتے ہو؟
جواب: میں یہ چھاتا ہوں کہ کالج میں بھی کریمینولوجی کے مضمون کی تعلیم دی جائے.. اور کرائم جسٹس سسٹم میں کرمینولوجی کے لوگ ہونے چائییسوال: کوئی آپکا پیغام طلبا کے لیے؟جواب: زیادہ تر اپنی توجہ پڑھائی پر دیں اور بیمقصد سرگرمیوں سے دور رہے کیونکہ ہوا کے رخ پر اوڑھنے والا پرندہ کبھی بھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا...
No comments:
Post a Comment