حمت مر دا ں مدد خدا اگر انسا ن چا ہے تو کچھ بھی نا ممکن نہیں ۔ لطیف آباد کے رہا ئشی بشیر اً نا می ایک خاتو ن جو تقریبا تیس (۳۰) سالو ں سے سو زوکی چلا تیں ہیں ۔
بشیراً 1950 میں حیدر آباد میں پیدا ہو ئی کم عمری میں ہی شا دی ہو گئی شو ہر کا نا م محمد بنا ر س صدیقی تھا وہ پولیس میں نو کری کر تے تھے ان کے پانچ (۵) بچے ہیں ۔
شادی کے کچھ سا لو ں بعد ہی بشیراً کے شو ہر جوا نی میں ہی انتقال کر گئے ۔عدت پو ری کر نے کے بعد محنت مزدوری شرو ع کر دی کیو نکہ بچے چھو ٹے تھے اور سہا را دینے والا کوئی نہ تھا ۔
بشیراًنے محنت مزدوری کر کے پیسے جو ڑ جو ڑ کر اپک پرا نی سو زوکی خریدی اور اسے ٹیکسی کی طر ح استعمال کر کے اپنے بچو ں کو پڑھا یا ، جوا ن کیا پھر شادیا ں کی ۔
بشیر اً کے پانچ بچے ہیں (۳) تین بیٹے اور (۲) بیٹیا ں ۔ایک بیٹا پو لیس میں نو کری کر تا ہے دوسرا انہیں کی طر ح سو زوکی چلا تا ہے ، اور تیسرا گھر میں رہتا ہے اور دونو ں بیٹیا ں شادی شدہ ہیں ۔
بشیراً کا کہنا ہے کہ کبھی کسی سے مانگ کر خر چ نہیں کیا جو کما یا اسی سے اپنے بچو ں کو کھلا یا اور پہنا یا ، میں نے اپنے بچو ں اور سب نو جو انو ں کو یہی نصیحت کر تی ہو ں کہ جب اﷲ پا ک نے ہا تھ پا ؤ ں سلا مت رکھے ہیں تو محنت کرو محنت میں شر م نہ کر و ۔ ایک نجی این جی او (NGO) نے ان کے محنت اور لگن کوسر احہ اور انہیں ایوا رڈ پیش کیا ۔
بشیراً کے پیشے سے تعلق رکھنے والے چنو بھا ئی کا کہنا ہے کہ میں انہیں (۳۰)تیس سالو ں سے جا نتا ہوں یہ شرو ع شروع میں حیدر آباد سے کو ٹری کی سواری اٹھاتی تھیں اس کے بعد سے ابھی تک یہ لطیف آباد سے حیدر چوک تک کی سواری اٹھا تی ہیں ۔یہ انتہا ئی خدار خا تو ن ہیں اور سب سے اخلا ق سے پیش آتی ہیں ان کی اسی محنت اور لگن کی وجہ سے آج اﷲ پاک نے انہیں تین سوزوکیو ں کا مالک بنا دیا ہے ۔
بشیراً 1950 میں حیدر آباد میں پیدا ہو ئی کم عمری میں ہی شا دی ہو گئی شو ہر کا نا م محمد بنا ر س صدیقی تھا وہ پولیس میں نو کری کر تے تھے ان کے پانچ (۵) بچے ہیں ۔
شادی کے کچھ سا لو ں بعد ہی بشیراً کے شو ہر جوا نی میں ہی انتقال کر گئے ۔عدت پو ری کر نے کے بعد محنت مزدوری شرو ع کر دی کیو نکہ بچے چھو ٹے تھے اور سہا را دینے والا کوئی نہ تھا ۔
بشیراًنے محنت مزدوری کر کے پیسے جو ڑ جو ڑ کر اپک پرا نی سو زوکی خریدی اور اسے ٹیکسی کی طر ح استعمال کر کے اپنے بچو ں کو پڑھا یا ، جوا ن کیا پھر شادیا ں کی ۔
بشیر اً کے پانچ بچے ہیں (۳) تین بیٹے اور (۲) بیٹیا ں ۔ایک بیٹا پو لیس میں نو کری کر تا ہے دوسرا انہیں کی طر ح سو زوکی چلا تا ہے ، اور تیسرا گھر میں رہتا ہے اور دونو ں بیٹیا ں شادی شدہ ہیں ۔
بشیراً کا کہنا ہے کہ کبھی کسی سے مانگ کر خر چ نہیں کیا جو کما یا اسی سے اپنے بچو ں کو کھلا یا اور پہنا یا ، میں نے اپنے بچو ں اور سب نو جو انو ں کو یہی نصیحت کر تی ہو ں کہ جب اﷲ پا ک نے ہا تھ پا ؤ ں سلا مت رکھے ہیں تو محنت کرو محنت میں شر م نہ کر و ۔ ایک نجی این جی او (NGO) نے ان کے محنت اور لگن کوسر احہ اور انہیں ایوا رڈ پیش کیا ۔
بشیراً کے پیشے سے تعلق رکھنے والے چنو بھا ئی کا کہنا ہے کہ میں انہیں (۳۰)تیس سالو ں سے جا نتا ہوں یہ شرو ع شروع میں حیدر آباد سے کو ٹری کی سواری اٹھاتی تھیں اس کے بعد سے ابھی تک یہ لطیف آباد سے حیدر چوک تک کی سواری اٹھا تی ہیں ۔یہ انتہا ئی خدار خا تو ن ہیں اور سب سے اخلا ق سے پیش آتی ہیں ان کی اسی محنت اور لگن کی وجہ سے آج اﷲ پاک نے انہیں تین سوزوکیو ں کا مالک بنا دیا ہے ۔
No comments:
Post a Comment