حسیب دیسوالی
بی ایس پارٹ 3
رول نمبر: 55
انٹرویو: محنتِ شعاری کی جیتی جاگتی فقیدالمثال شخصیت:
پروفیسر ڈاکٹر مرزا امام علی بیگ۔
تعارف: پاکستان بننے کے ٹھیک تیرہ سال بعد اسی دن پیدہ ہونے والی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر مرزا امام علی بیگ کا تعلق حیدرآباد کے چھوٹے سے علاقے ٹنڈو میر محمد سے ہے۔ ایک پولیس کانسٹیبل کا بیٹا ہونے کے باوجود محنت کر کے خود کو اس قابل بنایا کے آج حیدرآباد ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز کے عہدہ پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔انھوں نے اپنی تعلیم کا آغاز گورنمنٹ حافظ اسکول سے کیا۔ البتہ انھوں نے گیارویں جماعت گورنمنٹ سچل کالج سے پڑھی اور انٹر گورنمنٹ سٹی کالج سے مکمل کیا۔ بی اے اور ایم اے بھی وہیں سے کیا۔ اس کے بعدجامعہ سندھ یونیورسٹی میں ایم فل کے لئے داخلہ لیا اور پھر پی ایچ ڈی بھی وہیں سے کی۔
سوال نمبر:۱ سَر آپ کی ملازمت کا سفر کہاں سے شروع ہوا؟
جواب:۱۹۷۷ء4 میں گھریلو حالات کی وجہ سے مجھے میٹرک کے امتحان کے فوراً بعد ہی ملازمت شروع کرنی پڑھی۔ ایک سال میں نے سینٹرل جیل میں کلرک کے عہدے پر نوکری کی۔ اس کے بعد مجھیجامعہ سندھ یونیورسٹی میں سنددولوجی ڈیپارٹمنٹ میں خوش نویسی کی نوکری ملی۔ وہاں ساڑھے پانچ سال خدمات انجام دینے کے بعد میں نے ریڈیو پاکستان میں بھی پانچ سال کام کیا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔
سوال نمبرؔ ۲ سَر کیا آپ نے کبھی یہ سوچھا تھا کہ آپ ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز یا ایسا کوئی دیگر جلیلہ کا اعزاز حاصل کر یں گے؟
جواب: جی ہاں میں نے آپ کو شروع میں بتایا تھا کہ مجھے بچپن ہی سے آفیسر بننے کا بہت شوق تھا۔ اور اسی شوق نے مجھے مشکلات کے آگے بھی جھکنے نہ دیا۔ جس کی وجہ سے ۱۹۹۱ء4 میں پبلک سروس کمیشن ٹیسٹ کلئیر کرنے کے بعد بطور لیکچرر گورنمنٹ کامرس کالج میں داخل ہوا۔ اس کے بعد میں نے ۲۰۰۳ء4 میں دوبارہ پبلک سروس کمیشن ٹیسٹ کلئیر کرکے انسویں گریڈ کے آفیسر کا عہدہ حاصل کیا۔ پھر۲۰۰۹ء4 میں خدا نے مجھے حیدرآباد ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز کے عہدہ کی حرمت سے نوازہ۔ ایک سال یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد میں ۲۰۱۰ء4 سے مسلم کالج کاپرنسپل بن گیا۔ لیکن میں نے اپنی محنت اور کاویش پھر بھی نہ چھوڑی اور ایک بار پھر ۲۰۱۶ء4 سے مجھے حیدرآباد ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز کے عہدہ جلیلہ کو سنبھالنے کا موقع ملا۔ اور خدا کے شکر سے ابھی تک سنبھال رہا ہوں۔
سوال نمبر : ۳ ایک ریجنل ڈائریکٹر جیسے عہدے کو سنبھالنا کتنی بڑی ذمہ داری ہے؟
جواب: بے شک یہ عہدہ 'عہدہِ جلیلہ' ہے۔ اور اس عہدے کو سنبھالنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اس میں ایک انسان پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں۔ مثلاً ایک ریجنل ڈائریکٹر ہونے کی حیثیت سے میرے ہاتھ میں اس وقت نو ڈسٹرکٹ میں موجود ۵۷ کالیجز ہیں۔ ان کالیجز کی تمام تر ذما داری میرے ذمے ہے۔ وہاں کیسی تعلیم دی جا رہی ہے، اساتذہ کتنی توجہ دے رہے ہیں، پابندی سے کالج آتے ہیں کے نہیں، وغیرہ جیسے بہت سے سوالوں کا میں جواب دہ ہوں۔
سوال نمبر:۴ سَر جب آپ نے ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز کا عہدہ سنبھالا تواس وقت آپ کے نزدیک کالیجز کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب کیا تھا؟
جواب: جب میں نے ۲۰۱۶4 میں دوبارہ یہ عہدہ سنبھالا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گورنمنٹ کے بہت سے معمولی کالیجز بچوں کو پڑھانے کے لئے گورنمنٹ سے اچھی خاصی تنخواہ حاصل کرنے کیباوجود چند ہزاروں کے پیچھے اپنی ڈیوٹی ٹائم پر پرائیویٹ کالیجز میں پڑھاتے تھے، جن کی وجہ سے گورنمنٹ کالیجز کے طلبہ کو پڑھانے والا کوئی موجود نہیں ہوتا تھا۔ یہ ایک سنگین اور بڑا مسئلہ تھا۔
سوال نمبر:۵ سَر تو پھر آپ نے اس سنگین مسئلے کو کس طرح حل کیا؟
جواب: جب میں اس صورتِ حال سے واقف ہوا تو فوری طور پر گورنمنٹ کالیجز میں بائیو میٹرک سسٹم کا آغاز کرنا چاہا جسے ہائی کورٹ نے بھی پسند کیا اور اس پر فوری عمل کیا گیا۔ جس کی وجہ سے میں قافی حد تک بدلاؤ لاچکا ہوں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے تمام کالیجز میں ماہانہ ٹیسٹ سسٹم بھی شروع کیا جس سے طالبِ علم دل لگا کر تعلیم حاصل کر سکیں۔
سوال نمبر: ۶ سَر آپ کے حساب سے گاؤں کے طلبہ زیادہ دل لگا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں یا شہر کے؟
جواب: اگر گورنمنٹ گاؤں کے یا ملک کے اندرونی حصوں میں جو کالیجز موجود ہیں وہاں ٹھوڑی سہولیات فراہم کرے تو مجھے لگتا ہے کے وہاں سے زیادہ ٹیلنٹ سامنے آسکتا ہے۔
سوال نمبر: ۷ سَر آپ کے کرئیر میں کبھی آپ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: میرے نزدیک مایوسی ایک فریب ہے، جرم ہے جسے انسان خود سے کرتا ہے۔ مایوسی انسان کو تباہ وبرباد کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی۔ مجھے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات درپیش آئیں لیکن میں نے روبرو ہوکر ان مشکلات کا سامنا کیا۔
اور اسی کے ساتھ میں نے پروفیسر ڈاکٹر مرزا امام علی بیگ سے اجازت مانگی۔
بی ایس پارٹ 3
رول نمبر: 55
انٹرویو: محنتِ شعاری کی جیتی جاگتی فقیدالمثال شخصیت:
پروفیسر ڈاکٹر مرزا امام علی بیگ۔
تعارف: پاکستان بننے کے ٹھیک تیرہ سال بعد اسی دن پیدہ ہونے والی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر مرزا امام علی بیگ کا تعلق حیدرآباد کے چھوٹے سے علاقے ٹنڈو میر محمد سے ہے۔ ایک پولیس کانسٹیبل کا بیٹا ہونے کے باوجود محنت کر کے خود کو اس قابل بنایا کے آج حیدرآباد ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز کے عہدہ پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔انھوں نے اپنی تعلیم کا آغاز گورنمنٹ حافظ اسکول سے کیا۔ البتہ انھوں نے گیارویں جماعت گورنمنٹ سچل کالج سے پڑھی اور انٹر گورنمنٹ سٹی کالج سے مکمل کیا۔ بی اے اور ایم اے بھی وہیں سے کیا۔ اس کے بعدجامعہ سندھ یونیورسٹی میں ایم فل کے لئے داخلہ لیا اور پھر پی ایچ ڈی بھی وہیں سے کی۔
سوال نمبر:۱ سَر آپ کی ملازمت کا سفر کہاں سے شروع ہوا؟
جواب:۱۹۷۷ء4 میں گھریلو حالات کی وجہ سے مجھے میٹرک کے امتحان کے فوراً بعد ہی ملازمت شروع کرنی پڑھی۔ ایک سال میں نے سینٹرل جیل میں کلرک کے عہدے پر نوکری کی۔ اس کے بعد مجھیجامعہ سندھ یونیورسٹی میں سنددولوجی ڈیپارٹمنٹ میں خوش نویسی کی نوکری ملی۔ وہاں ساڑھے پانچ سال خدمات انجام دینے کے بعد میں نے ریڈیو پاکستان میں بھی پانچ سال کام کیا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی۔
سوال نمبرؔ ۲ سَر کیا آپ نے کبھی یہ سوچھا تھا کہ آپ ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز یا ایسا کوئی دیگر جلیلہ کا اعزاز حاصل کر یں گے؟
جواب: جی ہاں میں نے آپ کو شروع میں بتایا تھا کہ مجھے بچپن ہی سے آفیسر بننے کا بہت شوق تھا۔ اور اسی شوق نے مجھے مشکلات کے آگے بھی جھکنے نہ دیا۔ جس کی وجہ سے ۱۹۹۱ء4 میں پبلک سروس کمیشن ٹیسٹ کلئیر کرنے کے بعد بطور لیکچرر گورنمنٹ کامرس کالج میں داخل ہوا۔ اس کے بعد میں نے ۲۰۰۳ء4 میں دوبارہ پبلک سروس کمیشن ٹیسٹ کلئیر کرکے انسویں گریڈ کے آفیسر کا عہدہ حاصل کیا۔ پھر۲۰۰۹ء4 میں خدا نے مجھے حیدرآباد ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز کے عہدہ کی حرمت سے نوازہ۔ ایک سال یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد میں ۲۰۱۰ء4 سے مسلم کالج کاپرنسپل بن گیا۔ لیکن میں نے اپنی محنت اور کاویش پھر بھی نہ چھوڑی اور ایک بار پھر ۲۰۱۶ء4 سے مجھے حیدرآباد ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز کے عہدہ جلیلہ کو سنبھالنے کا موقع ملا۔ اور خدا کے شکر سے ابھی تک سنبھال رہا ہوں۔
سوال نمبر : ۳ ایک ریجنل ڈائریکٹر جیسے عہدے کو سنبھالنا کتنی بڑی ذمہ داری ہے؟
جواب: بے شک یہ عہدہ 'عہدہِ جلیلہ' ہے۔ اور اس عہدے کو سنبھالنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اس میں ایک انسان پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں۔ مثلاً ایک ریجنل ڈائریکٹر ہونے کی حیثیت سے میرے ہاتھ میں اس وقت نو ڈسٹرکٹ میں موجود ۵۷ کالیجز ہیں۔ ان کالیجز کی تمام تر ذما داری میرے ذمے ہے۔ وہاں کیسی تعلیم دی جا رہی ہے، اساتذہ کتنی توجہ دے رہے ہیں، پابندی سے کالج آتے ہیں کے نہیں، وغیرہ جیسے بہت سے سوالوں کا میں جواب دہ ہوں۔
سوال نمبر:۴ سَر جب آپ نے ریجنل ڈائریکٹر آف کالیجز کا عہدہ سنبھالا تواس وقت آپ کے نزدیک کالیجز کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب کیا تھا؟
جواب: جب میں نے ۲۰۱۶4 میں دوبارہ یہ عہدہ سنبھالا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے گورنمنٹ کے بہت سے معمولی کالیجز بچوں کو پڑھانے کے لئے گورنمنٹ سے اچھی خاصی تنخواہ حاصل کرنے کیباوجود چند ہزاروں کے پیچھے اپنی ڈیوٹی ٹائم پر پرائیویٹ کالیجز میں پڑھاتے تھے، جن کی وجہ سے گورنمنٹ کالیجز کے طلبہ کو پڑھانے والا کوئی موجود نہیں ہوتا تھا۔ یہ ایک سنگین اور بڑا مسئلہ تھا۔
سوال نمبر:۵ سَر تو پھر آپ نے اس سنگین مسئلے کو کس طرح حل کیا؟
جواب: جب میں اس صورتِ حال سے واقف ہوا تو فوری طور پر گورنمنٹ کالیجز میں بائیو میٹرک سسٹم کا آغاز کرنا چاہا جسے ہائی کورٹ نے بھی پسند کیا اور اس پر فوری عمل کیا گیا۔ جس کی وجہ سے میں قافی حد تک بدلاؤ لاچکا ہوں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے تمام کالیجز میں ماہانہ ٹیسٹ سسٹم بھی شروع کیا جس سے طالبِ علم دل لگا کر تعلیم حاصل کر سکیں۔
سوال نمبر: ۶ سَر آپ کے حساب سے گاؤں کے طلبہ زیادہ دل لگا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں یا شہر کے؟
جواب: اگر گورنمنٹ گاؤں کے یا ملک کے اندرونی حصوں میں جو کالیجز موجود ہیں وہاں ٹھوڑی سہولیات فراہم کرے تو مجھے لگتا ہے کے وہاں سے زیادہ ٹیلنٹ سامنے آسکتا ہے۔
سوال نمبر: ۷ سَر آپ کے کرئیر میں کبھی آپ کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: میرے نزدیک مایوسی ایک فریب ہے، جرم ہے جسے انسان خود سے کرتا ہے۔ مایوسی انسان کو تباہ وبرباد کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی۔ مجھے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات درپیش آئیں لیکن میں نے روبرو ہوکر ان مشکلات کا سامنا کیا۔
اور اسی کے ساتھ میں نے پروفیسر ڈاکٹر مرزا امام علی بیگ سے اجازت مانگی۔
No comments:
Post a Comment