Monday, 9 April 2018

Saadat Profile BS


مذھمتی شاعرڈاکٹر آکاش انصاری

وہ جس کا کلام ہر نوجوان بڑی سکوت طاری سے سُنتا ہے وہ جس کا نام واقعی ہی آکاش ہے اور ان کی سوچیں بھی وہ جن کا کام لوگوں کی صحت کی دیکھ بحال کرنا ہے لیکن انہوں نے اپنی قلمی جمبش کے زریعے سندھ دھرتی کی تکلیف کو لفظوں میں بیان کیا ہے اور کتنے ہی سندھ کے گلوکاروں نے ان کے لفظوں کو آواز کی شکل دی ہے۔

سندھ کا مذہمتی ، انقلابی ، رومانوی شاعراور صحافی ڈاکٹر آکاش انصاری 25دسمبر 1956میں ضلع بدین کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں ابل کی بسی میں پیدا ہوئے انہوں نے انٹرمیڈیٹ بدین سے کرنے کے بعد ایم بی بی ایس کرنے کے لیئے پھتروں کے شہر جامشورو روانہ ہوئے ۔کچھ لوگ لکھتے ہیں کچھ گاتے ہیں اور کچھ بجاتے ہیں ہر کسی کا ایک اپنا شوق ہوتا ہے اسی طرح ڈاکٹر آکاش انصاری کو شاعری کا بہت شوق تھا ڈاکٹر صاحب کو سندھ اور دیگر علاقوں میں جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ صرف اور صرف شاعری کی وجہ سے ہوئی اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب نے صحافت بھی کی اور روز نامہ سوال اخبار کے چیف ایڈیٹر بھی رہے ۔ تو ذکر کیا تھا اُن کی مقبولیت کا اور مذاہمتی شاعری کا تو اُس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ ان کی ایک سندھی میں کتاب جس کا عنوان (کیءں رہاں ماں جلا وطن)چار مرتبہ چھپ چکی ہے۔اُن کی شاعری کا یک دوسرا کتاب ( ادھورا ادھورا) بھی بہت مقبول ہوا کیونکہ اُس کتا ب کا ٹائٹل ہی کچھ ایسا تھا (اسین بس رھیا سین ادھورا) ان کی شاعری میں جو خوبیاں موجود ہیں وہ اکثر ابھرتے نوجوانوں کی دلوں میں رکس کرتی ہیں ۔علم، ادب، سیاست اور صحافت سے دلچسپی رکھنے والے نوجوان ڈاکٹر آکاش انصاری جیسی پر اثر شخصیت سے کافی متاثر ہوتے ہیں اور اپنے اندر ان جیسی خوبیاں لانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ان کی شاعری کا اثر ہے جو نوجوان کو ایک انقلابی سوچ کی طرف گامزن کرتا ہے نوجوانوں میں ایک آزاد سوچ پیدا ہونا اُن کی شاعری کی سب سے بڑی مثال ہے ، انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں میں ایک جذبہ پیدا کیا ہے اور لوگوں کواپنے حقوق حاصل کرنے کی ہمت آئی ہے ڈاکٹر آکاش انصاری جیسے با کمال انسان کی خدمات سے ہر طبقے کے لوگوں کو بیدار کیا ان کی شاعری کا اثر یوں پڑا ہے کہ آنے والی ہر نئی نسل اب کسی وڈیرے یا جاگیر دار کے آگے سر جھکا کے کھڑے رہنے کی بجائے سر اُنچا کر کے اپنے حق کی بات کر تے ہیں اور یہ اس معاشرے میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی علامت ہے جو کہ ہمارے نوجوانوں میں نظر آنے لگی ہے ۔
ان کی عظیم جدوجہد اور لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی اس کوشش کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے، آپ کو (Voice of Sindh)سندھ کی آواز سے بھی پہچانا جاتا ہے آپ نے ناصرف شاعری کی ہے بلکہ صحافت میں بھی اپنا بہت بڑا حصہ ڈالا ہے جو کہ قابل سطائش ہے ڈاکٹر صاحب کا نا م سندھ کی با اثر شخصیت میں شامل ہوتاہے کیونکہ وہ اُن لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے قلم کے ذریعے لوگوں کو بیدار کیا اور شعور لانے کی کوشش کی ہے آپ نے سندھ دھرتی کی ثکافت کو بھی اپنی شاعری میں بیان کیا اور ایسا بیان کیا کے آج بھی اُن کے لکھے ہوئے گیت ہمارے کانو میں گونجتے رہتے ہیں آپ نے سندھ دھرتی کی خدمت کرنے میں کبھی بھی خد کو پیچھے نہیں چھوڑا جب بھی موقع پایا آپ نے قلم کے ذریعے دھرتی کے خاطر آواز بلند کی اور ان کی خدمات جاری و ساری ہیں ڈاکٹرآکاش انصاری جیسے مذہمتی اور انقلابی شاعر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور اُن کا نام اُن عظیم شخصیا ت میں شامل ہوتا ہے جو اپنے علم کے ذریعے کتنے ہی لوگ اجاگرکر کے جاتے ہیں ڈاکٹر صاحب جیسے انسان ملک و قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ہمیں اُن کی قدر کرنی چاہیئے اور اُن کی شاعری کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہیئے۔

No comments:

Post a Comment