Saturday, 7 April 2018

Arshia Profile MA


پروفائل : عارف نورانی
3
عارف نورانی وہ چمکتا ہوا ستار ہے جو ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے انسان ہیں وہ 20اکتوبر1986کو حیدر آباد میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنی انتھک محنت سے یہ ثابت کردیا ہے کہ محنت اورلگن سے جو کام بھی کرو اللہ اس میں ضرور کامیاب کرتا ہے۔ 
انہوں نے ابتدائی تعلیم الہدیٰ اسکول اور پھر اے آر بنات سائنس آرٹ کالج سے انٹر کیا ۔ اعلیٰ تعلیم ایم بی اے(ایچ آر) سندھ یونیورسٹی سے کرنے کے بعد اپنے والد کی طرح جو آپ کے لیے ایک مثالی شخصیت تھے ان کو دیکھ کر کالم نگاری کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ کیونکہ عارف نورانی کے والد ایک کالم نگار اور مصنف تھے اور عارف نورانی اپنے والد کے کالم کی پروف ریڈنگ کرتے تھے۔ اسی شوق کے ساتھ انہوں نے ایک کالم لکھنا شروع کیا تاکہ حاکم وقت کی اصلاح ہوسکے اور معاشرے میں سدھار لایا جاسکے۔ قلم کی طاقت سے معاشرے کے لوگوں کو صحیح بات بتائی جاسکے۔ اس لیے کالم نگار بننے اور اپنا پہلا کالم کرنٹ افیئر پر لکھنا شروع کیا ۔ کالم لکھنے کے لیے بہت محنت کی اس پر ریسرچ کی کیونکہ کالم نگار جو بھی لکھتا ہے وہ اس پر تحقیق کرتا ہے تاکہ لوگوں کو صحیح بات سے آشنا کرسکے اور دو مہینے کی محنت کے بعد کالم مکمل کیا اور جب کالم نوائے وقت میں شائع ہوا تو ان کو بہت پذیرائی ملی اور اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا۔جب ایک کالم نگار لکھنے بیٹھتا ہے تو اس کے دماغ میں سو سے زیادہ آئیڈیاز ہوتے ہیں مگر وہ صرف وہ بات لکھتا ہے جس میں اس کی ریسرچ ہو۔ 
عارف نورانی نے اپنی فیملی کو سپورٹ کرنا تھا اس وجہ سے پہلے تعلیم کے ساتھ ساتھ بینک میں نوکری کی مگر جرنلسٹ بننے کے جنون کی وجہ سے وہاں سے نوکری چھوڑ کر انہوں نے امت نیوز پیپر 2016میں اسٹاف رپورٹر کی حیثیت سے جوائن کیا اور اپنے کالم نوائے وقت نیوز پیپر میں شائع کراتے گئے۔ کریئر میں روز کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے اپنے آپ کو اپڈیٹ کرنے کے لیے ریسرچ کرنا اور پریس کانفرنس میں روز شرکت کرنا شروع کردیا اور ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ پروفیشن اور تعلیم کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا مشکل ہے لیکن ایک کامیاب انسان بننے کے لیے انسان ہر مشکل کا سامنا کرسکتا ہے جس طرح عارف نورانی کر رہے ہیں جن کے حوصلے پختہ ہوں وہ ہر کام آسانی سے کرسکتے ہیں۔ اپنی محنت اور لگن سے آج عارف نورانی جرنلسٹ اور ویلفیئر میڈیکل کا کام کر رہے ہیں اور نئے آنے والے لوگوں کو ورکشاپ بھی دیتے ہیں ۔ شاعر نے یہ شعر ان کے جیسے لوگوں کے لیے لکھا ہے۔ 

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر 
ہر فرد ہے ملت کے مقدر ستارہ 

No comments:

Post a Comment