میرا یہ ٹاپک 14مارچ 2018 کو تبدیل کیا گیا ،سَر سانگی کی اجازت سے۔
نورالعین انصاری
بی ایس پارٹ
رول نمبر: 80
فیچر: آج کل کی نوجوان نسل اور فیشن
تنگ چوڑی دار پتلون پر لمبی لمبی کمیزیں زیب تن کئے ، رخ پر ڈالی ہوئی کالی لمبی زلفوں کو سمیٹتے ہوئے، رنگین ناخونوں والے خوبصورت ہاتھ۔ ہائے بیڑا غرق ہو فیشن تیرا تو نے اچھے خاصے مرد کو کیا بنا دیا۔
بقول مقید علی نامی شخص کے آج کل کی زیادہ تر نوجوان نسل فیشن ٹرینڈ کا نام لے کر اس طرح کے لباس زیب تن کئے گھومتے ہیں ، جیسے دوسرے سیارے کے لوگ ہماری دنیا میں ہجرت کر کے آگئے ہوں۔
جب میں نے آج کل کی نوجوان نسل اور فیشن کے بارے میں ایک زاہد نامی بزرگ محترم سے دریافت کرنا چاہا تو ان کے چہرے کے تاثرات کچھ اس طرح کے تھے گویا میں نے کئی سالوں سے ان کے دلوں دماغ میں موجود کسی پریشانی کا ذکر چھیڑ دیا ہو۔بقول محترم کے نوجوان نسل نے فیشن کو صرف عجیب و غریب کپڑوں کی حدود تک ہی محدود نہیں کر رکھا بلکہ ان پر ہر چیز میں فیشن کا جنون سوار رہتا ہے۔ چاہے وہ سائیکل ہو،گاڑی ہو،موبائل فون ہو، بناؤسنگار کا سامان ہو، کھانے پینے کی اشیاء4 ہو، یا حتیٰ کہ بال تراشی کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ حجام کے پاس گئے ہوں اور آدھی بال تراشی کے بید ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے ہوں لہذا وہ آدھا سَر منڈوا کر گھومنا شروع کرنے لگے۔
آج کل کی نوجوان نسل اور ان کے فیشن کا ذکر چل رہا ہے تو میرے ذہن میں میرے پھوپھا عبدالقیوم خان کے ساتھ حیدآباد کے ایک شادی حال میں پیش آنے والا واقعہ یاد آیا تو سوچا آپ سب کو بیان کرتی چلوں۔ آج سے تقریباً ساتھ ماہ پہلے کی بات ہے۔ پھوپھا سے تقریب میں چھوٹے بالوں والی پینٹ شرٹ زیب تن کی ہوئی سیدھے ہاتھ میں مردانہ گھڑی پہنے ایک لڑکی ملنے آئی ،آتے ہی اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ، پھوپھا نے لڑکا سمجھ کر ہاتھ ملا یا اور گلے لگانے آگے بڑھے کے برابر میں موجود ان کے بیٹے نے انہیں اس بات سے آگاہ کیا کے وہ لڑکی ہے۔ محض اس صورتِ حال کے بعد ان کا صرف یہی کہنا تھا کہآگ لگے ایسے فیشن کو جس میں نوجوان کی جنس کو پہچاننے کے لئے اپنی بینائی پر زور اور دماغ پر غور ڈالنا پڑے، کہ آیا مرد ہے یا عورت۔
جب میں نے بلال نامی لمبی زلفوں والے فیشن ایبل نوجوان سیمعلوم کیا کے انہیں فیشن ٹرینڈ کی پیروی(follow) کر کے کیسا محسوس ہوتا ہے تو بلال کا کہنا تھا کہ فیشن کر کے اس کے دل کو سکون اور روح کو قرار ملتا ہیاور فیشن کر کے گھومنے سے لوگ انہیں دیکھ کر کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ جب کے مجھے ایسا لگتا ہے کہ لوگ انہیں عجوبا سمجھ کر دیکھتے ہوں گے نہ ان کی طرف مائل ہوتے ہوں گے۔
حتٰی کیبڑھے بڑھے برانڈز بھی فیشن پرستی کا نام دیکر اپنے ماڈلز کو اس طرح کے کٹے ہوئے، پھٹے ہوئے کپڑے زیب تن کروا کر والک کرواتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے کچھ دیر قبل ہی ان کے ماڈلز کا مقابلہ کسی شیر یا چیتے سے ہوا ہو ان کے کپڑوں کا یہ حال ان جانوروں نے ہی کیا ہو جس کے بعد انہیں سیدھا ریمپ پر ماڈلنگ کرنے بھیج دیا گیا ہے۔
No comments:
Post a Comment