Saturday, 14 April 2018

Mahnoor Interview BS


ہمارے نوجوانوں کو انسان ذات کی بھلائی کیلئے کام کرنا ہوگا۔ نواب کاکا 
ماہ نور چنا ۔ بی ایس (III )۔44







پروفیسر ڈاکٹر نواب کاکا 14 فروری 1978 کو تحصیل سعید آباد ضلع مٹیاری ک گاؤں ابراہیم کاکا میں پیدا ہوئے ۔ آئیں علم و ادب کے حوالے سے بات چیت کرتے ہیں۔
سوال: سر آپ اپنا مختصر تعارف کروائیں ؟
جواب میرانام نواب کاکا ہے ۔ میرا جنم میرے آبائی گاؤں نواب ابراہیم کاکا میں 1978 کو ہوا۔ میں سندھ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مرزا قلیچ بیگ چےئر کا ڈائریکٹر بھی ہوں ۔
سوال : اپنی تعلیمی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کریں ؟
جواب : میں نے اپنی تعلیم آپ کی طرح اپنے ہی گاؤں کے اسکول سے حاصل کی اس کے بعد بارہویں جماعت کے امتحان ہالا سے پاس کرکے سندھ یونیورسٹی سے سندھی شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری اپنے نام کی ۔ 2005میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد کراچی و دیگر سندھ کے کالیجز میں بطور استاد بھی فرائض سر انجام دے چکاہوں ۔
سوال : سر شاعروں ، ادیبوں کے شعبے یعنی سندھی شعبے کی طرف آپ کا رحجان کیسے گامزن ہوا؟
جواب : دیکھیں ادب سے میرا فطری طورپر لگاؤ رہا تھا ۔ مڈل کلاس سے لے کر ادبی دنیا تک کے سفر میں اپنے والد صاحب سے بہت متاثر ہوا کیونکہ وہ اس وقت شاہ صاحب کی غزل (بیت) پڑھتے تھے تو میرے شوق میں اضافہ ہوا اور اسی وقت سے شاعری لکھنا شروع کردی ۔مختلف رسالہ وغیرہ پڑھنے کی دلچسپی بھی بڑھ گئی اور اس وقت سے لے کر میری خواہش تھی کہ سندھی ادبی شعبے میں پڑھنے اور کام کرنے کا موقع ملے ۔
سوال: سر آپ کے پیش نظر اد ب کیا ہے ؟ اس حوالے سے آگاہ کریں ۔
جواب : ادب کی وصفیں دنیا کے کتنے ہی فلاسفروں ، محققوں نے د ی ہیں ۔ کچھ نے ادب کو زندگی کی تفسیر بتایا ہے ۔ علامہ آئی آئی قاضی کے مطابق، ادب چھوٹے بچے کو چلنا سکھانے والے عمل جیسا مفہوم رکھتا ہے ۔ میرے نقط نظر سے سیکھنے اور سکھانے والے عمل کو ہم ادب کا نام دے سکتے ہیں ۔ ادب انسانی زندگی کی عکاسی و ترجمانی بھی کرتاہے۔ ادب کا مقصد یہ ہے کہ زندگی کے مسائل پے نظر رکھ کر ان کا حل بتانا ہے ۔ انسانی جذبات، احساسات، اور غم و خوشی کیا ہے اس کی آگاہی ادب سے ملتی ہے ۔ 
سوال : ادب کے حوالے سے میرا اگلا سوال :یہ ہوگا کہ آپ سندھی ادب کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب : دیکھیں سندھی ادب کے مختلف دور گزرے ہیں ۔ کلہوڑوں کا دور سندھی ادب کے عروج کا دور سمجھا جاتا ہے ۔ جس میں کئی کلاسیکل شاعر رونما ہوئے ۔ اس دور میں شاعری کی صنفوں وائی ، غزل وگیتوں کو عروج حاصل ہوا۔ اس کے بعد انگریزوں کا دور آیا جو جدید ادب کے حوالے سے بنیادی دور ہے ۔ جس میں مرزا قلیچ بیگ بھی شامل ہیں جنہوں نے سندھی ادب کی جدید فکر کا بنیا رکھاہے ۔اس کے بعد موجودہ دور ہے جس میں کئی مسائل درپیش ہیں ۔ کئی ایسے مصنف آئے ہیں جن کی لکھائی میں کوئی تخلیقی صلاحیت نہیں ۔ 
سوال : سر اگر سندھی ادب کی بات کی جائے تو آپ کس شاعر سے متاثر رہے ہیں ۔
جواب : شعراء کی بات کی جائے تو سارے شاعر لطیف، سچل ،سامی ، شیخ ایاز اور بھی بہت سارے ہیں ۔ لیکن اگر شاہ عبدالطیف بھٹائی کی بات کی جائے تو انہوں نے تمام زندگی کے پہلوؤں کو پیش کیاہے ۔ ان کی شاعری میں خوبصورتی اور سچائی بھی سمائی ہوئی ہے ۔
سوال : سر دیکھا جائے تو کلاسیکل شاعری اور مو سیقی میں آج کل کمی نظر آرہی ہے اس کی وجہ کیاہے؟
جواب: کلاسیکل شاعری میں کمی اتنی نہیں آئی ، ہمارے کئی فنکاروں نے شاہ اور دوسرے شاعروں کو اپنے سروں کی زینت بخشی ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے افراد کی پسند تبدیل ہوچکی ہے آج کل کے لوگ کلاسیکل شاعری کو نہیں سنتے ۔ 
سوال : آپ نے اس وقت تک کتنے ادبی تحفوں کو سنبھالا ہے ؟ 
جواب : میری کتاب ’’ سندھی کہانی اور کردار ‘‘ کے نام سے 2017 میں چھپی ہے ۔ اور دیگر میرے پی ایچ ڈی کے تھیسز بھی ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف تحقیقی کھوج جرنلوں اور مقالوں کو شائع کیا گیا ہے اس طرح اگر ان کو جوڑا جائے تو چار پانچ کتاب چھپ سکتے ہیں ۔
سوال : شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ چےئر کے بارے میں تھوڑی آگاہی دیجئے ۔
جواب: دیکھئے بنیادی طور پر ان چےئرز کاکام اس شخص کے کیے ہوئے کام کو آنے والی نسل تک پہنچا نا ہے ۔ ایسے ہی ہمارے مرزا قلیچ بیگ اپنی شخصیت میں ایک ادارہ تھے جنہوں نے علم کی شاخ پر کام کیا ۔ یہ چےئر انہی کے کام محفوظ کرنے کے لیے ہمارے اس وقت کے وائس چانسلر مظہر الحسن صدیقی کی صدارت میں 2008 میں بنیاد رکھی گئی جس کے پہلے ڈائریکٹر محمد قاسم بگھیو تھے ۔ دسمبر 2017سے یہ چارج میرے پاس ہے ۔ اس وقت تک میں نے تین سیمینار کروائے ہیں جبکہ چار کتاب چھپنے کے لیے بھیجے ہیں ۔
سوال : ہمارے نوجوانوں یا پڑھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے ۔ 
جواب : ان کے لیے پیغام ہے کہ اپنے کام میں مخلص رہیں ، اساتذہ سے سچا عشق اور چاہ پیدا کریں ۔ ہمارے بڑوں سے ملے ہوئے اداروں کی باقائدہ حفاظت کریں ۔ انسان ذات سے بھلائی کریں ۔ ان کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ خود بیدارہوں، نیکی کی راہ لیں اور اچھائی کے کامون کی طرف غور و فکر کریں ۔

No comments:

Post a Comment