Monday, 9 April 2018

Bibi Rabia Profile BS



نام :بی بی رابعہ
کلاس:بی۔ایس۔تھری
رول نمبر:۲۴
پروفائل:مہوش عباسی
کہتے ہیں کہ انسان اپنی قسمت اپنی ذندگی میں لیے گئے فیصلوں سے خود بناتاہے ،ایسا شخص جس نے اپنی ذندگی میں ایک مقصد بنا لیاہو اگر قسمت اپنا رخ تبدیل بھی کرلے تب بھی وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ڈٹ جاتاہے،مہوش کی ذندگی میں بھی کچھ ایسی تبدیلی آئی لیکن پھر بھی اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے محنت کی اور مقصد کو پورا کیا۔ 
مہوش عباسی شہید بے نظیرآباد کے چھوٹے سے قصبے باندی میں پیدا ہوئی،ابتدائی تعلیم باندی سے حاصل کی۔ بہت ہی کم عمر میں جب مہوش نویں جماعت کی طالبہ تھی تب باندی میں سندھی پرائمری گرلز اسکول نہیں تھا ۔مہوش نے اپنے والد کے ہمراہ جدوجہد کی اور اسکول کی تعمیر کے لئے نواب شاہ ڈی ای اوکے پاس گئے اور باندی میں سندھی گرلز پرائمری اسکول قائم کرنے کے لئے درخواست کی ،بلا آخر یہ کوشش پوری ہوئی اوراسکول ٖتعمیر ہوا،یوں مہوش کی سماجی ذندگی کا آغاز ہوا،اس کے بعد اسکول میں ڈبیڈس اور تقریروں میں حصہ لیا،میٹرک میں مہوش نے نواب شاہ ضلعے میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور یک کے بعد دیگر تقاریر میں حصہ لیتی گئی اور اول نمبر کے انعامات حاصل کرتی گئی،میٹرک کے بعد مہوش نے اپنا تعلیمی سفر روکا نہیں ۔ سکھر سے مزید تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیااس طرح سکھر گرلز کالج سے انٹر پاس کیا۔اس دوران انہوں نے سکھر سے انگلش لینگویج میں ڈپلومہ کیا،کالج کے دنوں سے ہی مہوش نے میگزین کے لئے لکھنا شروع کیا،کالمز لکھنے کا آغاز کیااس طرح مہوش کی زندگی میں جرنلزم کی ابتداء ہوئی،علم کی جانب اپنی بیٹی کا شوق دیکھ کر والدین نے حیدرآباد میں شفٹ ہونے کافیصلہ کیا،پھر مہوش نے اعلی تعلیم سندھ یونیورسٹی سے حاصل کی چونکہ ان کا داخلہ شعبہ کیمیاء میں ہوا تھا لیکن جرنلزم کی جانب رحجان ہونے کی وجہ سے مہوش نے شعبہ کیمیاء میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ میگزین اور مختلف اخبارات جیسے کاوش ایکسپریس کے لئے لکھنا شروع کیا۔اس کے علاوہ اس دوران مختلف ایوینٹس میں جاتی رہی موٹیویشنل ہو یا ڈبیڈس ایوینٹس میں جاتی رہی اس طرح ان کا شمار سوشل ایکٹیویسٹ میں ہو گیا۔جرنلزم میں ان کے تجربے کی بات کی جائے تو وہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی میں تعلیمی سفر کے دوران ہی میڈیا جرنلزم کے کورس کیے،اس کے علاوہ میڈیا جرنلزم سے منسلک ٹریننگز اور ورکشاپ میں جاتی رہی ، اور کراچی ،لاہور ،اسلام آباد،سکھر ،حیدرآباد و دیگر ملکی شہرمیں جرنلزم سیکھنے کے لئے سفر اختیار کیا، انتھک محنت کے ساتھ جرنلزم کے کورس کیے، اس طرح جرنلزم کا شوق مہوش میں پروان چڑھنے لگا۔بہت کم ہی ایسی لڑکیاں ہیں اندرون سندھ میں جو جرنلزم کا راستہ اختیار کرتی ہیں ۔
کے۔ٹی۔ این،مہران ،اے آر وائی ،سندھ ٹی وی اور آواز نیوز چینل نے کئی بار معاشرے کے مختلف مسائل پر گفتگوکے لئے مہوش کو اپنے پروگرامز میں وعوت دی۔ بچوں اور عورتوں کے حقوق پر مہوش نے کئی بار مختلف ٹاک شوز میں گفتگو کی،اس کے ساتھ ساتھ سفراور کلچر کے موضوع پر بھی اکثر اوقات مختلف پروگرامز میں بات کرتے ہوئے نظر آئی،جب مہوش یونیورسٹی کے فائنل ائیر میں پہنچی تو سوچاکہ اب مجھے پریکٹیکل طور پر بھی اپنی اسکلزسدھارنی چاہیے ، پھر مہوش نے کاوش اخبار میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔دو سال تک کاوش میں سب ایڈیٹر کی خدمات انجام دیتی رہی۔اس کے بعد کاوش اخبار ہی میں (کیسے آیا ،کہاں سے آیا) کا سلسلہ شروع کیا۔جس میں وہ پولٹکس ،سنگر،ادیب اور مشہور آرٹسٹ سے انٹرویو لیا کرتی تھی ،یہ سلسلا کافی مشہور ہوا،سندھ کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی جرنلزم کے لئے سفر اختیار کیا،انٹرنیشنل u.s exchange program میں پاکستان سے واحد مہوش کا انتخاب ہوا،جس میں انہیں وائٹ ہاوس اور بی بی سی کا دورہ کروایا گیا ۔اس کے علاوہ نیوز میوزیم اور بہت سے نیوز چینل کا دورہ کروایا گیا،اسس ٹریننگ سے واپس آنے کے بعد ،مہوش نے ایک جرنلسٹ کے طور پر سندھ میںe u.s consulat کے تعاون سے ماس میڈیا کے شاگردوں کو مختلف ٹریننگس کروائی۔اس کے علاوہ u.s pakistan embassy کے تعاون سے انہوں نے ۵۰ شعبہ ماس میڈیا کی طلبہ کوٹریننگ کروائی جس میں انہیں رپورٹنگ کرنے کا طریقہ سکھایا گیا۔اس کے بعد ایک میگا کانفرنس بھی منعقدکروائی جس میں پورے پاکستان سے جرنلسٹ نے شرکت کی ۔
اب تک مہوش کو ۱۵ مختلف ایوارڈ سے نوازا گیاہے جس میں women excellence award بہترین لکھائی پر دیا گیا۔اور تھر میں جب پانی کی قلت ہوئی اس وقت مہوش نے پورے تھر پر رپورٹنگ کی تھی اس کے کلچر، اداروں پر رپورٹنگ کی تھی اس بناء پر بھیwomen excellence کے ایوارڈ سے نوازا گیا،اس کے علاوہ مہوش کودو بار شہید لاشاری کے ایواڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
اس وقت مہوش سندھی اخبارات کے لیے کالم لکھ رہی ہے۔

No comments:

Post a Comment