حاجی پیر بخش چھوٹے گاوں ڈیراہ مراد جمالی ضلع نصیرآباد بلوچستان میں رہتے تھے۔اس کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ھیں ۔ حا جی صاحب شروع ھی سے امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ حاجی پیربخش شروع ھی سے محنت کش اور بردبار شخص تھے۔ حاجی صاحب اپنے گاوں میں اس نام سے جانے جاتے ھیں کہ وہ غریبوں کی بہت مدد کرتے ھیں۔ اور اُس کے گاوں میں کچھ ایسے لوگ تھے جو اُسے پسند نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ حاجی صاحب کے پاس گاوں کے وہ لوگ آتے تھے جو ان کے پاس نہیں جاتے ۔ اور اُس کے بیٹے بھی ان کے کہی ھوی باتوں پر چلتے تھے۔ آخر کار گاوں والوں نے دن بہ دن بہت تنگ کرنا شروع کیا۔ اور حاجی صاحب نے اپنے گھر والوں سے بہت تنگ آکر کہا کہ ،مجھے اور زیادہ وقت اپنے زندگی کے نہیں گزارنا اس گاوُں میں ، اور حاجی صاحب نے تنگ آ کر اپنے بیٹے کو زمین کا صودا کرنے کو کہا ۔ اور دو تین دن بعد حاجی اُس گاوں سے زمین لینے صوبہ سندھ نکل پڑے ۔اور اُس نے اپنے زندگی کے لمحات اپنے دوست کے ھاں ھالا میں گزارے، اور اس کے دوست کو پتا تھا اپنے ارد گرد زمینوں کا ۔ آخر کار اُس نے ھالا کے قریب سید ۔جی۔ ایم ، کالونی میں قاضی احمد علی سے ۰۰۲ ،ایکڑ کا زمین کا سودا کیا اور پھر حاجی صاحب نے یہی فیلہ کیا کہ اگلے زندگی کے کچھ لمحات یہی گزارنے ھیں۔
No comments:
Post a Comment