مزاحیہ فنکار اصغر کھوسو سے خصوصی انٹرویو
روشنی۔ اصغر آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟
اصغر کھوسو۔ میرا تعلق سندھ کے قدیمی شہر ضلع دادو تعلقہ جوہی کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے (کاچھو) وہاں سے ہے۔
روشنی۔ آپ نے کامیڈی کی دنیامیں کب قدم رکھا ؟
اصغر کھوسو۔ میں بچپن سے ہی شادیوں، جلسوں، ریلیوں اور دوستوں کی چھوٹی چھوٹی محفلوں میں مزاحیہ پراگرامز کرتا تھا اور لوگ مجھے داد دیتے تھے مگر پانچ سال سے اس فن کو میں نے اپنا پیشا بنا لیا ہے ۔
روشنی۔ آپ کو پہلی بار دنیا کے سامنے کس نے متعارف کروایا ؟
اصغر کھوسو۔ میرا ایک دوست تھا غلام شبیر جس نے سوشل میڈیاپرمیری ایک مزاحیہ ویڈیو رکھی اورکافی لوگوں نے مجھے پسندکیااور میری کامیابی کے دروازے کھلنا شروع ہوگئے ۔
روشنی۔ اصغر بھائی جیسا کہ آپ کو سوشل میڈیا سے ہی اتنی مقبولیت ملی ہے تو آپ کے وہاں پر چاہنے والے کتنے ہیں ؟
اصغر کھوسو۔ سوشل میڈیا پر میرے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں کیوں کہ جب بھی میں کوئی ویڈیو رکھتا ہوں تو وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور لوگ دیکھ کر بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔
روشنی۔ ہر انسان پر تنقید ہوتی ہے یقینََ آپ بھی ضرور اس چیز کا نشانہ بنے ہونگے تو کبھی مایوسی ہوئی؟
اصغر کھوسو۔ مایوسی کرنا کفر ہے اور ہر فنکار مشہو ر جب ہوتا ہے اچھا فنکا ربھی جب بنتا ہے جب اس پر تنقید ہوتی ہے اگر سب واہ واہ کرنے والے ہونگے تو انسان کبھی بھی سیکھ نہیں پائے گا میں تو کوشش کرتا ہوں کہ لوگ مجھ پر تنقید کریں تاکہ میں اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرسکوں ۔
روشنی۔ آپ اپنی زندگی میں کس بڑے مزاحیہ فنکار سے متاثر ہوئے ؟
اصغر کھوسو۔ میرے سب سے زیادہ پسندیدہ مزاحیہ فنکار معین اختر صاحب اور عمر شریف ہیں کیوں کہ وہ ایسے فنکار تھے جو کبھی ا سکرپٹ دیکھ کر نہیں بولتے تھے ۔
روشنی ۔ کبھی کوئی ایسا وقت آیا جو آپ ہمت ہار کر بیٹھ گئے؟
اصغر کھوسو۔ ایسا وقت ضرور آتا ہے کیوں کہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو بہت تکلیف پہنچاتے ہیں تو دل کرتا ہے اس کام کو چھوڑ دوں پھر جب اچھے لوگ آکر داد دیتے ہیں تو پھر ساری باتیں بھول جاتا ہوں ۔
روشنی۔ آپ نے اپنی پہلی ویڈیو کا ٹائٹل (جانا) کیوں رکھا؟
اصغر کھوسو۔ جا نا میرا ایک تکیہ کلام ہے کیوں کہ ہر انسان اپنے کسی کوڈ ورڈ سے پہچانا جاتا ہے جیسے شاہد آفریدی بوم بوم سے مشہور ہیں اس لئے میں نے اپی پہلی ویڈیو کا ٹائٹل جانا رکھا۔
روشنی۔ آپ کو نا صرف پاکستان کے لوگ بلکہ باہر ملک رہنے والے بھی پسند کرتے ہیں تو کیا کبھی پاکستان سے باہر جا کر پروگرام کیے ہیں؟
اصغر کھوسو۔ مجھے پاکستان کے علاوہ سعودیہ عرب ، انڈیا ، امریکہ ، کنیڈا اور دوسرے کئی ممالک میں بھی پسند کرتے ہیں کیوں کے وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں ایک انپڑ ھ بندا کتنا خود اعتمادی سے لوگوں کو خوش کرتا ہے تو وہ مجھے اپنی بڑی بڑی تقریبا ت میں بلاتے ہیں جیسے دبئی میں پروگرام کرکے آیا ہوں ۔
روشنی۔ کامیڈی کے ساتھ موسیقی کا شوق کیسے ہوا؟
اصغر کھوسو۔ اس کی ایک اور وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک مزاحیہ فنکار زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹا ہنساکر لطف اندوز کرسکتا ہے تو میں نے سوچا بقایا وقت میں موسیقی سنا کر لوگوں کو خوش کرسکوں کیوں کہ میرے گانوں میں مزاحیہ انداز ہی ہوتا ہے جس سے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔
روشنی۔ دونوں میں آپ کس چیز کو اگے لیکر جائینگے کامیڈی یا موسیقی کو ؟
اصغر کھوسو۔ میری زیادہ توجہ صرف کامیڈی پر ہے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب اصغر کامیڈی چھوڑ دیگا اور موسیکار بن جائیگا مگر یہ بات نہیں ہے مزاحیہ فنکار کی مثال ایسے ہے کہ کھانے کے ساتھ سلاد جہاں دس موسیکار ہیں وہاں ایک مزاحیہ فنکار ضرور ہوتا ہے۔
روشنی۔ آپ اپنی فیملی کو ٹائم کیسے دیتے ہیں کیوں کہ آپ کو پروگرامز میں بھی جانا ہوتا ہے اپنے بچوں پر بھی توجہ دینی ہوتی ہے؟
اصغر کھوسو۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیں خوش کرتا ہے ہنسا تا ہے تو یہ خود بھی بہت خوش ہوگامگر ہمیں پتا ہوتا کہ ہماری زندگی میں کتنی تکلفیں اور مسائل ہوتے ہیں میری بیوی فالج کی پیشنٹ ہے اور میری والدہ شوگر کی پیشنٹ ہیں جب بھی کسی پروگرام میں جانا ہوتا ہے تو ہم مزاحیہ فنکار اپنے دکھ درد تکلیفیں اور غم اپنے گھر میں چھوڑ کر لوگوں کو ہنسانے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور دوسری طرف مجھے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینے ہوتی ہے کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ میں نہ پڑھ سکا مگر میرے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب ہوں ۔
روشنی۔ آپ کو زندگی میں کس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے ؟
اصغر کھوسو ۔ مجھے سب سے زیادہ جو کمی محسوس ہوتی ہے وہ ہے تعلیم کیوں کہ میں پڑھ نہیں سکا جس کا مجھے افسوس ہوتا ہے اس لیے میں سب کو تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہوں اس لیے مجھے پڑھے لکھے لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں ۔
روشنی۔ ہمارے ملک کے بہت نوجوان ایسے ہیں جو کامیڈی میں شوق رکھتے ہیں اور اس ہی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ ان کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
اصغر کھوسو۔ میں یہی کہنا چاہوں گا کہ محنت کریں، لگن سے کام کریں، جستجو جاری رکھیں، اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ دیں اور اپنے والدین کی خدمت کریں ان کی دعائیں لیں اللہ آپ کو ضرور کامیاب کریگا۔
روشنی۔ اصغر آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟
اصغر کھوسو۔ میرا تعلق سندھ کے قدیمی شہر ضلع دادو تعلقہ جوہی کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے (کاچھو) وہاں سے ہے۔
روشنی۔ آپ نے کامیڈی کی دنیامیں کب قدم رکھا ؟
اصغر کھوسو۔ میں بچپن سے ہی شادیوں، جلسوں، ریلیوں اور دوستوں کی چھوٹی چھوٹی محفلوں میں مزاحیہ پراگرامز کرتا تھا اور لوگ مجھے داد دیتے تھے مگر پانچ سال سے اس فن کو میں نے اپنا پیشا بنا لیا ہے ۔
روشنی۔ آپ کو پہلی بار دنیا کے سامنے کس نے متعارف کروایا ؟
اصغر کھوسو۔ میرا ایک دوست تھا غلام شبیر جس نے سوشل میڈیاپرمیری ایک مزاحیہ ویڈیو رکھی اورکافی لوگوں نے مجھے پسندکیااور میری کامیابی کے دروازے کھلنا شروع ہوگئے ۔
روشنی۔ اصغر بھائی جیسا کہ آپ کو سوشل میڈیا سے ہی اتنی مقبولیت ملی ہے تو آپ کے وہاں پر چاہنے والے کتنے ہیں ؟
اصغر کھوسو۔ سوشل میڈیا پر میرے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں کیوں کہ جب بھی میں کوئی ویڈیو رکھتا ہوں تو وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور لوگ دیکھ کر بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔
روشنی۔ ہر انسان پر تنقید ہوتی ہے یقینََ آپ بھی ضرور اس چیز کا نشانہ بنے ہونگے تو کبھی مایوسی ہوئی؟
اصغر کھوسو۔ مایوسی کرنا کفر ہے اور ہر فنکار مشہو ر جب ہوتا ہے اچھا فنکا ربھی جب بنتا ہے جب اس پر تنقید ہوتی ہے اگر سب واہ واہ کرنے والے ہونگے تو انسان کبھی بھی سیکھ نہیں پائے گا میں تو کوشش کرتا ہوں کہ لوگ مجھ پر تنقید کریں تاکہ میں اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرسکوں ۔
روشنی۔ آپ اپنی زندگی میں کس بڑے مزاحیہ فنکار سے متاثر ہوئے ؟
اصغر کھوسو۔ میرے سب سے زیادہ پسندیدہ مزاحیہ فنکار معین اختر صاحب اور عمر شریف ہیں کیوں کہ وہ ایسے فنکار تھے جو کبھی ا سکرپٹ دیکھ کر نہیں بولتے تھے ۔
روشنی ۔ کبھی کوئی ایسا وقت آیا جو آپ ہمت ہار کر بیٹھ گئے؟
اصغر کھوسو۔ ایسا وقت ضرور آتا ہے کیوں کہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو بہت تکلیف پہنچاتے ہیں تو دل کرتا ہے اس کام کو چھوڑ دوں پھر جب اچھے لوگ آکر داد دیتے ہیں تو پھر ساری باتیں بھول جاتا ہوں ۔
روشنی۔ آپ نے اپنی پہلی ویڈیو کا ٹائٹل (جانا) کیوں رکھا؟
اصغر کھوسو۔ جا نا میرا ایک تکیہ کلام ہے کیوں کہ ہر انسان اپنے کسی کوڈ ورڈ سے پہچانا جاتا ہے جیسے شاہد آفریدی بوم بوم سے مشہور ہیں اس لئے میں نے اپی پہلی ویڈیو کا ٹائٹل جانا رکھا۔
روشنی۔ آپ کو نا صرف پاکستان کے لوگ بلکہ باہر ملک رہنے والے بھی پسند کرتے ہیں تو کیا کبھی پاکستان سے باہر جا کر پروگرام کیے ہیں؟
اصغر کھوسو۔ مجھے پاکستان کے علاوہ سعودیہ عرب ، انڈیا ، امریکہ ، کنیڈا اور دوسرے کئی ممالک میں بھی پسند کرتے ہیں کیوں کے وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں ایک انپڑ ھ بندا کتنا خود اعتمادی سے لوگوں کو خوش کرتا ہے تو وہ مجھے اپنی بڑی بڑی تقریبا ت میں بلاتے ہیں جیسے دبئی میں پروگرام کرکے آیا ہوں ۔
روشنی۔ کامیڈی کے ساتھ موسیقی کا شوق کیسے ہوا؟
اصغر کھوسو۔ اس کی ایک اور وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک مزاحیہ فنکار زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹا ہنساکر لطف اندوز کرسکتا ہے تو میں نے سوچا بقایا وقت میں موسیقی سنا کر لوگوں کو خوش کرسکوں کیوں کہ میرے گانوں میں مزاحیہ انداز ہی ہوتا ہے جس سے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔
روشنی۔ دونوں میں آپ کس چیز کو اگے لیکر جائینگے کامیڈی یا موسیقی کو ؟
اصغر کھوسو۔ میری زیادہ توجہ صرف کامیڈی پر ہے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب اصغر کامیڈی چھوڑ دیگا اور موسیکار بن جائیگا مگر یہ بات نہیں ہے مزاحیہ فنکار کی مثال ایسے ہے کہ کھانے کے ساتھ سلاد جہاں دس موسیکار ہیں وہاں ایک مزاحیہ فنکار ضرور ہوتا ہے۔
روشنی۔ آپ اپنی فیملی کو ٹائم کیسے دیتے ہیں کیوں کہ آپ کو پروگرامز میں بھی جانا ہوتا ہے اپنے بچوں پر بھی توجہ دینی ہوتی ہے؟
اصغر کھوسو۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیں خوش کرتا ہے ہنسا تا ہے تو یہ خود بھی بہت خوش ہوگامگر ہمیں پتا ہوتا کہ ہماری زندگی میں کتنی تکلفیں اور مسائل ہوتے ہیں میری بیوی فالج کی پیشنٹ ہے اور میری والدہ شوگر کی پیشنٹ ہیں جب بھی کسی پروگرام میں جانا ہوتا ہے تو ہم مزاحیہ فنکار اپنے دکھ درد تکلیفیں اور غم اپنے گھر میں چھوڑ کر لوگوں کو ہنسانے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور دوسری طرف مجھے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینے ہوتی ہے کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ میں نہ پڑھ سکا مگر میرے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب ہوں ۔
روشنی۔ آپ کو زندگی میں کس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے ؟
اصغر کھوسو ۔ مجھے سب سے زیادہ جو کمی محسوس ہوتی ہے وہ ہے تعلیم کیوں کہ میں پڑھ نہیں سکا جس کا مجھے افسوس ہوتا ہے اس لیے میں سب کو تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہوں اس لیے مجھے پڑھے لکھے لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں ۔
روشنی۔ ہمارے ملک کے بہت نوجوان ایسے ہیں جو کامیڈی میں شوق رکھتے ہیں اور اس ہی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ ان کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
اصغر کھوسو۔ میں یہی کہنا چاہوں گا کہ محنت کریں، لگن سے کام کریں، جستجو جاری رکھیں، اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ دیں اور اپنے والدین کی خدمت کریں ان کی دعائیں لیں اللہ آپ کو ضرور کامیاب کریگا۔
No comments:
Post a Comment