نام:سمبل منظور
ایس پارٹ:3
رول نمبر:2k16-mc-150
نوجوان گلوکار وقار ملاح سے بات چیت
سندھ کے مشھور ضلعہ دادو کا پیدائشی نوجوان گلوکا ر وقار ملاح جنھوں ،نے بچپنں سے ہی گلوکاری کا آغاز کیا ، اور تھوڑے ہی عرصے میں پوری سندھ میں مقبولیت حاصل کرلی. نوجوان گلوکار وقارملاح سے ذاتی زندگی اور فن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں.
سوال: آپ کی پیدا ئش کہاں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کہاں حاصل کی؟
جواب:میری پیدائش میرے ابائی گاؤں دادو میں پہر جلد ہی وہاں سے حیدرآباد چلے آئے اور رہائش اختیار کرلی میراپورا بچپں حیدرآباد میں حاصل کی. اس کے باد انٹر ڈگری کالیج حیدرآباد سے کیا۔
سوال:گلوکاری کی طرف آپ کیسے متوجہ ہوئے؟
جواب: قدرت کی طرف سے ہی میٹھی آواز عطا کی ہوئی تھی اسی وجہ سے بچپں سے ہی اسکول کہ مختلف پروگرامز میں گانا شروع کردیا۔ اور کئی انعامات حاصل کیے.اور اس شئبے میں آنے کے لئے استادون نے محنت کروائی.
سوال: گلوکاری کہ شعبے میں مشکلات درپیش ہوئی؟
جواب: غریب گھر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کافی مشکلات پیش آئی اور ہر کوئی بولتا تھا کہ گلوکاری میں کوئی مستقبل نہیں ہوتاپر میرے والد نے میرا بہت ساتھ دیا۔
سوال: آپ کو گلوکاری میں کونسی شاعری گانا پسند کرتے ہیں؟
جواب:میں ملی نغمے اور قومی ترانے اور رومانوی گیت گانا پسند کرتا ہون۔
سوال: آپ زیادہ تر کس شاعرون کو گنگنانا پسند کرتے ہیں؟
جواب: میں نے اس وقت تک شیخ ایاز،استاد بخاری ، رخسانہ پریت، راشد مورائی، ایازگل، ایوب کھوسہ،آکاش انصاری،لیاقت علی کی شاعری گنگنائی ہے ۔
سوال:کوئی ایسا مقبول گیت جس نے آپ کو ذیادہ مقبولیت دلائی ہو؟
جواب:شاعر مانک ملاح کی شاعری کا گایا ہوا گیت(مٹی منھنجی ماءٌ) سے مجہے شہرت ملی۔
سوال: آپ کہ پسندیدہ فنکار کون سے ہیں؟
جواب: عابدہ پروین، لتا ، صادق فقیر ، شفیع فقیر، منظور سخیرانی۔
سوال: آپ کتنے عرصے سے اس فیلڈ میں ہیں اور کتنے نوجوان آپ کو پسند کرتے ہیں ؟
جواب:میں گذشتہ سات برس سے گلوکاری کی دنیا میں کام کر رہا ہونااور نوجوا ن بہت ذیادہ پسند کرتے ہیں ٹیلیوزن کی دنیا میں کم لیکن سوشل میڈیا پر ذیادہ چاہنے والے ہیں سوشل میڈیا پر ذیادہ چاہنے والے ہیں۔
سوال:گلوکاری کہ حوالے سے کوئی پیغام دینا چاہینگے؟
جواب: گلوکاری کہ حوالے سے میں کھونگا کہ ہمیں اس ترقی کہ دور میں دنیا کہ ساتھ چلنا چاہیے،گلوکاری کبہی ختم نہیں ہوگی، بلکہ یہ بہت آگے تک جائیگی،گلوکاری روح کی راحت ہے، اسے گنگنانے سے دل کو سکون ملتا ہے۔
ایس پارٹ:3
رول نمبر:2k16-mc-150
نوجوان گلوکار وقار ملاح سے بات چیت
سندھ کے مشھور ضلعہ دادو کا پیدائشی نوجوان گلوکا ر وقار ملاح جنھوں ،نے بچپنں سے ہی گلوکاری کا آغاز کیا ، اور تھوڑے ہی عرصے میں پوری سندھ میں مقبولیت حاصل کرلی. نوجوان گلوکار وقارملاح سے ذاتی زندگی اور فن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں.
سوال: آپ کی پیدا ئش کہاں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کہاں حاصل کی؟
جواب:میری پیدائش میرے ابائی گاؤں دادو میں پہر جلد ہی وہاں سے حیدرآباد چلے آئے اور رہائش اختیار کرلی میراپورا بچپں حیدرآباد میں حاصل کی. اس کے باد انٹر ڈگری کالیج حیدرآباد سے کیا۔
سوال:گلوکاری کی طرف آپ کیسے متوجہ ہوئے؟
جواب: قدرت کی طرف سے ہی میٹھی آواز عطا کی ہوئی تھی اسی وجہ سے بچپں سے ہی اسکول کہ مختلف پروگرامز میں گانا شروع کردیا۔ اور کئی انعامات حاصل کیے.اور اس شئبے میں آنے کے لئے استادون نے محنت کروائی.
سوال: گلوکاری کہ شعبے میں مشکلات درپیش ہوئی؟
جواب: غریب گھر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کافی مشکلات پیش آئی اور ہر کوئی بولتا تھا کہ گلوکاری میں کوئی مستقبل نہیں ہوتاپر میرے والد نے میرا بہت ساتھ دیا۔
سوال: آپ کو گلوکاری میں کونسی شاعری گانا پسند کرتے ہیں؟
جواب:میں ملی نغمے اور قومی ترانے اور رومانوی گیت گانا پسند کرتا ہون۔
سوال: آپ زیادہ تر کس شاعرون کو گنگنانا پسند کرتے ہیں؟
جواب: میں نے اس وقت تک شیخ ایاز،استاد بخاری ، رخسانہ پریت، راشد مورائی، ایازگل، ایوب کھوسہ،آکاش انصاری،لیاقت علی کی شاعری گنگنائی ہے ۔
سوال:کوئی ایسا مقبول گیت جس نے آپ کو ذیادہ مقبولیت دلائی ہو؟
جواب:شاعر مانک ملاح کی شاعری کا گایا ہوا گیت(مٹی منھنجی ماءٌ) سے مجہے شہرت ملی۔
سوال: آپ کہ پسندیدہ فنکار کون سے ہیں؟
جواب: عابدہ پروین، لتا ، صادق فقیر ، شفیع فقیر، منظور سخیرانی۔
سوال: آپ کتنے عرصے سے اس فیلڈ میں ہیں اور کتنے نوجوان آپ کو پسند کرتے ہیں ؟
جواب:میں گذشتہ سات برس سے گلوکاری کی دنیا میں کام کر رہا ہونااور نوجوا ن بہت ذیادہ پسند کرتے ہیں ٹیلیوزن کی دنیا میں کم لیکن سوشل میڈیا پر ذیادہ چاہنے والے ہیں سوشل میڈیا پر ذیادہ چاہنے والے ہیں۔
سوال:گلوکاری کہ حوالے سے کوئی پیغام دینا چاہینگے؟
جواب: گلوکاری کہ حوالے سے میں کھونگا کہ ہمیں اس ترقی کہ دور میں دنیا کہ ساتھ چلنا چاہیے،گلوکاری کبہی ختم نہیں ہوگی، بلکہ یہ بہت آگے تک جائیگی،گلوکاری روح کی راحت ہے، اسے گنگنانے سے دل کو سکون ملتا ہے۔
No comments:
Post a Comment