
شام لعل
انسان کی مہنت کبھی راہیگان نہیں جاتی ۔ جب انسان کسی چیز کو پانے کی کوشش کرے تو اس انمول چیز کو
حقیقتن ایک دن ضرور حاصل کر تاہے اور ہر چیز کو پانے میں کئی راستے کانٹے میں آتے ہیں لیکں انسان اپنی قابلیت کے زور سے اسے دور ہٹانے کی کوشش کرتاہے اور اپنا مقصد حاصل کرتا ہے۔ کیونکہ وقت کی دشواری کے آگے ناکام ہونا کسی کفر سے کم نہیں اسی قسم کی دشواری شام لعل کو اپنی زندگی میں دیکھنے کو ملی لیکں کبھی مایوسی کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنایا اور اپنے مقصد کو پانے کی جستجومیں لگے رہے ۔
شام لعل کا تعلق کہاں سے ہے؟
شام لعل کا تعلق لاڑکانہ شہر سے ہے۔ لیکں لاڑکانہ میں بے روزگاری کے باعث شام لعل اور اس کے والد فقیرا نے شہر حیدرآباد کو اپنا مسکن بنایا ۔ شام لعل کے والد نجی فیکٹری میں ملازم تھے ۔لیکں بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اس فیکٹری میں محنت مزدوری کرنے لگے اور اس طرح حیدرآباد میں مستقل رہنے لگے ۔
آپ وکیل کیون بننا چاہتے تھے ؟
میرے والد صاحب بہت غریب تھے تو ہم اپنا گھر بنانے کی کوشش کرتے تو ہمارے پڑوسی ہمیں گھرنہیں بنانے دیتے تھے اور مذمت کرنے پر کئی کئی مہنے میرے والد جیل کاٹ کر آتے تھے میری چھوٹی نازک انکھوں کے لیے یہ سب کچھ دیکھنا بہت بھاری کام تھا اور میرے چھوٹے چھوٹے ہاتھ بھی اپنے والد کی مدد کرنے کے قابل نہ تھے ۔والد کو بار بار جیل ہونے کی باعث والدہ نے گھر کی کفالت کا بیڑا اٹھایا مختلف گھروں میں کھانے پکانے لگی اور انھیں گھروں میں ملاذمت کرنے لگی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں اسکول سے چٹھی کے بعد اپنی مان کو لینے کے لیے گیا تو جس گھر میں میری مان کھانا پکایا کرتی تھی اس گھر میں ایک وکیل رہا کرتا تھااور اس وکیل کو دیکھ کر میرے ذہیں میں یہ خیال آیا کہ کاش میں بھی ایک وکیل بنوں اور اپنے والد کو جیل سے چٹھکارہ دلوا سکو ن ۔دیکھتے ہی دیکھتے میں نے دس جماعت پاس کی اور اس وقت میرے ذہن میں وکالت کا جنون تجاوز کر چکا تھا ۔ایک دن دوبارہ میں اس وکیل کے گھر گیا اور اس وکیل سے اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کا نام آفتاب حاکوم تھا۔آفتاب حاکوم نے مجھ سے معلوم کیا کے آپ تعلیم یافتہ ہو میں نے کہا خدا کے کرم سے میں نے ابھی دس جماعت پاس کی ہے اور پھر آفتاب حاکوم نے مجھے سے کہا کہ آج سے میں تمہیں وکالت کا کام سکھاہوں گا ۔لیکں آفتاب حاکوم نے یہ بھی کہا کہ آج تم وعدہ کرو کہ تم بارہویں جماعت کے بعد وکالت کے لیے داخلہ لو گے مین کالج سے فارغ ہوکر سارا دن اس وکیل آفتاب حاکوم کی خدمت کرتا جس کے نتیجے میں وہ رات میں مجھے ڈان نیوز پیپر دیتا جس کو حاصل کرکے میں خود کو خوش نصیب تصورکرتا اور ساری رات اس اخبار سے لطف اندوز ہوتا اور صبح میں کالج پڑھنے جاتا تھا۔کالج کے بعد میں سارا وقت آفتاب حاکوم کے ساتھ کورٹ کچیری میں اور ان کی خدمت میں گزارتااور ان کے وکالت کے طریقے کو زہن نشیں کرتا تھا ۔بارہویں جماعت کے بعد تاحال میں گھریلو مسائل کے باعث وکالت میں داخلہ نہ لے سکا اور میں نے سٹی کالج کلاتھ مارکیٹ میں بی کا م میں داخلہ لیا۔اور وکالت کا سپنا پورا نہ ہو سکا لیکن میں نے خدا پر بھروسہ رکھا اوریہ عزم کیا کہ ایک دن ضرور وکیل بنوں گا ۔ بی کام کے بعد میں نوکری کی تلاش میں سند ھ کے کئی علاقوں میں بٹھکا لیکن نوکری حاصل نہ کرپایا ۔
وکیل سے ہائی کورٹ کے ملازم کیسے بنے ؟
کہتے ہیں خدا جو کرتے ہیں ہماری بھلائی کے لیے کرتے ہیں ۔ ایک دن میں نوکری کی تلاش کی نیت سے گھر سے نکلاتو پریس کلب کے قریب ہائی کورٹ کا تعمیراتی کام جاری تھا۔ اس وقت وہان ایک ریجسٹرار کھڑا تھا میں نے ان سے نوکری کے حصول کے حوالے سے معلوم کیا تو جنا ب نے بڑے تلخ لہجے میں جواب دیا کہ جب نوکری آئے گی اخبار سے معلوم پڑجائے گا اور اس طریقے سے جھاڑکر مجھے رخصت کیا ۔ آخر ایک دن ہائی کورٹ کی نوکری کے اخبار میں اشتہار آئے اور میں ہائی کورٹ میں اپنے کاغذات کے ساتھ درخواست جمع کروائی۔پھر ایک دن مجھے انٹرویو کال ہوئی میں انٹرویو دنے گیا تو اس وقت رانا بھگوان داس انٹرویو لے رہے تھے میری قابلیت کی چمک کو دیکھتے ہوئے رانا بھگوان داس نے مجھے باہر جانے کو کہا اور دوبارہ کورٹ میں بلا کر کہا کہ congragulations you are appointed for junior clerk at sindh high court اور آپ کا جوائننگ لیٹر آپ کو بھیج دیا جائے گا یہ سن کر مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ایک خواب دیکھ رہا ہو اور لیکن مجھے یقیں نہیں آرہا تھا ۔آخر اس دن احساس ہو ا کہ خد ا نے ہماری سوچ سے بھی بڑھ کر ہمارے لیے سوچا ہوا ہوتا ہے ۔ہائی کورٹ میں بھرتی یہ میرے اکیلے کی جیت نہیں تھی بلکہ میری پوری فیملی کے لیے جیت تھی۔اور اس دن میں نے سیکھا کہ انسان کو اپنے مستقبل کے لیے جستجو کرتے رہنا چاہیے نہ جانے کب اور کہاں اس کی یہ محنت رنگ لے آئے ۔
گھر کے مالی حلات خستہ ہونے کے باوجود وکالت کی ڈگری کیسے حاصل کی ؟
ہائی کورٹ میں ملازمت کے بعد گھر کا بوجھ میرے کندھوں پر اچکاتھا۔لیکن میری زوجہ کو معلوم تھا کے مجھے وکالت کا شوق ہے پھر میری زوجہ نے کہا کہ آ ب آپ کو وکلت کرلینی چاہیے کئی سالوں سے آپ کی تمنا ہے کہ آپ بھی دکالت کریں ۔ میں نے اپنی زوجہ کے کہنے پر وکالت میں داخلہ لیا لیکن دو سال وکالت پڑھنے کے بعد میری والدہ بھی انتقال کرگئی اب اور مزید زمیداریاں میرے سر پر آگئی تھی دو سال کے بعد جب میں نے دوبارہ تیسرا سال وکلت کا پورا کرنا چاہا تو کالج والوں نے کہا کے دو سال کے وقفے کے بعد آپ کو اب دوبارہ وکلت کرنی ہو گی کیونکہ یہ ہماری پالیسی ہے لیکں میں نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ پھر سے تیں سال کی وکالت کی اور اس بار میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ۔
موجودہ وقت میں آپ کیا کررہے ہیں ؟
میں ابھی کورٹ میں ریڈر ہو اور کورٹ کے اندرونی معملات کو چلاتا ہوں اور قوم کے لوگوں کی خدمت کرتا ہون اور سچی لگن سے اپنی زمیداری ادا کرتاہوں اور اگر خدا نے ہمت دی تو ریٹائرمیٹ کے بعد وکالت کی بھی پریکٹس کروں گا
پاکستان کے نوجوانو ں کے لیے پیغام
نوجوانوں کو اپنی شخصیت پانی جیسی بنا نی چاہیے جو کہ اپنا راستہ خود بناتا ہے نہ کہ پتھر کی طرح جو کہ آتے ہوئے پانی کو بھی روک دیتا ہے ہمیں خود میں ایسی قابلییت رکھنی چاہیے کہ ہم اپنا راستہ خود بنائین اور اپنی اندرونی صلاحیتوں کو جاننا چاہیے کہ ہم میں کیا خوبی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔اور اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہیے ۔
شام لعل کا تعلق کہاں سے ہے؟
شام لعل کا تعلق لاڑکانہ شہر سے ہے۔ لیکں لاڑکانہ میں بے روزگاری کے باعث شام لعل اور اس کے والد فقیرا نے شہر حیدرآباد کو اپنا مسکن بنایا ۔ شام لعل کے والد نجی فیکٹری میں ملازم تھے ۔لیکں بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے اس فیکٹری میں محنت مزدوری کرنے لگے اور اس طرح حیدرآباد میں مستقل رہنے لگے ۔
آپ وکیل کیون بننا چاہتے تھے ؟
میرے والد صاحب بہت غریب تھے تو ہم اپنا گھر بنانے کی کوشش کرتے تو ہمارے پڑوسی ہمیں گھرنہیں بنانے دیتے تھے اور مذمت کرنے پر کئی کئی مہنے میرے والد جیل کاٹ کر آتے تھے میری چھوٹی نازک انکھوں کے لیے یہ سب کچھ دیکھنا بہت بھاری کام تھا اور میرے چھوٹے چھوٹے ہاتھ بھی اپنے والد کی مدد کرنے کے قابل نہ تھے ۔والد کو بار بار جیل ہونے کی باعث والدہ نے گھر کی کفالت کا بیڑا اٹھایا مختلف گھروں میں کھانے پکانے لگی اور انھیں گھروں میں ملاذمت کرنے لگی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں اسکول سے چٹھی کے بعد اپنی مان کو لینے کے لیے گیا تو جس گھر میں میری مان کھانا پکایا کرتی تھی اس گھر میں ایک وکیل رہا کرتا تھااور اس وکیل کو دیکھ کر میرے ذہیں میں یہ خیال آیا کہ کاش میں بھی ایک وکیل بنوں اور اپنے والد کو جیل سے چٹھکارہ دلوا سکو ن ۔دیکھتے ہی دیکھتے میں نے دس جماعت پاس کی اور اس وقت میرے ذہن میں وکالت کا جنون تجاوز کر چکا تھا ۔ایک دن دوبارہ میں اس وکیل کے گھر گیا اور اس وکیل سے اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کا نام آفتاب حاکوم تھا۔آفتاب حاکوم نے مجھ سے معلوم کیا کے آپ تعلیم یافتہ ہو میں نے کہا خدا کے کرم سے میں نے ابھی دس جماعت پاس کی ہے اور پھر آفتاب حاکوم نے مجھے سے کہا کہ آج سے میں تمہیں وکالت کا کام سکھاہوں گا ۔لیکں آفتاب حاکوم نے یہ بھی کہا کہ آج تم وعدہ کرو کہ تم بارہویں جماعت کے بعد وکالت کے لیے داخلہ لو گے مین کالج سے فارغ ہوکر سارا دن اس وکیل آفتاب حاکوم کی خدمت کرتا جس کے نتیجے میں وہ رات میں مجھے ڈان نیوز پیپر دیتا جس کو حاصل کرکے میں خود کو خوش نصیب تصورکرتا اور ساری رات اس اخبار سے لطف اندوز ہوتا اور صبح میں کالج پڑھنے جاتا تھا۔کالج کے بعد میں سارا وقت آفتاب حاکوم کے ساتھ کورٹ کچیری میں اور ان کی خدمت میں گزارتااور ان کے وکالت کے طریقے کو زہن نشیں کرتا تھا ۔بارہویں جماعت کے بعد تاحال میں گھریلو مسائل کے باعث وکالت میں داخلہ نہ لے سکا اور میں نے سٹی کالج کلاتھ مارکیٹ میں بی کا م میں داخلہ لیا۔اور وکالت کا سپنا پورا نہ ہو سکا لیکن میں نے خدا پر بھروسہ رکھا اوریہ عزم کیا کہ ایک دن ضرور وکیل بنوں گا ۔ بی کام کے بعد میں نوکری کی تلاش میں سند ھ کے کئی علاقوں میں بٹھکا لیکن نوکری حاصل نہ کرپایا ۔
وکیل سے ہائی کورٹ کے ملازم کیسے بنے ؟
کہتے ہیں خدا جو کرتے ہیں ہماری بھلائی کے لیے کرتے ہیں ۔ ایک دن میں نوکری کی تلاش کی نیت سے گھر سے نکلاتو پریس کلب کے قریب ہائی کورٹ کا تعمیراتی کام جاری تھا۔ اس وقت وہان ایک ریجسٹرار کھڑا تھا میں نے ان سے نوکری کے حصول کے حوالے سے معلوم کیا تو جنا ب نے بڑے تلخ لہجے میں جواب دیا کہ جب نوکری آئے گی اخبار سے معلوم پڑجائے گا اور اس طریقے سے جھاڑکر مجھے رخصت کیا ۔ آخر ایک دن ہائی کورٹ کی نوکری کے اخبار میں اشتہار آئے اور میں ہائی کورٹ میں اپنے کاغذات کے ساتھ درخواست جمع کروائی۔پھر ایک دن مجھے انٹرویو کال ہوئی میں انٹرویو دنے گیا تو اس وقت رانا بھگوان داس انٹرویو لے رہے تھے میری قابلیت کی چمک کو دیکھتے ہوئے رانا بھگوان داس نے مجھے باہر جانے کو کہا اور دوبارہ کورٹ میں بلا کر کہا کہ congragulations you are appointed for junior clerk at sindh high court اور آپ کا جوائننگ لیٹر آپ کو بھیج دیا جائے گا یہ سن کر مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ایک خواب دیکھ رہا ہو اور لیکن مجھے یقیں نہیں آرہا تھا ۔آخر اس دن احساس ہو ا کہ خد ا نے ہماری سوچ سے بھی بڑھ کر ہمارے لیے سوچا ہوا ہوتا ہے ۔ہائی کورٹ میں بھرتی یہ میرے اکیلے کی جیت نہیں تھی بلکہ میری پوری فیملی کے لیے جیت تھی۔اور اس دن میں نے سیکھا کہ انسان کو اپنے مستقبل کے لیے جستجو کرتے رہنا چاہیے نہ جانے کب اور کہاں اس کی یہ محنت رنگ لے آئے ۔
گھر کے مالی حلات خستہ ہونے کے باوجود وکالت کی ڈگری کیسے حاصل کی ؟
ہائی کورٹ میں ملازمت کے بعد گھر کا بوجھ میرے کندھوں پر اچکاتھا۔لیکن میری زوجہ کو معلوم تھا کے مجھے وکالت کا شوق ہے پھر میری زوجہ نے کہا کہ آ ب آپ کو وکلت کرلینی چاہیے کئی سالوں سے آپ کی تمنا ہے کہ آپ بھی دکالت کریں ۔ میں نے اپنی زوجہ کے کہنے پر وکالت میں داخلہ لیا لیکن دو سال وکالت پڑھنے کے بعد میری والدہ بھی انتقال کرگئی اب اور مزید زمیداریاں میرے سر پر آگئی تھی دو سال کے بعد جب میں نے دوبارہ تیسرا سال وکلت کا پورا کرنا چاہا تو کالج والوں نے کہا کے دو سال کے وقفے کے بعد آپ کو اب دوبارہ وکلت کرنی ہو گی کیونکہ یہ ہماری پالیسی ہے لیکں میں نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ پھر سے تیں سال کی وکالت کی اور اس بار میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ۔
موجودہ وقت میں آپ کیا کررہے ہیں ؟
میں ابھی کورٹ میں ریڈر ہو اور کورٹ کے اندرونی معملات کو چلاتا ہوں اور قوم کے لوگوں کی خدمت کرتا ہون اور سچی لگن سے اپنی زمیداری ادا کرتاہوں اور اگر خدا نے ہمت دی تو ریٹائرمیٹ کے بعد وکالت کی بھی پریکٹس کروں گا
پاکستان کے نوجوانو ں کے لیے پیغام
نوجوانوں کو اپنی شخصیت پانی جیسی بنا نی چاہیے جو کہ اپنا راستہ خود بناتا ہے نہ کہ پتھر کی طرح جو کہ آتے ہوئے پانی کو بھی روک دیتا ہے ہمیں خود میں ایسی قابلییت رکھنی چاہیے کہ ہم اپنا راستہ خود بنائین اور اپنی اندرونی صلاحیتوں کو جاننا چاہیے کہ ہم میں کیا خوبی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔اور اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہیے ۔
No comments:
Post a Comment