کرن جیوراج
نام:عنیزہ زاہد
جماعت:BS PART 3
رول نمبر 2K16\MC\112:
ْ انٹر ویو:کرن جیوراج
تھر کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی کرن جیوراج کے بلند حوصلے اورپختہ ارادوں نے یہ بات ثابت کر دی کہ آج کل کے اس دور میں ایک لڑکی بھی لڑکوں کے شانہ بہ شانہ چل سکتی ہے .وہ شعبہ فِزیوتھیراپی کی طلبہ ہونے کے علاوہ کیرئیر کاؤنسلر ، LUMHS FM 96.6کی آر۔جے
او رایک مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ مزید دیگر سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں جواپنے گھر کے بڑے بیٹے کی جگہ اپنے فرائض بہ خوبی سر انجام دے رہی ہیں.
سوال:آپکا تعلق تھرپارکر میں کہاں سے ہے اور ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
جواب:میرا تعلق تھر پارکر کے چھوٹے سے ایک گاؤں کانٹیو سے ہے. میں نے اپنی ابتدائی تعلیم وہاں کے سندھی میڈیم اسکول سے کی اور پھر سندھ بورڈکی پڑھا ئی اِسکالر شپ کی بنیاد پر حیات اسکول سے حاصل کی اور اب LUMHSمیڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ فِزیو تھیراپی میں زیرِتعلیم ہوں.
سوال:ایک چھوٹے سے شھر سے نکل کر اعلی تعلیم حاصل کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب:میں جس گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں وہاں لڑکیاں صرف چولے ہانڈی تک محدود ہیں والدین کی حوصلہ افزائی نے مجھے ان رسومات کے بر خلاف جا کر اعلی تعلیم حاصل کرنے پر عمادہ کیا جس کی وجہ سے لوگوں کی تنقیدیں اور تعنے برداشت کیئے . معاشرے کے مطابق ڈھلنے میں بھی کافی وقت لگا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں ان مشکلات کا سامنا کر کے آگے چلتی چلی گئی.
سوال:کیا پڑھائی کے علاوہ آپ کسی اور سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟
جواب:جی ہاں میں اپنے اسکول میں بہت اچھی debatorرہی باسکٹ بال کی کھلاڑی بھی تھی.یونیورسٹی میں آنے کے بعدمیں اب پبلک اسپیکر اور کیرئیر کاؤنسلر کے نام سے جانی جاتی ہوں.LUMHSیونیورسٹی کےFM 96.6کی نمائندگی بھی کرتی ہوں اور کبھی کبھی تھوڑا بہت لکھ بھی لیتی ہوں.
سوال:اتنی مصروفیت ہونے کے با وجودمیڈیکل جیسی پڑھائی کو کس طرح وقت دیتی ہیں؟
جواب:مجھے اس بات پر فحرہے کہ قدرت نے مجھے ٹائم مینجمینٹ کے ہنر سے نوازہ ہے.سب کو برابر کا وقت دیتی ہوں چاہے وہ دوست ہو یا پڑھائی کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتی . بس تھوڑی نیند کی قربانی دینی پڑتی ہے.
سوال:سوشل لائف کی شروعات کب اور کہاں سے کی ؟
جواب:میری سوشل لائف کا آغاز ۲۰۱۶سے ہوا جب میں پہلی مرتبہ POC کے ٹیسٹ میں اِنوجیلیٹربنی اور پھر ۲۰۱۷ کے بعد یہ سلسلہ مختلف اطوار سے چلتا چلا گیا.
سوال :آپ کن کن اداروں کے ساتھ کام کرتی ہیں؟
جواب:میں حال میں ایچ۔وائے ۔ او (حیدرآباد یوتھ آرگینائیزیشن) ایس۔ٹی ۔ ایس (سندھ ٹیلنٹڈاِسٹوڈینٹ)، پیکٹ PACT(پاکستان اکیڈمک کیر ئیر کاؤنسلنگ اینڈ ٹریننگ)، پی۔ڈبلیو ۔ایس(فِزیکل تھیراپی ویلفئیرسوسائٹی)، این ۔ ٹی ۔ایس (نیشنل ٹیسٹنگ سروس) کے علاوہ مزید چند اداروں کے ساتھ والنٹئیر کے طور پر کام کر تی ہوں.
سوال:کیا حیدرآباد سے با ہر بھی آپ نے کیرئیر کاؤنسلنگ سیشنز کیئے ہیں؟
جواب:جی ہاں میں نے حیدرآباد سے باہر جُڈو، سان، میرپورخاص ،ڈنڈو آدم اور ڈنڈو جام میں مختلف اداروں کے ساتھ کیرئیر کاؤنسلنگ سیشنز کیئے ہیں.
سوال: LUMHS FM 96.6پر نشر ہونے والے آپکے پروگرام کا بنیادی مقصد کیا ہوتا ہے؟
جواب:میرے ان پروگرامز کا مقصدصحت سے آگاہی دینا ہوتا ہے .شوگر،پولیو اور سرطان جیسی بیماریوں کے حوالے سے مختلف سیشنزکی نگرانی کرتی ہوں، ان پر نامور ڈاکٹروں کی رائے اور نظرئیے اکھٹا کر کے احتیاطی تدابیر سے لوگوں کو آگاہ کرتی ہوں.
سوال:سُنا ہے کہ آپ فیشن ڈزائینر بننے کی خواہش رکھتی تھیں تو پھرفزیو تھیراپسٹ کا شعبہ اختیار کرنے کا مقصد؟
جواب:بقول والدین کے خاندان میں ایک ڈاکٹر ہونا ضروری تھا جو ان کے لیئے فخر کا بائث بن سکے .والدین کی خواہش کواپنے شوق پر ترجیح دی اور نا چاہتے ہوئے بھی اس شعبہ میں قدم رکھا .
سوال:کہتے ہیں کہ انسان کو جس چیز کا شوق ہو تو وہ اس میں بہترین کارکردگی دکھاتا ہے لیکن یہ شعبہ تو آپ کے والدین کی پسند ہے تو کیا آپکو لگتا ہے کہ آپ اس شعبہ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھا رہی ہیں؟
جواب: جب میں سوچتی ہوں کہ ہاں میں کر سکتی ہوں تو پھر میرے لیئے کوئی چیز مشکل نہیں رہتی .لوگ سمجھتے ہیں کہ فزیو تھیراپی اور مالیشائی کا کام مشترکہ ہوتا ہے پر میرا ماننا ہے کہ جہاں دوائی بے اثر ہوجاتی ہے وہاں ہمارا کام شروع ہوتا ہے اور اسی حقیقت کی وجہ سے میری دل چسپی اسکی طرف مزید بڑھ گئی ہے جبہی پچھلے دو سال سے اس شعبہ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھا کر ٹاپ فرسٹ طلبہ کے اعزاز سے نوازی جا رہی ہوں.
سوال:کیا اس شعبہ میں آنے کے بعد آپ نے اپنی فیش ڈزائنر بننے کی خواہش کو بلکل ہی ترک کردیا؟
جواب:نہیں میں اپنے اس شوق کو عام زندگی میں بھی لے کر چلتی ہوں .اسے پورا کرنے کے لیئے کہیں نہ کہیں سے وقت نکال لیتی ہوں.میں نے فیشن ڈزائیننگ میں رنگوں والا سے ۲ ماہ کا ڈپلومہ بھی کیا ہوا ہے.اسکرین پرنٹنگ ،بلاک پرنٹنگ اور ربن فلاورنگ بہت اچھے سے کر لیتی ہوں.
سوال:آپ کی کتاب ’دا ویلیو ایبل جیم اِسٹون‘لکھنے کا کیا مقصد تھا؟
جواب:میرا کتاب لکھنے کا مقصد میرے دوستوں کی جدائی کے بعد مجھ پر جو اکیلا پن اور تنہائیکا دور گزرا اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا تھا.
سوال:ابھی بھی کسی کتاب پر کام کر رہی ہیں یا آگے لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟
جواب:جی ہاں میں ابھی اپنی کتاب ’دا ویلیو ایبل جیم اِسٹون‘کے پارٹ ۲ پر کام کر رہی ہوں جو پہلے پارٹ سے بہت مختلف ہوگی.
سوال:کیا زندگی کا ابھی بھی کوئی ایسا مقصد ہے جسے پورا کرنے کی جستجو ہو؟
جواب:میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں اپنے بل بوتے پر والدین کو بیرونِ ملک سیر کرواؤں تاکہ وہ بھی میری طرح ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر آگے کی دنیا دیکھیں.
سوال:آخر میں نوجوانوں کو کوئی پغام دینا چاہینگی؟
جواب:بس یہ کہنا چاہونگی کہ ہمیشہ وہ کام کرو جس میں آپکو خوشی ملے .اپنے شوق کو کبھی معاشرے کی نظر نہ کرو کیونکہ زندگی بہت چھوٹی ہے اسے بھر پور جی کر اسکا حق ا دا کرو.
نام:عنیزہ زاہد
جماعت:BS PART 3
رول نمبر 2K16\MC\112:

تھر کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی کرن جیوراج کے بلند حوصلے اورپختہ ارادوں نے یہ بات ثابت کر دی کہ آج کل کے اس دور میں ایک لڑکی بھی لڑکوں کے شانہ بہ شانہ چل سکتی ہے .وہ شعبہ فِزیوتھیراپی کی طلبہ ہونے کے علاوہ کیرئیر کاؤنسلر ، LUMHS FM 96.6کی آر۔جے
او رایک مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ مزید دیگر سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں جواپنے گھر کے بڑے بیٹے کی جگہ اپنے فرائض بہ خوبی سر انجام دے رہی ہیں.
سوال:آپکا تعلق تھرپارکر میں کہاں سے ہے اور ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
جواب:میرا تعلق تھر پارکر کے چھوٹے سے ایک گاؤں کانٹیو سے ہے. میں نے اپنی ابتدائی تعلیم وہاں کے سندھی میڈیم اسکول سے کی اور پھر سندھ بورڈکی پڑھا ئی اِسکالر شپ کی بنیاد پر حیات اسکول سے حاصل کی اور اب LUMHSمیڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ فِزیو تھیراپی میں زیرِتعلیم ہوں.
سوال:ایک چھوٹے سے شھر سے نکل کر اعلی تعلیم حاصل کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب:میں جس گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں وہاں لڑکیاں صرف چولے ہانڈی تک محدود ہیں والدین کی حوصلہ افزائی نے مجھے ان رسومات کے بر خلاف جا کر اعلی تعلیم حاصل کرنے پر عمادہ کیا جس کی وجہ سے لوگوں کی تنقیدیں اور تعنے برداشت کیئے . معاشرے کے مطابق ڈھلنے میں بھی کافی وقت لگا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں ان مشکلات کا سامنا کر کے آگے چلتی چلی گئی.
سوال:کیا پڑھائی کے علاوہ آپ کسی اور سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟
جواب:جی ہاں میں اپنے اسکول میں بہت اچھی debatorرہی باسکٹ بال کی کھلاڑی بھی تھی.یونیورسٹی میں آنے کے بعدمیں اب پبلک اسپیکر اور کیرئیر کاؤنسلر کے نام سے جانی جاتی ہوں.LUMHSیونیورسٹی کےFM 96.6کی نمائندگی بھی کرتی ہوں اور کبھی کبھی تھوڑا بہت لکھ بھی لیتی ہوں.
سوال:اتنی مصروفیت ہونے کے با وجودمیڈیکل جیسی پڑھائی کو کس طرح وقت دیتی ہیں؟
جواب:مجھے اس بات پر فحرہے کہ قدرت نے مجھے ٹائم مینجمینٹ کے ہنر سے نوازہ ہے.سب کو برابر کا وقت دیتی ہوں چاہے وہ دوست ہو یا پڑھائی کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتی . بس تھوڑی نیند کی قربانی دینی پڑتی ہے.
سوال:سوشل لائف کی شروعات کب اور کہاں سے کی ؟
جواب:میری سوشل لائف کا آغاز ۲۰۱۶سے ہوا جب میں پہلی مرتبہ POC کے ٹیسٹ میں اِنوجیلیٹربنی اور پھر ۲۰۱۷ کے بعد یہ سلسلہ مختلف اطوار سے چلتا چلا گیا.
سوال :آپ کن کن اداروں کے ساتھ کام کرتی ہیں؟
جواب:میں حال میں ایچ۔وائے ۔ او (حیدرآباد یوتھ آرگینائیزیشن) ایس۔ٹی ۔ ایس (سندھ ٹیلنٹڈاِسٹوڈینٹ)، پیکٹ PACT(پاکستان اکیڈمک کیر ئیر کاؤنسلنگ اینڈ ٹریننگ)، پی۔ڈبلیو ۔ایس(فِزیکل تھیراپی ویلفئیرسوسائٹی)، این ۔ ٹی ۔ایس (نیشنل ٹیسٹنگ سروس) کے علاوہ مزید چند اداروں کے ساتھ والنٹئیر کے طور پر کام کر تی ہوں.
سوال:کیا حیدرآباد سے با ہر بھی آپ نے کیرئیر کاؤنسلنگ سیشنز کیئے ہیں؟
جواب:جی ہاں میں نے حیدرآباد سے باہر جُڈو، سان، میرپورخاص ،ڈنڈو آدم اور ڈنڈو جام میں مختلف اداروں کے ساتھ کیرئیر کاؤنسلنگ سیشنز کیئے ہیں.
سوال: LUMHS FM 96.6پر نشر ہونے والے آپکے پروگرام کا بنیادی مقصد کیا ہوتا ہے؟
جواب:میرے ان پروگرامز کا مقصدصحت سے آگاہی دینا ہوتا ہے .شوگر،پولیو اور سرطان جیسی بیماریوں کے حوالے سے مختلف سیشنزکی نگرانی کرتی ہوں، ان پر نامور ڈاکٹروں کی رائے اور نظرئیے اکھٹا کر کے احتیاطی تدابیر سے لوگوں کو آگاہ کرتی ہوں.
سوال:سُنا ہے کہ آپ فیشن ڈزائینر بننے کی خواہش رکھتی تھیں تو پھرفزیو تھیراپسٹ کا شعبہ اختیار کرنے کا مقصد؟
جواب:بقول والدین کے خاندان میں ایک ڈاکٹر ہونا ضروری تھا جو ان کے لیئے فخر کا بائث بن سکے .والدین کی خواہش کواپنے شوق پر ترجیح دی اور نا چاہتے ہوئے بھی اس شعبہ میں قدم رکھا .
سوال:کہتے ہیں کہ انسان کو جس چیز کا شوق ہو تو وہ اس میں بہترین کارکردگی دکھاتا ہے لیکن یہ شعبہ تو آپ کے والدین کی پسند ہے تو کیا آپکو لگتا ہے کہ آپ اس شعبہ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھا رہی ہیں؟
جواب: جب میں سوچتی ہوں کہ ہاں میں کر سکتی ہوں تو پھر میرے لیئے کوئی چیز مشکل نہیں رہتی .لوگ سمجھتے ہیں کہ فزیو تھیراپی اور مالیشائی کا کام مشترکہ ہوتا ہے پر میرا ماننا ہے کہ جہاں دوائی بے اثر ہوجاتی ہے وہاں ہمارا کام شروع ہوتا ہے اور اسی حقیقت کی وجہ سے میری دل چسپی اسکی طرف مزید بڑھ گئی ہے جبہی پچھلے دو سال سے اس شعبہ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھا کر ٹاپ فرسٹ طلبہ کے اعزاز سے نوازی جا رہی ہوں.
سوال:کیا اس شعبہ میں آنے کے بعد آپ نے اپنی فیش ڈزائنر بننے کی خواہش کو بلکل ہی ترک کردیا؟
جواب:نہیں میں اپنے اس شوق کو عام زندگی میں بھی لے کر چلتی ہوں .اسے پورا کرنے کے لیئے کہیں نہ کہیں سے وقت نکال لیتی ہوں.میں نے فیشن ڈزائیننگ میں رنگوں والا سے ۲ ماہ کا ڈپلومہ بھی کیا ہوا ہے.اسکرین پرنٹنگ ،بلاک پرنٹنگ اور ربن فلاورنگ بہت اچھے سے کر لیتی ہوں.
سوال:آپ کی کتاب ’دا ویلیو ایبل جیم اِسٹون‘لکھنے کا کیا مقصد تھا؟
جواب:میرا کتاب لکھنے کا مقصد میرے دوستوں کی جدائی کے بعد مجھ پر جو اکیلا پن اور تنہائیکا دور گزرا اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا تھا.
سوال:ابھی بھی کسی کتاب پر کام کر رہی ہیں یا آگے لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟
جواب:جی ہاں میں ابھی اپنی کتاب ’دا ویلیو ایبل جیم اِسٹون‘کے پارٹ ۲ پر کام کر رہی ہوں جو پہلے پارٹ سے بہت مختلف ہوگی.
سوال:کیا زندگی کا ابھی بھی کوئی ایسا مقصد ہے جسے پورا کرنے کی جستجو ہو؟
جواب:میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں اپنے بل بوتے پر والدین کو بیرونِ ملک سیر کرواؤں تاکہ وہ بھی میری طرح ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر آگے کی دنیا دیکھیں.
سوال:آخر میں نوجوانوں کو کوئی پغام دینا چاہینگی؟
جواب:بس یہ کہنا چاہونگی کہ ہمیشہ وہ کام کرو جس میں آپکو خوشی ملے .اپنے شوق کو کبھی معاشرے کی نظر نہ کرو کیونکہ زندگی بہت چھوٹی ہے اسے بھر پور جی کر اسکا حق ا دا کرو.
No comments:
Post a Comment