Monday, 9 April 2018

Ahtisham Shoukat Profile MA





نام: محمد احتشام شوکت
کلاس: MA Previous
رول نمبر: MMC2K18-21
پروفائل: راشد شکور

بے زبان نوجوان ہمت اور حوصلہ کی مثال
اگر بات کی جائے محرومی کی جو انسان کے بس میں نہیں اﷲ کی طرف دی ہوئی ہوتی ہے لیکن ہمیں مایوس نہیں ہوناچاہیے اور اﷲ کے ہر فیصلہ پر شکر ادا کرنا چاہیے کیونہ جب اﷲ اپنی ایک رحمت سے مایوس کرتا ہے تو بدلے میں ہمیں (10) دس رحمتیں عطا کر تا ہے۔
راشد شکور 44 سالہ نوجوان جو اپنی مثال اپ ہے یہ نوجوان حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد 11 نمبرمیں رہائش پذیر ہے ۔پیدائشی گونگا بہرہ ہے لیکن اس شخص نے کبھی اپنی محرومی کو مجبوری نہیں بنائی بلکہ ہمت بنائی بچپن ہی سے بہت محنتی اور حوصلہ مند رہا اور 15 برس کی عمر سے کمانا شروع کر دیا۔ 14 سال تک حیدرآباد ٹاور مارکیٹ میں ٹرک لوڈنگ کی مزدوری کی وہاں سے مزدوری کے کے کچھ پیسے جمع کر کے ایک Suzuki خریدی اور Suzuki ڈرائیور کا پیشہ اپنالیا اور کئی بار راشد شکور کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آئے۔
2010 میں کراچی ہائی وے پر Accident پیش آیا جس میں راشد شکور بہت شدید زخمی ہوا اور گونگا بہرہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگوں کو کچھ نہیں بتا سکا جو اسکی مدد کو آئے تھے وہ لوگ بار بار اسکے گھر اور رشتے داروں کا پتہ کر رہے تھے آخر کسی نہ کسی طرح سے تفتیشی آفیسر کی محنت سے دو دن کے بعد اسکا گھر کا پتہ لگا ہی لیا اور اسے گھر پہنچا دیا۔
کچھ دنوں بعد جیسے ہی راشد شکور صحتیاب ہوا اور پھر اپنے روزگار کے لیے جانے لگا لیکن اس حادثہ کے بعد راشد شکور نے اپنے پاس موبائل فون رکھنا شروع کر دیا۔ لوگ اس کے پاس موبائل فون دیکھ کر حیرت میں آجاتے ہیں کہ گونگا بہرہ فون پر کیسے بات کرے گا ؟ نو اس نوجوان نے اسکا بھی حل نکال رکھا ہیجب اس کے پاس کسی شخص کی کال آتی ہے تو وہ اپنے قریبی ساتھی یا دوست سے بات کروا دیتا ہے اور اسکا دوست اسکی زبان میں اسے سمجھا دیتا ہے اس طرح راشد شکور کو ایک نام ور ڈرائیور کی مقبولیت مل گئی جو اب پورے لطیف آباد میں راشد گونگا ڈرائیور کے نام سے جانا جاتا ہے ۔جدید ٹیکنانوجی کی وجہ سے اب راشد شکور کی ذیادہ تر بکنگ موبائل فون پر آتی ہے لیکن اس شخص نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور ہر مشکل وقت نے اسے مزید حوصلہ مند بنایا۔
راشد شکور کی پانچ بیٹیاں ہیں جس کی کفالت وہ خود محنت مزدوری کر کے کرتا ہے" اس نوجوان کا کہنا ہے کہ اﷲ کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاؤ" راشد شکور کی طرح اسکے بیوی اور بچے بھی بہت صبر اور شکر کرنے والوں میں سے ہیں اور اگر کبھی کسی مجبوری کے تحت گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تو یہ کسی سے بھیگ مانگنے کے بجائے بھوکے سو جانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔اس گونگے اور بہرے نوجوان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کوئی امیر شخص ایک غریب کی غربت ختم کردے یہ ممکن نہیں کیونکہ انسان خود ہی محنت کر کے اپنی غربت ختم کر سکتا ہے کیونکہ محنت میں عظمت ہے ۔


No comments:

Post a Comment