نسیم اختر مغل
M.M.C/2K18/27 انٹرویو
موسیقی ایک بڑا علم ہے اور سیکھے بنا ہم نہیں گا سکتے۔تنویر آفریدی
تنویر آفریدی موسیقی کی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ گائیگی کے پیشے میں بھی انہوں نے طبع آز مائی کی ، بنیادی طور پر وہ میوزک کمپوزر ہیں ۔ ان کی مشہور البم "گڈی " تھی اور بسنت کے حوالے سے ان کا ایک گانا " گڈی میری " بھی کافی عرصہ مقبول رہا۔ باقی ان کی زندگی کے متعلق اس انٹر ویو میں جانتے ہیں ۔
س: اپنی ابتدائی زندگی کے متعلق بتائیں ، بچپن کہاں اور کیسا گزرا؟
جواب: میری جائے پیدائش حیدرآباد سندھ ہے۔ ریلوے کالونی سے ملحقہ کچی آبادی میں ہمارا ذاتی مکان تھا۔ ٹرین جب اسٹیشن پر رکتی تو ہماری چا ر پائیاں لرز اٹھتیں۔ ابا کی محدود آمدنی تھی جس سے سب بچوں کو پالا۔ ابتدائی تعلیم حالی روڈ پر واقع گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی گول بلڈنگ کے قریب اسکول سے میٹرک مکمل کیا۔ اس بعد ہم حیدرآباد سے کراچی شفٹ ہو گئے تو باقی تعلیم کراچی سے مکمل کی۔ بچپن بہت خوبصورت تھا ۔ سادہ طرز زندگی، نہ انٹر نیٹ نہ فیس بک نہ موبائل نہ موبائل چھیننے والے، کشادہ سڑکیں ٹھنڈی ہوائیں۔ سب کھلے دل سے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔
س: گائیگی کے پیشے میں کب اور کیسے آئے؟ شوق یا اتفاقیہ؟
جواب: جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتفاقیہ آئے وہ پھر اپنے گانے گاتے بھی خود ہیں سنتے بھی خود ہیں میرے نزدیک موسیقی ایک بڑا علم ہے۔ تو میں با قاعدہ اس طرف آیا۔ حیدرآباد ریڈیو اسٹیشن پر چائلڈ آر ٹسٹ تھا ۔آوازیں بدل کر پیروڈی کر لیتا تھا ۔موسیقی میٹرک کے بعد کراچی آکر سیکھی۔
س: کن استادوں کے زیر تربیت رہے؟
جواب: اصل حقیقت تو یہ ہے کہ میں گلوکار مشہور تو ہو گیا میری ترتیب کمپوزر کی ہے۔ استاد نثار بزمی میرے استاد ہیں استاد ذوالفقارنے مجھے ہارمونیم کی ترتیب دی تھی ۔ مسعود خان شیلو بھائی سے بھی میں نے کافی سیکھا۔
س: اب تک کتنے البمز ریلیز ہو چکے ہیں؟
جواب: ایک لڑکا آوارہ ، جٹی لے گئی میرا دل ، گڈی ۔
س: شوبز انڈسٹری کے دو بڑے مراکز کراچی اور لاہور ہیں ، تو آپ کے خیال میں حیدرآباد جیسے نسبتاً چھوٹے شہر سے آنے والے فنکاروں کو کیا مشکلات پیش آتی ہیں؟
جواب: دیکھیں جی پوری دنیا میں جو بھی آرٹسٹ ہوتا ہے اسے آگے بڑھنے کیلئے اپنا ٹاؤن چھوڑنا ہی پڑتا ہے ۔ چھوٹے شہروں میں ذرائع ابلاغ محدود ہوتا ہے۔ نام بنانے کیلئے محنت اور انتظار تو کرنا پڑتا ہے مشکلات ہر جگہ ہوتی ہیں۔ لیکن اپنے کام کو اچھے طریقے سے پروموٹ کر کے آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
س: آواز اور سر قدرتی تحفہ ہیں یاکوشش کر کے سیکھی جا سکتی ہیں؟
جواب: آواز قدرت کا تحفہ ہوتی ہے ، باقی سر اور لے کو سیکھا جاتا ہے۔ اگر آپ کی آواز اچھی ہے تو آپ ریاضت سے اچھے معیار پر لاسکتے ہیں سریلا ہو نا بھی تربیت سے مشروط ہے۔
س: موسیقی یا گائیگی کے فروغ کیلئے پاکستان میں کیا کام ہو رہا ہے؟
جواب: دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ پاکستان میں موسیقی کیلئے کوئی کام نہیں ہو رہا، اس میں بہت سے عوامل ہیں ٹی وی انٹر ٹینٹمنٹ چینل کا سارا رجحان ڈراموں کی طرف ہو گیا ہے۔ سارا نظام کارپوریٹ سیکٹر کے ماتحت ہو گیا ہے ۔ پچھلے پندرہ سالوں میں 20 پاکستانی گانے بھی ہٹ نہیں ہوئے۔
س: پاکستان میں گلوکاری کا شعبہ جس طرح تنزلی کا شکار ہو چکا ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بطور ذریعہ معاش اس کو پروفیشن بنانا درست ہے؟
جواب: اس شعبے میں تنزلی ہو چاہے لاء اینڈ آرڈر ہو ہمارا تو یہی شوق ہے یہی اوڑھنا بچھونا ہے جن کو موسیقی سے محبت ہے، شوق ہے وہ اپنا کام کرتے رہیں گے۔
س: آپ کو اپنے آبائی شہر حیدرآباد میں کام کرنے کا موقع ملے تو کیا کرنا چاہیں گے؟
جواب: مجھے اپنے آبائی شہر حیدرآباد کی خوشبو نہیں بھولتی، حیدرآباد علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ اب بھی ہم جو بھی کر رہے ہیں جہاں بھی کر رہے ہیں اپنے شہر حیدرآباد کا نام روشن کر رہے ہیں اور آئندہ یہاں آکر بھی کام کرنا چاہیں گے۔
س: نئی نسل میں سے کوئی گائیگی کی فیلڈ میں آنا چاہے تو ان کے لئے کوئی مشورہ یا پیغام؟
جواب: نئی نسل کو یہی کہنا چاہو ں گا کہ اپہلے اپنی تعلیم مکمل کریں پھر کوئی اکیڈمی جوائن کریں تربیت حاصل کریں، مکمل عبور ہوگا تو یہ کامیاب ہو سکیں گے۔
M.M.C/2K18/27 انٹرویو
موسیقی ایک بڑا علم ہے اور سیکھے بنا ہم نہیں گا سکتے۔تنویر آفریدی
تنویر آفریدی موسیقی کی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ گائیگی کے پیشے میں بھی انہوں نے طبع آز مائی کی ، بنیادی طور پر وہ میوزک کمپوزر ہیں ۔ ان کی مشہور البم "گڈی " تھی اور بسنت کے حوالے سے ان کا ایک گانا " گڈی میری " بھی کافی عرصہ مقبول رہا۔ باقی ان کی زندگی کے متعلق اس انٹر ویو میں جانتے ہیں ۔
س: اپنی ابتدائی زندگی کے متعلق بتائیں ، بچپن کہاں اور کیسا گزرا؟
جواب: میری جائے پیدائش حیدرآباد سندھ ہے۔ ریلوے کالونی سے ملحقہ کچی آبادی میں ہمارا ذاتی مکان تھا۔ ٹرین جب اسٹیشن پر رکتی تو ہماری چا ر پائیاں لرز اٹھتیں۔ ابا کی محدود آمدنی تھی جس سے سب بچوں کو پالا۔ ابتدائی تعلیم حالی روڈ پر واقع گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی گول بلڈنگ کے قریب اسکول سے میٹرک مکمل کیا۔ اس بعد ہم حیدرآباد سے کراچی شفٹ ہو گئے تو باقی تعلیم کراچی سے مکمل کی۔ بچپن بہت خوبصورت تھا ۔ سادہ طرز زندگی، نہ انٹر نیٹ نہ فیس بک نہ موبائل نہ موبائل چھیننے والے، کشادہ سڑکیں ٹھنڈی ہوائیں۔ سب کھلے دل سے ایک دوسرے سے ملتے تھے۔
س: گائیگی کے پیشے میں کب اور کیسے آئے؟ شوق یا اتفاقیہ؟
جواب: جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اتفاقیہ آئے وہ پھر اپنے گانے گاتے بھی خود ہیں سنتے بھی خود ہیں میرے نزدیک موسیقی ایک بڑا علم ہے۔ تو میں با قاعدہ اس طرف آیا۔ حیدرآباد ریڈیو اسٹیشن پر چائلڈ آر ٹسٹ تھا ۔آوازیں بدل کر پیروڈی کر لیتا تھا ۔موسیقی میٹرک کے بعد کراچی آکر سیکھی۔
س: کن استادوں کے زیر تربیت رہے؟
جواب: اصل حقیقت تو یہ ہے کہ میں گلوکار مشہور تو ہو گیا میری ترتیب کمپوزر کی ہے۔ استاد نثار بزمی میرے استاد ہیں استاد ذوالفقارنے مجھے ہارمونیم کی ترتیب دی تھی ۔ مسعود خان شیلو بھائی سے بھی میں نے کافی سیکھا۔
س: اب تک کتنے البمز ریلیز ہو چکے ہیں؟
جواب: ایک لڑکا آوارہ ، جٹی لے گئی میرا دل ، گڈی ۔
س: شوبز انڈسٹری کے دو بڑے مراکز کراچی اور لاہور ہیں ، تو آپ کے خیال میں حیدرآباد جیسے نسبتاً چھوٹے شہر سے آنے والے فنکاروں کو کیا مشکلات پیش آتی ہیں؟
جواب: دیکھیں جی پوری دنیا میں جو بھی آرٹسٹ ہوتا ہے اسے آگے بڑھنے کیلئے اپنا ٹاؤن چھوڑنا ہی پڑتا ہے ۔ چھوٹے شہروں میں ذرائع ابلاغ محدود ہوتا ہے۔ نام بنانے کیلئے محنت اور انتظار تو کرنا پڑتا ہے مشکلات ہر جگہ ہوتی ہیں۔ لیکن اپنے کام کو اچھے طریقے سے پروموٹ کر کے آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔
س: آواز اور سر قدرتی تحفہ ہیں یاکوشش کر کے سیکھی جا سکتی ہیں؟
جواب: آواز قدرت کا تحفہ ہوتی ہے ، باقی سر اور لے کو سیکھا جاتا ہے۔ اگر آپ کی آواز اچھی ہے تو آپ ریاضت سے اچھے معیار پر لاسکتے ہیں سریلا ہو نا بھی تربیت سے مشروط ہے۔
س: موسیقی یا گائیگی کے فروغ کیلئے پاکستان میں کیا کام ہو رہا ہے؟
جواب: دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ پاکستان میں موسیقی کیلئے کوئی کام نہیں ہو رہا، اس میں بہت سے عوامل ہیں ٹی وی انٹر ٹینٹمنٹ چینل کا سارا رجحان ڈراموں کی طرف ہو گیا ہے۔ سارا نظام کارپوریٹ سیکٹر کے ماتحت ہو گیا ہے ۔ پچھلے پندرہ سالوں میں 20 پاکستانی گانے بھی ہٹ نہیں ہوئے۔
س: پاکستان میں گلوکاری کا شعبہ جس طرح تنزلی کا شکار ہو چکا ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بطور ذریعہ معاش اس کو پروفیشن بنانا درست ہے؟
جواب: اس شعبے میں تنزلی ہو چاہے لاء اینڈ آرڈر ہو ہمارا تو یہی شوق ہے یہی اوڑھنا بچھونا ہے جن کو موسیقی سے محبت ہے، شوق ہے وہ اپنا کام کرتے رہیں گے۔
س: آپ کو اپنے آبائی شہر حیدرآباد میں کام کرنے کا موقع ملے تو کیا کرنا چاہیں گے؟
جواب: مجھے اپنے آبائی شہر حیدرآباد کی خوشبو نہیں بھولتی، حیدرآباد علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ اب بھی ہم جو بھی کر رہے ہیں جہاں بھی کر رہے ہیں اپنے شہر حیدرآباد کا نام روشن کر رہے ہیں اور آئندہ یہاں آکر بھی کام کرنا چاہیں گے۔
س: نئی نسل میں سے کوئی گائیگی کی فیلڈ میں آنا چاہے تو ان کے لئے کوئی مشورہ یا پیغام؟
جواب: نئی نسل کو یہی کہنا چاہو ں گا کہ اپہلے اپنی تعلیم مکمل کریں پھر کوئی اکیڈمی جوائن کریں تربیت حاصل کریں، مکمل عبور ہوگا تو یہ کامیاب ہو سکیں گے۔
No comments:
Post a Comment