Tuesday, 10 April 2018

Sadaf Interview BS



انٹرویو





ڈاکٹر اللہ بخش میمن 
دنیاں میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو انسانوں کو اہمیت دیتے ہیں مگر بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو جانوروں سے محبت کرتے ہیں جن میں سے ایک نام ڈاکٹر اللہ بخش میمن کا ہے جن کی پیدائش ماری گاؤں ڈسٹرک شکار پور میں ہوئی انہوں نے اپنی پرائمری ایجوکیشن گاؤں ماری میں ہی حاصل کی اور چھٹی کلاس سے لیکر میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 2 ڈسٹرک شکارپور سے کیا اور SCSمیڈیکل سائنس ڈگری کالج سے کیا اور اگے کی تعلیم سندھ ایگریکلچر یونیو رسٹی ٹنڈو جام سے حاصل کی یونیورسٹی سے بطور فرسٹ پروفیشنل DVM(Doctor of Veterinary Medicien)ڈگری حاصل کی اور پھر سرجری MACاور PHDڈگری حاصل کی ۔ 
ڈاکٹر صاحب آپ نے اس کے علاوہ آپنے کہیں بیرونے ملک تعلیم حاصل کی ؟ 
جی ہاں میں ٹریننگ کیلئے بیرونے ملک بھی گیا ہوں جہاں میں نے اپنی ٹریننگ مکمل کی اور وہاں ٹریننگ بھی دی بیرونے ملک میں Cardiac Surgeryکیلئے گیا تھا خاص طور پر چوہے (Mouse)کی Cardiac Surgery کیلئے ۔ 
آپ نے وہاں کس طرح کی ٹریننگ حاصل کی اور کتنے ملکوں کا دوہرا کیا ؟ 
میں نے وہاں پر Existential Therapyکی ٹریننگ حاصل کرنے جرمنی گیا تھا پھر وہاں سے فرانس پھر سیوزیلنٹ پھر وہاں سے PARAK(ایران کا شہر ہے)پھر Nigerlandاور شہنگائی میں جتنے ملک آتے ہیں میں نے وہاں پر تعلیم کے مقصد کیلئے گیا تھا 
آپ نے جانوروں کے ڈاکٹر کا شعبہ کیوں منتخب کیا ؟ 
جو بھی طالبعلم ہوں چاہے انجینئرینگ کا ہو یا میڈیکل سائنس کا اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹر یا انجینئر بنے اگر وہ نہیں بن پاتا تو وہ سیکنڈ آپشن رکھتا ہے پر میری فرسٹ چوائس یہ ہی تھی کہ میں Veterian بنوں اورخوش قسمتی سے بن گیا ۔ 
آپ کے علاوہ آپ کے گاؤں سے اور بھی کوئی اس شعبہ میں تھا ؟
میں اپنے گاؤں کا پہلا بندا ہوں جس نے بطور Veterianجوائن کیا باقی نے مجھے دیکھ کر اس فیلڈ میں آئے۔ میرے پاس ایک ہی وقت میں دو چوائس تھی یا تو میں Veterianڈاکٹر بن کے سروس دوں یا پھر یونیورسٹی جوائن کروں Public Service Commissionمیں بھی بطور Veterian آفیسر پاس کیا اور سلیکشن بورڈ کے زریعہ بطور لیکچرار سندھ ایگرکلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام میں بھی سلکٹ ہو ا تھا اور میں نے سندھ ایگریکلچ یونیورسٹی میں ٹیچنگ کرنے کا فیصلا کیا ۔ 
تو آپ یونیورسٹی میں کونسا مضمون پڑھاتے ہیں ؟ 
جیسا کہ میں نے سرجیکل ڈپارٹمنٹ میں MSCکی تو میں نے پڑھانے کیلئے بھی سرجری کا مضمون منتخب کیا اور 27سال ہو چکے ہیں میں وہاں سرجری ڈپارٹمنٹ میں پڑھا رہا ہوں ۔ 
کیا قاسم آباد کے علاوہ بھی اور دوسری کلینک میں بیٹھ تے ہیں آپ ؟ 
جی ہاں میری ایک کلینک ٹنڈو جام میں بھی ہے ٹنڈو جام میں 27سال سے سروس دیتا رہا ہوں پبلک بھی اور پرائیوٹ بھی ٹنڈو جام میں بھی بڑے جانوروں کا علاج کیا جاتا ہے اور گھر بھی جا کر علاج کرتاہوں۔
آپ اس کے علاوہ کسی اور شعبہ میں خدمت انجام دی ہے ؟ 
میں پورا دن اپنی ہی فروفیشن میں کام کرتا ہوں صبح سے دن تک یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں اور شام میں کسی اور شعبہ میں کام کرنے کے بجائے اپنی ہی فیلڈ میں سروس دینا پسند کرتا ہوں اور میرے ساتھ میرے دوسرے بھی دوست پڑھاتے ہیں پر انہوں نے مختلف شعبہ میں کام کرنے کو ترجع پر میں نے اپنے ہی پروفیشن میں سروس دینا کو پسند کیا یا ایسا سمجھیں کے یہ میرا جنون ہے اور شوق ہے کے میں Veterinaryفروفیشن میں کام کروں اور جہاں تک جانوروں کی علاج کی بات ہے تو جب تک ان کی میں خد مدد نہیں کرتا تب تک مجھے سکون نہیں ملتا ۔ 
کیا آپ شام میں اپنی کلینک میں اپنے طلب علم کو سپر وائس کرتے ہیں ؟ 
جی نہیں میں چاہوں تو Veterinaryکلینک چلا سکتا ہوں اور میرے طالب علم میرے سپر ویزن میں کام کریں پر میری روح کو سکون نہیں ملتا جب تک میں یہ کام خد نہ کروں اور یہ سب میں پیسہ کمانے کیلئے نہیں کرتا یہ سب میں اپنے شوق سے کرتا ہوں ۔ 
آپ صرف پالتو جانوروں کا ہی علاج کیوں کرتے ہیں ؟ 
طاقت ور کی تو ہر کوئی مدد کرتا ہے اُبھرنے والے سورج کو ہر کوئی سلام کرتا ہے جو گرے ہوئے کو اُٹھائے وہ اصل خدمت ہے اس لئے میں سوچتا ہوں کتا وہ واحد جانوار ہے جس سے انسان نفرت کرتا ہے خاص طور پر پاکستان میں اس کو جس طرح سے ٹریٹ کیا جاتا ہے اگر کوئی 21گریڈ کا پروفیسر ایسے جانوروں کو سروس دیگا تو میں سوچتا ہوں کے لوگوں کا نظریہ بدل جائے ۔ 
آپ کو کیا لگتا ہے آپ لوگوں میں کیسے احساس دیلا سکتے ہیں ؟ 
میرے پاس جو ٹولس موجود ہیں وہ یہ ہے کہ جو میرے طالب علم اور Veterianہیں اُن سے انٹرکٹ کرتا ہوں اُن کی سیاسی اورشعوری ایکٹیوٹیز میں شامل ہوتا ہوں طالب علم سے میرا ڈائریکٹ انٹریکشن ہوتا ہے تو میں اپنی ٹیچنگ اور پریچنگ کو استعمال کرتا ہوں اور اپنے طالب علم کی اخلاقی تعلیم پر ضرور نظر ڈالتا ہوں ۔ 
کمیونیکشن کیلئے آپ کیا استعمال کرتے ہیں؟ 
میں میڈیا الیکٹرونکس میڈیا اور پیپر میڈیا کو بھی ٹول کے طور پر استعمال کرتا ہوں کہ معاشرے میں آہستہ آہستہ ترقی ہوگی کہ آج دس لوگ ہیں تو کل بیس لوگ ہونگے اسی طرح معاشرے میں ترقی آئی گی ضروری نہیں کہ میری سوچ ہر کوئی مانے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میری سوچ کو لیکر کوئی اور اس میں ایمپرومنٹ لائے اور کوئی نہ کوئی طالب علم اور معاشرے کا طبقہ نکل پڑھے اور اس میں مدد کریں ۔ 
آپ کیا سمجھتے ہیں شیلٹر فوڈ اور ہیلتھ کیئر کے بندوبس ہو نا چاہیے؟ 
پاکستان میں سوائے کتے اور بلے کے علاوہ ہر جانور کو فوڈ شلٹر اور ہیلتھ کیئر مہیا ہے صرف یہ ہی دو جانور ہیں جن کیلئے کوئی سہولت ہیں ڈپارٹمنٹ جو اتنے سالوں سے کام کر رہا ہے اُن کے پاس ویکسینیشن پروگرام بھی نہیں ہیں ۔ 
آپ نے اور اس کے علاوہ کون کون سی کامیابی حاصل کی ؟ 
میں واحد Veterianہوں جس کو یہ مواقع ملا کہ سرجری کی فیلڈ میں کام کروں ۔ 
الٹراسونو گرافی ایک نیو فیلڈ ہے اور میں پہلا الٹرا سونو لوجسٹ ہوں اور الٹرا سونوگرافی آرام سے کرلیتا ہوں ۔ 
اپنے ڈپارٹمنٹ میں میں پہلا شخص ہوں جس نے ریڈیو گرافی جو کہ ایک نئی فیلڈ ہے اُسے استعمال کیا اور پڑھایا بھی اور اپنی کلینک میں بھی استعمال کرتا ہوں ۔ 
Anesthesiaبیسک ٹول ہے ہر آپریشن کا Anesthesiaمشین ہمارے پاس تھی پر استعمال میں نہیں آتی تھی کیوں کہ کوئی ٹیکنیکل بندا نہیں تھا جو اسے چلا سکے میں نے Anesthesiaمشین کو اسٹارٹ کیا اور اپنے ڈپارٹمنٹ میں بھی انٹروڈیوس کروایا اور اس میں دوسرے Veterianکو M Philبھی کروایا ۔ 
میں پہلا سرجن ہوں جس نے ہیومن سرجنس کے ساتھ ہارٹ ٹرانسپلاسٹیشن کر چکاہوں اور کٹنی ٹرانسپلاسٹیشن اور Cardiacسرجری بھی کی ہے جانوروں پر اور بطور Veterianمیں حصہ لیا ۔ 
Laparoscopicسرجری ایک نئی فیلڈ ہے جو Veterniaryسائٹ پے ابھی معتارف نہیں ہوئی اور میں واحد سرجن ہوں جس نے Laparoscopicسرجری پاکستان میں ہیومن سرجن کے ساتھ کی ہے اور لیاقت نیشنل ہسپتال میں ڈاکٹرز کے ساتھ کام کرتا رہا ہوں جو بھی نئی چیز جونسن اینڈ جونسن متعارف کرواتے ہیں لوگوں کیلئے وہ میں جانوروں پر استعمال کرتا ہوں۔
ڈاکٹر صاحب کوئی پیغام دیں؟ 
صرف کتے بلی بھی نہیں بلکے سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ہمیں سب کی قدر کرنی چاہیے اور اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ ہر مخلوق کی اُتنی ہی عزت کریں اور اُتنی ہی قدر کریں جتنا وہ خد کیلئے چاہتا ہے اور یہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے کس کو کب موت دے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی کو مارنے والے یا کسی کی موت طے کرنے والے ۔

No comments:

Post a Comment