Tuesday, 10 April 2018

Jahanzaib Interview BS



تحریر جہانزیب خان
بی ایس پارٹ 3
رول نمبر 130
انٹرویو 
شیخ آصف اقبال ظہوری گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج لطیف آباد میں مطالعہ پاکستان کے لیکچرار ہیں اور سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری ہیں یہ 15اگست 1979 میں حیدرآباد کے ضلعہ کی تحصیل لطیف آباد میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام شیخ صلاح الدین ہیں جن کا تعلق ضلع گڑگاں بھارت سے ہے_ پروفیسر آصف نے مطالعہ پاکستان کے متعلق کئی کتابیں لکھی ہیںآپ کے میڈیکل اسٹورز اور بک ڈبو ظہوری کے نام سے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں مشہور ہیں


س: آج کل کے دور میں کافی لوگ ڈاکٹری یا انجینئرنگ کرنا پسند کرتے ہیں پھر آپ نے ٹیچینگ کے شعبہ کو کیوں ترجیح دی؟
ج: یہ بچپن میں میرا شوق بھی رہا ہے اور میرے والدین کی خواہش بھی تھی اور آج کے دور کے مطابق سب سے بہترین کام پڑھانا ہے_کیونکہ ہم اس سے اپنے ملک کا مستقبل سنوار سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو سدھار بھی سکتے ہیں اور اپنے آپ کو بھی ذہنی طور پر فٹ سمجھتے ہیں اسلیے اس ٹیچنگ کے شعبے کو ترجیح دی گئی اور میرے والدین کا شوق تھا کے میں ڈاکٹر یا انجینئرنگ کے شعبے میں تعلیم حاصل کروں لیکن میرا ذہن اور دلچسپی ٹیچنگ کے طرف تھی اور آج اس مقام پر ہوں اور میرے والدیں نے بھی مجھے اپنے حال پر چھوڑا کے کس طرف دھیان ہے تو آج میرے والدین بھی خوش ہیں 

س ۔ آپ کے نزدیک پڑھانہ مشکل ہے یا پڑھنا؟
ج: دونوں کاموں میں کوئی مشقت نہیں ہے ۔ اگر دھیان اور لگا پڑھائی کی طرف نہیں ہے تو پڑھنا اور پڑھانا ایک بوجھ لگتا ہے لیکن میرے نزدیک استاد پڑھانے میں اپنے آپ کو زیادہ واقف کرتے ہیں ۔ میں پڑھانے کو نہیں بلکہ پڑھنے پر ترجیح دیتا ہوں، کیونکہ پڑھنے سے دل و دماغ تازہ رہتا ہے اور آج کے اس دور میں پڑھنے پر کم پڑھانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور میرا شوق بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کروں اس لیے میرا آج بھی وہی شوق ہے کے میں مختلف کتابیں ، اخبارات ، میگزین اور معلوماتی کتابیں پڑھتا ہوں 

س:آپ مطالعہ پاکستان کے سبجیکٹ کو یونیورسٹی اور کالج کے مقام پر کس نظریے سے دیکھتے ہیں؟

ج: مطالعہ پاکستان دونوں مقامات پر ایک اہم سبجیکٹ ہے ۔ کالج میں عموما طالب علم اس کی اہمیت پر توجہ نہیں دیتے ۔ حالانکہ مطالعہ پاکستان کی ضرورت ( سی ایس ایس ) اور کئی امتحانات میں درپیش ہوتی ہے ۔اور مطالعہ پاکستان ایک تاریخ کو اجاگر کرتا ہے کے پاکستان کس طرح وجود میں آیا اسلیے زیادہ مطالعہ پاکستان کی اہمیت حاصل ہے 


س: کالج لیول پر فیورٹزم کا کیا زور ہے عموما یونیورسٹی میں اس چیز کا بہت رحجان ہے ؟
ج: یہ ایک قسم کی وبا ہے جو آج کے طالب علموں میں تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ جو طالب علم دل لگا کر پڑھتے ہیں وہ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتے کالجوں میں فیورٹزم جیسا کچھ نہیں ہوتا اور جہاں تک میرا خیال ہے یونیورسٹی میں بھی ایسا کچھ نہیں ہوتا


س: دن بہ دن گورنمنٹ کالجز اور اسکولز ویران ہوتے جارہے ہیں اور نجی تعلیمی ادارے ترقی پارہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟
ج: گورنمنٹ کالجز کی ویرانی کی ایک وجہ بچوں کے والدین ہیں جو ان پر توجہ نہیں دیتے ۔ کثیر تعداد میں داخلے ہوتے ہیں پر چند طالبات کالجز میں نظر آتے ہیں جس کے باعث کالجز ویرانی کا شکار ہیں ۔ جبکہ اسکولز میں کوئی ویرانی نہیں ہوتی بچے باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ جہاں تک بات ہے نجی تعلیمی اداروں کی تو یہ بھی نیچے کی طرف جارہے ہیں ۔ کیونکہ ادھر کورس تو بہت اونچے درجہ کا استعمال کیا جاتا ہے,مگر پڑھانے والے اساتذہ اتنے قابل نہیں ہوتے_اگر یہی بچے گورنمنٹ کالجز میں باقاعدگی سے پڑھیں تو انہیں نجی تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ حکومت سندھ کو بھی چاہیئے کے اس طرح خصوصا توجہ دیں کافی تعداد میں گورنمنٹ اسکولز اور کالجز میں بہتری آئی ہے جس سے نجی اسکولز اور کالجز کو بڑا فرق پڑا ہے لیکن مزید توجہ اور عملدرآمد کی ضرورت کرنی پڑے گی جس سے غریب سے غریب طر والدین باآسانی اپنے بچے کو بہترین قسم کی اعلی تعلیم دلانے میں کردار ادا کریں گے 

س: پاکستان کے مطالعہ کا شعور ہم طالبعلموں کے اندر کس طرح اجاگر کر سکتے ہیں؟
ج: پاکستان کا ماضی سمجھانے کے لیے حال پر تبصرہ کریں۔طالب علموں میں ایک قوم ہونے کا احساس بیدار کریں۔پھیلتی ہوئی لسانیت کو روکیں۔طالب علموں کو اِس بات کا احساس دلائیں کہ ہمارے بزگوں نے کتنی قربانیاں دے کر پاکستان کو آزاد مملکت کی حیثیت سے نوازا اور آج کے دور میں ہمارے اِس ملک کی کیا حالت ہو رہی ہے۔اِس بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کیلئے ان میں جذبہ محبت اجاگر کریں اور پاکستان کی آزادی سے لیکر آج تک کا صفر پڑھنا ہوگا تاکہ ان کو مطالعہ پاکستان سے ہر چیز کا جواب مل جائے گا 

س: آپ کے خیال سے طالب علموں کو سیاست میں آنا چاہیے؟
ج: طالب علوں کو پڑھائی کے دوران سیاست سے بلکل کنارہ شی اختیار کر لینی چاہیے۔قائداعظم نے بھی اچھے طالب علموں کو پڑھائی کے دوران سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔پاکستان کی ترقی کے لئے نوجوان نسل کو پہلے پڑھائی پھر سیاست وغیرہ جیسی چیزوں میں اپنا قدم بڑھانا چاہیے۔

س: نقل کا رجحان دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اس کے خاتمے کے لئے کوئی تجویز؟
ج: میرے نزدیک نقل کے رجحان میں بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ طالب علموں کے والدین ہیں جو پیسہ کھیلا کر اساتذہ کو مجبور کرتے ہیں کہ بچے کو نقل کرنے دیں۔سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کو نقل سے روکنا چاہئے اور دوسری طرف حکومت کو چاہئے کہ nts کے طرز پر امتحانات لئے جائیں۔

س: آپ آج اِس مقام پر ہیں اِس کا کریڈٹ کس کو دینا چاہیں گے؟
ج: یہ ایک قسم کی وبا ہے جو آج کے طالب علموں میں تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ جو طالب علم دل لگا کر پڑھتے ہیں وہ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتے کالجوں میں فیورٹزم جیسا کچھ نہیں ہوتا اور جہاں تک میرا خیال ہے یونیورسٹی میں بھی ایسا کچھ نہیں ہوتا


س: دن بہ دن گورنمنٹ کالجز اور اسکولز ویران ہوتے جارہے ہیں اور نجی تعلیمی ادارے ترقی پارہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟
ج: گورنمنٹ کالجز کی ویرانی کی ایک وجہ بچوں کے والدین ہیں جو ان پر توجہ نہیں دیتے ۔ کثیر تعداد میں داخلے ہوتے ہیں پر چند طالبات کالجز میں نظر آتے ہیں جس کے باعث کالجز ویرانی کا شکار ہیں ۔ جبکہ اسکولز میں کوئی ویرانی نہیں ہوتی بچے باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ جہاں تک بات ہے نجی تعلیمی اداروں کی تو یہ بھی نیچے کی طرف جارہے ہیں ۔ کیونکہ ادھر کورس تو بہت اونچے درجہ کا استعمال کیا جاتا ہے,مگر پڑھانے والے اساتذہ اتنے قابل نہیں ہوتے_اگر یہی بچے گورنمنٹ کالجز میں باقاعدگی سے پڑھیں تو انہیں نجی تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ حکومت سندھ کو بھی چاہیئے کے اس طرح خصوصا توجہ دیں کافی تعداد میں گورنمنٹ اسکولز اور کالجز میں بہتری آئی ہے جس سے نجی اسکولز اور کالجز کو بڑا فرق پڑا ہے لیکن مزید توجہ اور عملدرآمد کی ضرورت کرنی پڑے گی جس سے غریب سے غریب طر والدین باآسانی اپنے بچے کو بہترین قسم کی اعلی تعلیم دلانے میں کردار ادا کریں گے 

س: پاکستان کے مطالعہ کا شعور ہم طالبعلموں کے اندر کس طرح اجاگر کر سکتے ہیں؟
ج: پاکستان کا ماضی سمجھانے کے لیے حال پر تبصرہ کریں۔طالب علموں میں ایک قوم ہونے کا احساس بیدار کریں۔پھیلتی ہوئی لسانیت کو روکیں۔طالب علموں کو اِس بات کا احساس دلائیں کہ ہمارے بزگوں نے کتنی قربانیاں دے کر پاکستان کو آزاد مملکت کی حیثیت سے نوازا اور آج کے دور میں ہمارے اِس ملک کی کیا حالت ہو رہی ہے۔اِس بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کیلئے ان میں جذبہ محبت اجاگر کریں اور پاکستان کی آزادی سے لیکر آج تک کا صفر پڑھنا ہوگا تاکہ ان کو مطالعہ پاکستان سے ہر چیز کا جواب مل جائے گا 

س: آپ کے خیال سے طالب علموں کو سیاست میں آنا چاہیے؟
ج: طالب علوں کو پڑھائی کے دوران سیاست سے بلکل کنارہ شی اختیار کر لینی چاہیے۔قائداعظم نے بھی اچھے طالب علموں کو پڑھائی کے دوران سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔پاکستان کی ترقی کے لئے نوجوان نسل کو پہلے پڑھائی پھر سیاست وغیرہ جیسی چیزوں میں اپنا قدم بڑھانا چاہیے۔

س: نقل کا رجحان دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اس کے خاتمے کے لئے کوئی تجویز؟
ج: میرے نزدیک نقل کے رجحان میں بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ طالب علموں کے والدین ہیں جو پیسہ کھیلا کر اساتذہ کو مجبور کرتے ہیں کہ بچے کو نقل کرنے دیں۔سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کو نقل سے روکنا چاہئے اور دوسری طرف حکومت کو چاہئے کہ nts کے طرز پر امتحانات لئے جائیں۔

س: آپ آج اِس مقام پر ہیں اِس کا کریڈٹ کس کو دینا چاہیں گے؟
ج: میں اِس کا کریڈٹ اپنے اساتذہ اور والدین کو دینا چاہوں گا جن کی بدولت میں آج کسی کو کچھ سیکھانے کے لائق بنا ہوں اور میرا تمام اسٹوڈنٹس سے بھی امید کرتا ہوں کے اپنے اساتذہ اکرام اور والدین کا احترام کریں عزت کے ساتھ پیش آئیں گے جس جگہ آج اس مقام پر ہوں وہ بھی اس مقام کی بلندی پر ہونگے

No comments:

Post a Comment