Showing posts with label Noorulain. Show all posts
Showing posts with label Noorulain. Show all posts

Sunday, 22 April 2018

Noorulain Revised Feature BS


میرا یہ ٹاپک 14مارچ 2018 کو تبدیل کیا گیا ،سَر سانگی کی اجازت سے۔
نورالعین انصاری
بی ایس پارٹ
رول نمبر: 80
فیچر: آج کل کی نوجوان نسل اور فیشن
تنگ چوڑی دار پتلون پر لمبی لمبی کمیزیں زیب تن کئے ، رخ پر ڈالی ہوئی کالی لمبی زلفوں کو سمیٹتے ہوئے، رنگین ناخونوں والے خوبصورت ہاتھ۔ ہائے بیڑا غرق ہو فیشن تیرا تو نے اچھے خاصے مرد کو کیا بنا دیا۔ 
جی ہاں میں بات کر رہی ہوں آج کل کی نوجوان نسل اور انکے فیشن کے بارے میں۔ بلا شبہ نوجوان نسل کا تعلق مالدار گھرانے سے ہو یا تنگدست گھرانے سے وہ اپنے معیار اور حیثیت کے مطابق فیشن پرستی کی
جستجو میں لگے ہی رہتے ہیں۔
بقول مقید علی نامی شخص کے آج کل کی زیادہ تر نوجوان نسل فیشن ٹرینڈ کا نام لے کر اس طرح کے لباس زیب تن کئے گھومتے ہیں ، جیسے دوسرے سیارے کے لوگ ہماری دنیا میں ہجرت کر کے آگئے ہوں۔
جب میں نے آج کل کی نوجوان نسل اور فیشن کے بارے میں ایک زاہد نامی بزرگ محترم سے دریافت کرنا چاہا تو ان کے چہرے کے تاثرات کچھ اس طرح کے تھے گویا میں نے کئی سالوں سے ان کے دلوں دماغ میں موجود کسی پریشانی کا ذکر چھیڑ دیا ہو۔بقول محترم کے نوجوان نسل نے فیشن کو صرف عجیب و غریب کپڑوں کی حدود تک ہی محدود نہیں کر رکھا بلکہ ان پر ہر چیز میں فیشن کا جنون سوار رہتا ہے۔ چاہے وہ سائیکل ہو،گاڑی ہو،موبائل فون ہو، بناؤسنگار کا سامان ہو، کھانے پینے کی اشیاء4 ہو، یا حتیٰ کہ بال تراشی کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وہ حجام کے پاس گئے ہوں اور آدھی بال تراشی کے بید ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے ہوں لہذا وہ آدھا سَر منڈوا کر گھومنا شروع کرنے لگے۔
آج کل کی نوجوان نسل اور ان کے فیشن کا ذکر چل رہا ہے تو میرے ذہن میں میرے پھوپھا عبدالقیوم خان کے ساتھ حیدآباد کے ایک شادی حال میں پیش آنے والا واقعہ یاد آیا تو سوچا آپ سب کو بیان کرتی چلوں۔ آج سے تقریباً ساتھ ماہ پہلے کی بات ہے۔ پھوپھا سے تقریب میں چھوٹے بالوں والی پینٹ شرٹ زیب تن کی ہوئی سیدھے ہاتھ میں مردانہ گھڑی پہنے ایک لڑکی ملنے آئی ،آتے ہی اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ، پھوپھا نے لڑکا سمجھ کر ہاتھ ملا یا اور گلے لگانے آگے بڑھے کے برابر میں موجود ان کے بیٹے نے انہیں اس بات سے آگاہ کیا کے وہ لڑکی ہے۔ محض اس صورتِ حال کے بعد ان کا صرف یہی کہنا تھا کہآگ لگے ایسے فیشن کو جس میں نوجوان کی جنس کو پہچاننے کے لئے اپنی بینائی پر زور اور دماغ پر غور ڈالنا پڑے، کہ آیا مرد ہے یا عورت۔
جب میں نے بلال نامی لمبی زلفوں والے فیشن ایبل نوجوان سیمعلوم کیا کے انہیں فیشن ٹرینڈ کی پیروی(follow) کر کے کیسا محسوس ہوتا ہے تو بلال کا کہنا تھا کہ فیشن کر کے اس کے دل کو سکون اور روح کو قرار ملتا ہیاور فیشن کر کے گھومنے سے لوگ انہیں دیکھ کر کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ جب کے مجھے ایسا لگتا ہے کہ لوگ انہیں عجوبا سمجھ کر دیکھتے ہوں گے نہ ان کی طرف مائل ہوتے ہوں گے۔
حتٰی کیبڑھے بڑھے برانڈز بھی فیشن پرستی کا نام دیکر اپنے ماڈلز کو اس طرح کے کٹے ہوئے، پھٹے ہوئے کپڑے زیب تن کروا کر والک کرواتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے کچھ دیر قبل ہی ان کے ماڈلز کا مقابلہ کسی شیر یا چیتے سے ہوا ہو ان کے کپڑوں کا یہ حال ان جانوروں نے ہی کیا ہو جس کے بعد انہیں سیدھا ریمپ پر ماڈلنگ کرنے بھیج دیا گیا ہے۔ 

Saturday, 7 April 2018

Noorulain Profile BS


نورالعین انصاری
بی ایس پارٹ 3
رول نمبر: 80
پروفائل: جہانزیب خان (ویڈیو ایڈیٹر)


محنت میں عظمت ہے یہ محاورہ ہم بچپن سے ہی سنتے آرہے ہیں لیکن جہانزیب خان اس محاورے کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔یہ نہ صرف ایک اچھے ویڈیو ایڈیٹر ہیں بلکہ ایک بہترین انسان، دوست اور استاد بھی ہیں۔
جہانزیب خان کا تعلق حیدرآباد سیہے۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کامران ہائی اسکول سے حاصل کی اور انٹر سیفی کالج سے2014 میں کیا۔ جہانزیب خان کے والد عقیل احمد خان پوسٹ آفس میں بطور پیون اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انکے گھر کے حالات خاصے اچھے نہ تھیلیکن والد نے انکی اچھی تعلیم کے لئے پارٹ ٹائم ملازمت کر کے انکے اخراجات اٹھائے۔ جہانزیب خان کا پڑھائی کی طرف کچھ خاص لگاؤ نہ تھا۔ لیکن والد کے خوابوں کی تعبیر کے لئے وہ کوشش کرتے رہے۔
جہانزیب نے اپنے بچپن کو عام بچوں کے مقابلے مختلف گزارہ۔ جہانزیب کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی پتنگ بازی نہیں کی، نہ ہی انکی شامیں دوستوں کے ساتھ گزریں، اور نہ ہی کبھی راتوں کو آوارہ گردی کے لئے نکلے۔ جہانزیب اپنی محنت سے اپنے والد کا سہارہ بننا چاہتے تھے اور اپنے گھر کے حالات بدلنا چاہتے تھے۔ چناچہ آٹھ سال کی عمر میں جہانزیب نے اپنے گھر کے حالات بدلنے کے خاطر پہلا قدم اٹھایا۔
جہانزیب کا رجحان کمپیوٹر کی جانب تھا۔ والد صاحب زیادہ واسائل نہ ہونے کی وجہ سے بیٹے کا یہ شوق پورا نہ کرسکے تو جہانزیب خان طیب کمپلکس میں کسی کمپیوٹر کی دکان پر پچاس روپے ہفتہ وار کام کرنے لگے۔ اور کمپیوٹر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگے۔ انکے والد انکی کامیابی کے خواب آنکھوں میں سمائے ہوئے تھے۔ غربت کے باوجود انکی تعلیم میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دے رہے تھے۔ لیکن انٹر مکمل کرنے کے بعد جہانزیب خان نے والد صاحب سے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا اور آگے پڑھنے سے انکار کردیا۔ اور کمپیوٹر کے شعبے کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ انکے والد مایوس ہوگئے۔
جہانزیب کا کہنا ہے کہ تعلیم چھوڑ کر کمپیوٹر کی فیلڈ میں جانے کے فیصلے سے انکے گھر والے ان سے ناراض تھے۔ لیکن جہانزیب نے ہمت نہ ہاری۔ اور اپنی محنت، لگن اور جنون سے خود کو منوایا۔ اب ان کے والد ام کے ہنر کو سمجھنے لگے تھے اور انہیں ویڈیو ایڈیٹنگ کی مکمل تعلیم حاصل کرنے کے لئے ارینہ ملٹی میڈیا کے ادارے میں داخلہ کروایا لیکن وہاں کی فیس ان کی پہنچ سے دور تھی۔ ان کے والد نے کسی سے ادھار لے کر داخلہ کروایا لیکن آگے کی فیس کیلئے جہانزیب نے ایک ہسپتال میں ہیلپ ورکر کی نوکری کی اور اپنی فیس ادا کی۔
جہانزیب خان نے صرف چھ ماہ میں ہی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دیکھانے شروع کر دیے تھے۔ اور اب جہانزیب خود بھی ارینہ ملٹی میڈیا میں ہی استد کے فرایض انجام دینے لگے اور اپنے جونیئرز کو وڈیو ایڈیٹنگ سکھانا شروع کرچکے تھے۔ جہانزیب خان کا ایڈیٹنگ کی دنیا میں ایک اچھا نام ہوتا جانے لگا تھا۔ انکی بہترین کارکردگی کی وجہ سے انہیں پرائم مینسٹر یوتھ اسکیم کے تحت گرافکس اور ایڈیٹنگ پڑھانے کا موقع ملا۔ جس کے ذریعے انہوں نے دس ہزار ماہانہ کمائے۔
جاہنزیب نے شیب گلوب سافٹ ویئر ہاؤس میں ایڈیٹنگ کی انٹرنشب کرکیاپنی صلاحتیوں کو مزید نکھارا۔ اپنے والد کی مالی مدد کرنے کے لئے آن لائن کام بھی شروع کیا، انھوں نے آن لائن کام فری لانسر پر شروع کیا جہاں پہلا کوئسیٹ دس ہزار ڈالر کا جیتا، پھر آہستہ آہستہ اس سے کمانے لگے اور اپنے والد کی مدد کرنے لگے۔
جہانزیب خان آج حیدرآباد کے بیسٹ ایڈیٹرز میں سے ایک ہیں۔ 2017 میں پریس کلب میں انہیں بیسٹ ایڈیٹر کا خطاب بھی ملا۔ ایڈیٹنگ کی دنیا میں اب جہانزیب خان جے کے ڈیزائنگ(J.K DESIGNING) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
بہت ہی کم عمر میں جہانزیب خان نے اپنا نام اپنی محنت سے بنایا ہے، انکی عمر صرف اکیس سال ہے۔ جاہنزیب آج کی نوجوان نسل کے لئے ایک بہترین مثال ہیں۔

تحریر: نورالعین انصاری۔

Monday, 19 March 2018

Noorulain BS Interview



نورالعین انصاری
بی ایس پارٹ ۳
رول نمبر : ۰۸
انٹرویو:              ایوننگ ڈائریکٹر آف انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن

              پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاہ
تعارف: جس طرح والدین کا سایہ بچوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح ایک استاد بچوں کے لئے والدین کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایک اچھا استاد نہ جانے کتنے ہی شاگردوں کو فرش سے اٹھا کر عرش تک پہنچاتاہے۔ایسے ہی ایک استاد پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاہ جن کا تعلق سندھ کے گوشے مٹیاری سے ہے۔ 20 مئی1971ئ میں پیدا ہوئے۔ 1995ئ میں جامعہ سندھ کے شعبہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے ایم۔بی۔اے کر کے 1995ئ سے ہی انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے طلبہ کو پڑھا کر اپنے فرائض باخوبی انجام دے رہے ہیں۔ 
سوال: سَر آپ کے کرئیر کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟
جواب: میں ایم۔بی۔اے کرنے کے بعد جب میں ڈگری کا انتظار کر رہا تھا تو اس دوران کراچی چلے گیا تھا۔ ایک پرائیوٹ کمپنی میں نوکری کر نے، ابھی مجھےوہاں نوکری کرتے ایک مہینہ بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ مجھے جامعہ سندھ کے شعبہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر انور شاہ کی کال آئی اور مجھے جامعہ سندھ میں پڑھانے کے لیے بلایا گیا چونکہ میری بی۔بی۔اے میں تیسری پازیشن تھی چناچہ میرے ایم،بی،اے کے نتائج کا انتظار کئے بنا مجھے جاب مل گئی۔ جبکہ میری پڑھانے کی بلکل خواہش نہ تھی۔میرا شروع سے ذہن بینک میں نوکری کرنے کا تھا۔ لیکن مجھے پڑھانا اچھا لگنے لگا تو میں نے اسے ہی جاری رکھنے کا فیصلہ لیا۔ جون 1995ئ میں مجھےاسسٹنٹ پروفیسر کی پوسٹ ملی، 1996ئ میں میں مستقل لیکچرر بن گیا اور دو مہینے پہلے میں نون اور ایوننگ کا ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا ہوں۔
سوال: سَر آپ نے کبھی سوچا تھا کہ آپ ڈائریکٹر کے عہدے کی خدمات سرانجام دیں گے؟
جواب: خدا کی طرف سے ہوتا ہے جو ہوتا ہے۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ٹیچنگ کی طرف جانے کا،آج میرے کرئیر کے 22 ، 23 سال گزر گئے پڑھاتے ہوئے۔ شاید شروع کے پانچ سال بعد میں نے سوچا کہ میں کسی بینک میں میں چلے جاتا ہوں لیکن میں گیا نہیں اور آج میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ مجھے تعلیمِ ادارے میں ہی رکھا۔کیونکہ اب میرے نزدیک میرے لیے اس سے بہتر کوئی اور دوسرا شعبہ نہیں ہے۔
سوال:سَر ایک ڈائریکٹر جیسے بڑے عہدے کو سنھبالنا کتنی بڑی ذمہ داری ہے؟
جواب: دراصل یہ کوئی بڑی ذمہداری نہیں ہے۔اگر آپ کے اندر صلاحیت ہو تو بس وقت دینا پڑھتا ہے، لوگوں کی مینجمیٹ دیکھنی پڑھتی ہے، اور سب سے بڑی چیز آپ کا اخلاق اچھا ہونا بہت ضروری ہے۔ ادارے کو وقت دیں آپ کو خود با خود تمام تر معملات سمجھ میں آنے لگتے ہیں اور آپ آسانی سے مینج کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم لوگوں کا تعلق بزنس ایڈمنسٹریشن سے ہے تو زیادہ پریشانی درپیش نہیں آتی۔
سوال:سَر آپ کے نظریے میں شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کیا ہے؟
جواب: شعبہ انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن ایک بہت میجر اور زبردست قسم کا شعبہ ہے۔ جس کا تعلق بزنس سکھانا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اس شعبہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک بہترین قسم کے بزنس مین بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ بینک میں جاب کرسکتے ہیں یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی یا دنیا کے کسی بھی ادارےمیں باآسانی کام کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے پاس مارکیٹنگ، مینجمینٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فانینس، اکاو ¿نٹنگ ، بینکنگ اور ہر قسم کی تعلیم دی جاتی ہے۔تو اس لیے ہمارہ طلبہ کسی بھی ادارے میںبا آسانی کام کرسکتا ہے۔
سوال: سَر ایک بزنس ایڈمنسٹریشن کا شاگرد معاشرے میں کس طرح تبدیلی پیدا کرسکتاہے؟
جواب: ہمارے ادارے کا اصل تعلق بزنس سے ہے اور اگر ملک کے اندر بزنس کو فروخت ملے گا تو روزگار بڑھےگی، گھروں کا چولھا جلے گا، بچوں کو تعلیم ملے گی، پہننے کو کپڑرےملیں گے، گھر ملے گا تواگر بزنس بڑھے گاتو خوشحالی آئے گی ، روزگار ہوگا، انڈسٹریز کھولیں گی تو ملک ترقی کرےگا اورسی طرح ہم اقتصادی ترقی تک پہنچ سکتے ہیں اور یہ ہی ہمارا اصل مقصد ہے۔
سوال: ہمارے ارد گرد ہر بڑے چھوٹے ادارے میں مینجمینٹ کا بگاڑ ہے جب کے ہر سال انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے بہت سے طلبہ ڈگری حاصل کر رہے ہیں سَر اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب: اگر بات بینکنگ کے حوالے سے کی جائے تو میں خوداس بات کا گواہ ہوں کہ ہر بینک میں ٹاپ پازیشن سے لے کر آخر تک ہمارے طلبہ موجود ہیں اسلامی بینک، انشورینس کمپنیز یا سٹیٹ لائف آپ کہیں بھی چلے جائیں اوراللہ کا شکر ہے کہ وہاں سے خاصے اچھے نتائج مل رہے ہیں۔ اگر بات کی جائے گورنمنٹ اداروں کی تو وہاں بھی خاصی کارآمد کارکردگی سرانجام دے رہے ہیں۔

Friday, 16 February 2018

Noorulain BS Article

File name is wrong, 
Observe para
Write ur name in language in which u are writing piece
Over all it seems ok


Noor ul ain Ansari

2k16/MC/80BS PART-III
Assigned By: Sir Sohail Sangi
سندھ میں بڑھتا ہوا کینسر ایک خطرناک مرض:
سندھ میں بڑھتا ہوا کینسر ایک خطرناک مرض:کینسر بلاشبہ ایک خطرناک اور جان لیوا مرض ہے جو انسان کو دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھوکلا کرتی ہیاور انسان دیکھتے ہی دیکھتے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے.انٹرنیشنل جوہری طاقت(International Atomic Energy) کے تحت ۴ فروری ۷۱ تک ڈیڑھ لاکھ پاکستانی اس ناسور مرض میں مبتلا تھے. جس میں ہر سال تقریبا ہزار مریضوں کا شامول ہورہا ہے. پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد سندھ میں پائی جاتی ہے. جوکہ تقریبا ڈھائی ہزار سالانہ ہے. جس میں بچے,بوڑھے اور خواتین شامل ہیں.صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ منہ کا کینسر, پیٹ کا کینسر, پھیپڑوں کا کینسر, اور چھاتی(Breast) کا کینسر پایا جاتا ہے. جس میں مرد زیادہ تر پھیپڑوں, پراسٹیٹ, معدے, منہ اور جگر کے کینسر میں مبتلا ہیں اور خواتین زیادہ تر چھاتی, اووری,پھیپڑوں,سرویکس اور معدے کے کینسر میں مبتلا ہیں.یہ مرض کیوں لاحق ہوتا ہے. اس کا درست جواب تو کسی کے پاس نہیں لیکن ماہرینِ صحت اس بات پر متفق ہیں کہ یہ بیماری زیادہ تر کھانے پینے کی مضرِ صحت اشیا کے ذریعے انسان کے جسم میں شامل ہوجاتی ہے.ان اشیا میں سب سے زہریلی اور نقصان دہ سگریٹ نوشی, پان گٹکا, میم پوری اور گندے تیل سے تیار شدہ مصنوعات اور زہریلی پانی شامل ہے. یہ مرضِ صحت اشیا بانسبت دیگر صوبوں کے صوبہ سندھ میں زیادہ پائی جاتی ہیں یہ ہی وجہ کہ آبادی کے تناسب سے سندھ میں کینسر کے امراض زیادہ پائیجاتیہیں.حالیہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں موجود پینے کا پانی ۴ فیصد کینسر کی وجہ بن رہا ہے.گزشتہ چند ماہ قبل سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے تشکیل کردہ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کا مئیر ضلعی انتظامیہ کے ساتھ حیدرآباد پھلیلی نہر کا دورہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ کوٹری ٹریٹمنٹ پلانٹ, حیدآباد فلٹر پلانٹ اور پانی کے تالاب کا دورہ اور معائنہ کیا جس کے بعدجسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ عوام کو پینے کے پانی کے نام پر زہر پلایا جارہا ہے. کوٹری کمبائنڈ ٹریٹمنٹ پلانٹ سے بغیر ٹریٹڈ واٹر نہر میں ڈالا جارہا ہے اور یہ ہی پانی لوگوں کو سپلائی کیا جارہا ہے.اب آپ خود سوچئے سوریج کے گندے پانی پینے کے بعد انسان کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہوگا یا نہیں؟ جس کے سیدھے سیدھے ذمہ دار محکمہ ایچ ڈی اے, صوبائی حکومت اور دیگر انتظامیہ ہے. جن کے ہوتے ہوئے سوریج کا گندہ پانی, پینے کے صاف پانی میں مل رہا ہے. اگر انتظامیہ اس پر توجہ سے کام کرے تو سندھ میں ۴ فیصد عوام کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے.اس کے علاوہ کینسر کی ایک اور بڑی وجہ جو سامنے آئی ہے وہ مصنوعی غذہ اور انجکشن کے ذریعے زبردستی بڑی کرنے والی فارمی مورغیوں کا استعمال ہے. اس بات سے کم لوگ ہی آگاہ ہیں کہ جن فارمی مرغیوں کا گوشت ہم, ہمارے روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں اصل میں وہ ہمارے لیے زہر ہے. کیونکہ ان کو زبردستی بڑا کرنے کے لئے جو انکجکشن لگائے جاتے ہیں ان میں ۷۶ فیصد کینسر کے جراثم موجود ہوتے ہیں. لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے یا وہ خوابِ خرگوش میں اتنا مشغول ہیں کہ وہ کچھ دیکھنا ہی نہیں چاہتے ہیں. جس کی وجہ سے وہ اتنے سنگین مسئلے سے بے خبر بیٹھے ہیں. سندھ میں اس وقت کینسر کے ہسپتال موجود ہیں. جو کہ ۵ کراچی, ۱ لاڑکانہ, ۱ جامشورو اور ۱ نوابشاہ میں موجود ہیں. لیکن ان میں سے کسی بھی ہسپتال میں کینسر کا مکمل علاج مہیا نہیں ہے.کینسر جیسے خطرناک مرض سے بچنے کے لئے ہمیں خود احتیاط کرنی ہوگی. غیر معیاری اشیا سے اجتناب کے ساتھ ساتھ پھل اور سبزیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہوگا. امیریکی انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ(The American Institute Of Cancer (Research کے تحت ہری(Green) اور لال(Red) پھل اور سبزیوں کا استعمال مرضِ کینسر کا آسان اور مفید علاج ہے. اس کے ساتھ ساتھ ورزش کو بھی اپنی روزمرہ کی زنگی میں شامل کرنا چاہیے.میری نظر میں کینسر کے مرض سے بچنے کا یہی ایک آسان نسخہ ہے.