Sunday, 15 April 2018

Zaira Article BS


Zaira ansari
BS partlll2k16-121-mc
Assigned by sir sohail sangi
حیدرآبا د میڈیا میں بے روزگاری حیدرآبا د میڈیا میں بے روزگاری :
حیدرآبا د میڈیا میں بے روزگاری حیدرآبا د میڈیا میں بے روزگاری : سندھ کے دوسریبڑے شہر حیدرآباد میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ہیڈ آفسز گنتی کے موجود ہیں جس میں سندھی پرنٹ میڈیا روزنامہ کاوش ، عبرت ، سندھ ایکسپریس کے ساتھ ساتھ اردو میڈیا سے وابستہ روزنامہ پاسبان ، سفیر ، سرمایہ ، ودیگر ہے ہیڈ آفسز تو ہیں لیکن کام کرنے والوں کو مالکان اجرت ان کی ماہوار 7سے 10 ہزار روپے تک دیتے ہیں اور فوٹوگرافرز اور فیلڈ رپورٹرز کو 4 سے 5 ہزار روپے تک بڑی مشکل سے ملتے ہیں اور نیوز ایڈیٹر ، پروف ایڈیٹر ، اور ایڈیٹر کی تنخواہ صرف سندھی پرنٹ میڈیا کو ہی ملتی ہے اور اردو پرنٹ میڈیا کے دفترز میں ایک ہی افراد تینوں پوسٹوں پر اپنا فرض سرانجام دیتا ہے جس کی تنخواہ 10ہزار روپے سے زائد نہیں ہے اور پرنٹ میڈیا کے مالکان صرف کام کرواتے ہیں ان کو عیدالفطر یا عیدالاضحی یا کسی بھی قسم کے خوشی کے تہواروں میں بونس تک نہیں دیتے ہیں اور کسی بھی ورکرز کی انشورنس یا ویج بورڈ نہیں کرواتے ہیں دوسری طرف بات کی جائے الیکٹرانک میڈیا کے دفتر ہیڈ آفس کی تو وہ حیدرآباد میں ایک ہی ہے جو سندھی نیوز چینل مہران سے موجود ہے جہاں پر تمام اسٹاف کو بھی تنخواہوں کا رونہ روتے ہوئے نظر آتے ہیں کیمرہ مین کی تنخواہ 12سے 15 ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہے اور فلیڈ رپورٹر کو 7 سے 10 ہزار روپے بڑی مشکل سے دیئے جاتے ہیں مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حیدرآباد میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بیورو دفترز تقریبا 50 کے لگ بھگ موجود ہیں جن کی تنخواہیں تو ملنے کی دور بات آفس تک کرایا ، پیٹرول ، موبائل فون بیلنس اور انٹرنیٹ سروس بھی بڑی مشکل سے نکالتے ہیں کیونکہ مالکان صرف اپنی پروڈکٹ ان کے حوالے کر دیتے ہیں اور اس پروڈکٹ کو استعمال جائز یا ناجائز کرنا انہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے کچھ بات یہ کی جائے کے وہ فلیڈ رپورٹر یا کیمرہ مین اپنی تنخواہ بلیک میلنگ کے راستے سے نکالتے ہیں باعث نیوز نشر کرنے کے بہانے سے پیسے بٹورتے ہیں اس کے علاوہ ایک حقیقت پسند بات کی جائے تو وہ ایک کڑوی تو ہے لیکن سچ اور حقیقت پر مبنی ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ %80 پرسن حیدآباد پریس کلب میں ممبر شپ اور عارضی انٹری ہولڈر کے طور پر روزانہ کی بنیاد پر مظاہرین اور پریس کانفرنس کی کوریج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں بدقسمتی سے 50 پرسن فیلڈ رپورٹرز کیمرہ مین اور فوٹوگرافرز ان مظلوم متاثرین افراد کی کوریج کی نشر یا شائع کرنے کے پیسے 200 سو روپے سے 1000 تک وصول کرتے ہیں اور کلب کے اندر پریس کانفرنس کے پیسے چار ہزار روپے وصول کر کے پھر جاری کی جاتی ہے حیدرآباد پریس کلب ایک اسی واحد جگہ ہے جہاں ہر الیکٹرونک میڈیا سے منسلک لوگ موجود ہے کیوں کہ یہ ایک واحد ادارہ ایسا ہے جہاں کسی بھی بڑی شکسیت کی آنے کی معلومات سے لیکر حادثات تک کی معلومات سب سے پہلے حیدرآباد پریس کلب کو ہی وصول ہوتی ہے حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کے محکمہ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ فیلڈ رپورٹر کیمرہ مین اور فوٹوگرافرز کو اپنے محکمے میں رجسٹرڈ کرتی ہے اور ان کا فیلڈ ورک کارڈ بھی ہر سال جاری کیاجاتا ہے جس سے پاکستان ریلوے ، پاکستان ایئر لائن جیسی سفری سہولیات 50سے 75 پرسن حاصل کی جاتی اور تو اور وزیر اعظم ،صدر ، وزیر اعلی اور گورنر کے علاوہ وزیر مشیر اور بیورو کریٹ افسران سے باآسانی ملاقات کی جاتی ہے ان چیزوں کے باوجود چند فیلڈ رپورٹرز نے اپنی تنکھا کے لیئے یونین بنا رکھی ہے مگر ان کی بھی کوئی سنوائی نہیں ہوتی ہے حکومت کو چاہیے کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے دیکھا جائے اور اس معاملے کو حال کروایا جائے تاکہ نوجوان میڈیا میں آگے آسکے۔

Sumbul Interview BS


نام:سمبل منظور
ایس پارٹ:3
رول نمبر:2k16-mc-150
نوجوان گلوکار وقار ملاح سے بات چیت

سندھ کے مشھور ضلعہ دادو کا پیدائشی نوجوان گلوکا ر وقار ملاح جنھوں ،نے بچپنں سے ہی گلوکاری کا آغاز کیا ، اور تھوڑے ہی عرصے میں پوری سندھ میں مقبولیت حاصل کرلی. نوجوان گلوکار وقارملاح سے ذاتی زندگی اور فن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں.
سوال: آپ کی پیدا ئش کہاں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کہاں حاصل کی؟
جواب:میری پیدائش میرے ابائی گاؤں دادو میں پہر جلد ہی وہاں سے حیدرآباد چلے آئے اور رہائش اختیار کرلی میراپورا بچپں حیدرآباد میں حاصل کی. اس کے باد انٹر ڈگری کالیج حیدرآباد سے کیا۔
سوال:گلوکاری کی طرف آپ کیسے متوجہ ہوئے؟
جواب: قدرت کی طرف سے ہی میٹھی آواز عطا کی ہوئی تھی اسی وجہ سے بچپں سے ہی اسکول کہ مختلف پروگرامز میں گانا شروع کردیا۔ اور کئی انعامات حاصل کیے.اور اس شئبے میں آنے کے لئے استادون نے محنت کروائی. 
سوال: گلوکاری کہ شعبے میں مشکلات درپیش ہوئی؟
جواب: غریب گھر سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کافی مشکلات پیش آئی اور ہر کوئی بولتا تھا کہ گلوکاری میں کوئی مستقبل نہیں ہوتاپر میرے والد نے میرا بہت ساتھ دیا۔
سوال: آپ کو گلوکاری میں کونسی شاعری گانا پسند کرتے ہیں؟
جواب:میں ملی نغمے اور قومی ترانے اور رومانوی گیت گانا پسند کرتا ہون۔
سوال: آپ زیادہ تر کس شاعرون کو گنگنانا پسند کرتے ہیں؟
جواب: میں نے اس وقت تک شیخ ایاز،استاد بخاری ، رخسانہ پریت، راشد مورائی، ایازگل، ایوب کھوسہ،آکاش انصاری،لیاقت علی کی شاعری گنگنائی ہے ۔
سوال:کوئی ایسا مقبول گیت جس نے آپ کو ذیادہ مقبولیت دلائی ہو؟
جواب:شاعر مانک ملاح کی شاعری کا گایا ہوا گیت(مٹی منھنجی ماءٌ) سے مجہے شہرت ملی۔ 
سوال: آپ کہ پسندیدہ فنکار کون سے ہیں؟
جواب: عابدہ پروین، لتا ، صادق فقیر ، شفیع فقیر، منظور سخیرانی۔
سوال: آپ کتنے عرصے سے اس فیلڈ میں ہیں اور کتنے نوجوان آپ کو پسند کرتے ہیں ؟
جواب:میں گذشتہ سات برس سے گلوکاری کی دنیا میں کام کر رہا ہونااور نوجوا ن بہت ذیادہ پسند کرتے ہیں ٹیلیوزن کی دنیا میں کم لیکن سوشل میڈیا پر ذیادہ چاہنے والے ہیں سوشل میڈیا پر ذیادہ چاہنے والے ہیں۔
سوال:گلوکاری کہ حوالے سے کوئی پیغام دینا چاہینگے؟
جواب: گلوکاری کہ حوالے سے میں کھونگا کہ ہمیں اس ترقی کہ دور میں دنیا کہ ساتھ چلنا چاہیے،گلوکاری کبہی ختم نہیں ہوگی، بلکہ یہ بہت آگے تک جائیگی،گلوکاری روح کی راحت ہے، اسے گنگنانے سے دل کو سکون ملتا ہے۔ 

Saadat Interview BS


مزاحیہ فنکار اصغر کھوسو سے خصوصی انٹرویو
روشنی۔ اصغر آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟
اصغر کھوسو۔ میرا تعلق سندھ کے قدیمی شہر ضلع دادو تعلقہ جوہی کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے (کاچھو) وہاں سے ہے۔
روشنی۔ آپ نے کامیڈی کی دنیامیں کب قدم رکھا ؟
اصغر کھوسو۔ میں بچپن سے ہی شادیوں، جلسوں، ریلیوں اور دوستوں کی چھوٹی چھوٹی محفلوں میں مزاحیہ پراگرامز کرتا تھا اور لوگ مجھے داد دیتے تھے مگر پانچ سال سے اس فن کو میں نے اپنا پیشا بنا لیا ہے ۔
روشنی۔ آپ کو پہلی بار دنیا کے سامنے کس نے متعارف کروایا ؟
اصغر کھوسو۔ میرا ایک دوست تھا غلام شبیر جس نے سوشل میڈیاپرمیری ایک مزاحیہ ویڈیو رکھی اورکافی لوگوں نے مجھے پسندکیااور میری کامیابی کے دروازے کھلنا شروع ہوگئے ۔
روشنی۔ اصغر بھائی جیسا کہ آپ کو سوشل میڈیا سے ہی اتنی مقبولیت ملی ہے تو آپ کے وہاں پر چاہنے والے کتنے ہیں ؟
اصغر کھوسو۔ سوشل میڈیا پر میرے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں کیوں کہ جب بھی میں کوئی ویڈیو رکھتا ہوں تو وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور لوگ دیکھ کر بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔
روشنی۔ ہر انسان پر تنقید ہوتی ہے یقینََ آپ بھی ضرور اس چیز کا نشانہ بنے ہونگے تو کبھی مایوسی ہوئی؟
اصغر کھوسو۔ مایوسی کرنا کفر ہے اور ہر فنکار مشہو ر جب ہوتا ہے اچھا فنکا ربھی جب بنتا ہے جب اس پر تنقید ہوتی ہے اگر سب واہ واہ کرنے والے ہونگے تو انسان کبھی بھی سیکھ نہیں پائے گا میں تو کوشش کرتا ہوں کہ لوگ مجھ پر تنقید کریں تاکہ میں اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرسکوں ۔
روشنی۔ آپ اپنی زندگی میں کس بڑے مزاحیہ فنکار سے متاثر ہوئے ؟
اصغر کھوسو۔ میرے سب سے زیادہ پسندیدہ مزاحیہ فنکار معین اختر صاحب اور عمر شریف ہیں کیوں کہ وہ ایسے فنکار تھے جو کبھی ا سکرپٹ دیکھ کر نہیں بولتے تھے ۔
روشنی ۔ کبھی کوئی ایسا وقت آیا جو آپ ہمت ہار کر بیٹھ گئے؟
اصغر کھوسو۔ ایسا وقت ضرور آتا ہے کیوں کہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو بہت تکلیف پہنچاتے ہیں تو دل کرتا ہے اس کام کو چھوڑ دوں پھر جب اچھے لوگ آکر داد دیتے ہیں تو پھر ساری باتیں بھول جاتا ہوں ۔
روشنی۔ آپ نے اپنی پہلی ویڈیو کا ٹائٹل (جانا) کیوں رکھا؟
اصغر کھوسو۔ جا نا میرا ایک تکیہ کلام ہے کیوں کہ ہر انسان اپنے کسی کوڈ ورڈ سے پہچانا جاتا ہے جیسے شاہد آفریدی بوم بوم سے مشہور ہیں اس لئے میں نے اپی پہلی ویڈیو کا ٹائٹل جانا رکھا۔
روشنی۔ آپ کو نا صرف پاکستان کے لوگ بلکہ باہر ملک رہنے والے بھی پسند کرتے ہیں تو کیا کبھی پاکستان سے باہر جا کر پروگرام کیے ہیں؟
اصغر کھوسو۔ مجھے پاکستان کے علاوہ سعودیہ عرب ، انڈیا ، امریکہ ، کنیڈا اور دوسرے کئی ممالک میں بھی پسند کرتے ہیں کیوں کے وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں ایک انپڑ ھ بندا کتنا خود اعتمادی سے لوگوں کو خوش کرتا ہے تو وہ مجھے اپنی بڑی بڑی تقریبا ت میں بلاتے ہیں جیسے دبئی میں پروگرام کرکے آیا ہوں ۔
روشنی۔ کامیڈی کے ساتھ موسیقی کا شوق کیسے ہوا؟
اصغر کھوسو۔ اس کی ایک اور وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک مزاحیہ فنکار زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹا ہنساکر لطف اندوز کرسکتا ہے تو میں نے سوچا بقایا وقت میں موسیقی سنا کر لوگوں کو خوش کرسکوں کیوں کہ میرے گانوں میں مزاحیہ انداز ہی ہوتا ہے جس سے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔
روشنی۔ دونوں میں آپ کس چیز کو اگے لیکر جائینگے کامیڈی یا موسیقی کو ؟
اصغر کھوسو۔ میری زیادہ توجہ صرف کامیڈی پر ہے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب اصغر کامیڈی چھوڑ دیگا اور موسیکار بن جائیگا مگر یہ بات نہیں ہے مزاحیہ فنکار کی مثال ایسے ہے کہ کھانے کے ساتھ سلاد جہاں دس موسیکار ہیں وہاں ایک مزاحیہ فنکار ضرور ہوتا ہے۔
روشنی۔ آپ اپنی فیملی کو ٹائم کیسے دیتے ہیں کیوں کہ آپ کو پروگرامز میں بھی جانا ہوتا ہے اپنے بچوں پر بھی توجہ دینی ہوتی ہے؟
اصغر کھوسو۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیں خوش کرتا ہے ہنسا تا ہے تو یہ خود بھی بہت خوش ہوگامگر ہمیں پتا ہوتا کہ ہماری زندگی میں کتنی تکلفیں اور مسائل ہوتے ہیں میری بیوی فالج کی پیشنٹ ہے اور میری والدہ شوگر کی پیشنٹ ہیں جب بھی کسی پروگرام میں جانا ہوتا ہے تو ہم مزاحیہ فنکار اپنے دکھ درد تکلیفیں اور غم اپنے گھر میں چھوڑ کر لوگوں کو ہنسانے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور دوسری طرف مجھے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینے ہوتی ہے کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ میں نہ پڑھ سکا مگر میرے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب ہوں ۔
روشنی۔ آپ کو زندگی میں کس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے ؟ 
اصغر کھوسو ۔ مجھے سب سے زیادہ جو کمی محسوس ہوتی ہے وہ ہے تعلیم کیوں کہ میں پڑھ نہیں سکا جس کا مجھے افسوس ہوتا ہے اس لیے میں سب کو تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہوں اس لیے مجھے پڑھے لکھے لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں ۔
روشنی۔ ہمارے ملک کے بہت نوجوان ایسے ہیں جو کامیڈی میں شوق رکھتے ہیں اور اس ہی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو آپ ان کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ 
اصغر کھوسو۔ میں یہی کہنا چاہوں گا کہ محنت کریں، لگن سے کام کریں، جستجو جاری رکھیں، اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ دیں اور اپنے والدین کی خدمت کریں ان کی دعائیں لیں اللہ آپ کو ضرور کامیاب کریگا۔

Saturday, 14 April 2018

Mahnoor Interview BS


ہمارے نوجوانوں کو انسان ذات کی بھلائی کیلئے کام کرنا ہوگا۔ نواب کاکا 
ماہ نور چنا ۔ بی ایس (III )۔44







پروفیسر ڈاکٹر نواب کاکا 14 فروری 1978 کو تحصیل سعید آباد ضلع مٹیاری ک گاؤں ابراہیم کاکا میں پیدا ہوئے ۔ آئیں علم و ادب کے حوالے سے بات چیت کرتے ہیں۔
سوال: سر آپ اپنا مختصر تعارف کروائیں ؟
جواب میرانام نواب کاکا ہے ۔ میرا جنم میرے آبائی گاؤں نواب ابراہیم کاکا میں 1978 کو ہوا۔ میں سندھ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مرزا قلیچ بیگ چےئر کا ڈائریکٹر بھی ہوں ۔
سوال : اپنی تعلیمی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کریں ؟
جواب : میں نے اپنی تعلیم آپ کی طرح اپنے ہی گاؤں کے اسکول سے حاصل کی اس کے بعد بارہویں جماعت کے امتحان ہالا سے پاس کرکے سندھ یونیورسٹی سے سندھی شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری اپنے نام کی ۔ 2005میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد کراچی و دیگر سندھ کے کالیجز میں بطور استاد بھی فرائض سر انجام دے چکاہوں ۔
سوال : سر شاعروں ، ادیبوں کے شعبے یعنی سندھی شعبے کی طرف آپ کا رحجان کیسے گامزن ہوا؟
جواب : دیکھیں ادب سے میرا فطری طورپر لگاؤ رہا تھا ۔ مڈل کلاس سے لے کر ادبی دنیا تک کے سفر میں اپنے والد صاحب سے بہت متاثر ہوا کیونکہ وہ اس وقت شاہ صاحب کی غزل (بیت) پڑھتے تھے تو میرے شوق میں اضافہ ہوا اور اسی وقت سے شاعری لکھنا شروع کردی ۔مختلف رسالہ وغیرہ پڑھنے کی دلچسپی بھی بڑھ گئی اور اس وقت سے لے کر میری خواہش تھی کہ سندھی ادبی شعبے میں پڑھنے اور کام کرنے کا موقع ملے ۔
سوال: سر آپ کے پیش نظر اد ب کیا ہے ؟ اس حوالے سے آگاہ کریں ۔
جواب : ادب کی وصفیں دنیا کے کتنے ہی فلاسفروں ، محققوں نے د ی ہیں ۔ کچھ نے ادب کو زندگی کی تفسیر بتایا ہے ۔ علامہ آئی آئی قاضی کے مطابق، ادب چھوٹے بچے کو چلنا سکھانے والے عمل جیسا مفہوم رکھتا ہے ۔ میرے نقط نظر سے سیکھنے اور سکھانے والے عمل کو ہم ادب کا نام دے سکتے ہیں ۔ ادب انسانی زندگی کی عکاسی و ترجمانی بھی کرتاہے۔ ادب کا مقصد یہ ہے کہ زندگی کے مسائل پے نظر رکھ کر ان کا حل بتانا ہے ۔ انسانی جذبات، احساسات، اور غم و خوشی کیا ہے اس کی آگاہی ادب سے ملتی ہے ۔ 
سوال : ادب کے حوالے سے میرا اگلا سوال :یہ ہوگا کہ آپ سندھی ادب کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب : دیکھیں سندھی ادب کے مختلف دور گزرے ہیں ۔ کلہوڑوں کا دور سندھی ادب کے عروج کا دور سمجھا جاتا ہے ۔ جس میں کئی کلاسیکل شاعر رونما ہوئے ۔ اس دور میں شاعری کی صنفوں وائی ، غزل وگیتوں کو عروج حاصل ہوا۔ اس کے بعد انگریزوں کا دور آیا جو جدید ادب کے حوالے سے بنیادی دور ہے ۔ جس میں مرزا قلیچ بیگ بھی شامل ہیں جنہوں نے سندھی ادب کی جدید فکر کا بنیا رکھاہے ۔اس کے بعد موجودہ دور ہے جس میں کئی مسائل درپیش ہیں ۔ کئی ایسے مصنف آئے ہیں جن کی لکھائی میں کوئی تخلیقی صلاحیت نہیں ۔ 
سوال : سر اگر سندھی ادب کی بات کی جائے تو آپ کس شاعر سے متاثر رہے ہیں ۔
جواب : شعراء کی بات کی جائے تو سارے شاعر لطیف، سچل ،سامی ، شیخ ایاز اور بھی بہت سارے ہیں ۔ لیکن اگر شاہ عبدالطیف بھٹائی کی بات کی جائے تو انہوں نے تمام زندگی کے پہلوؤں کو پیش کیاہے ۔ ان کی شاعری میں خوبصورتی اور سچائی بھی سمائی ہوئی ہے ۔
سوال : سر دیکھا جائے تو کلاسیکل شاعری اور مو سیقی میں آج کل کمی نظر آرہی ہے اس کی وجہ کیاہے؟
جواب: کلاسیکل شاعری میں کمی اتنی نہیں آئی ، ہمارے کئی فنکاروں نے شاہ اور دوسرے شاعروں کو اپنے سروں کی زینت بخشی ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے افراد کی پسند تبدیل ہوچکی ہے آج کل کے لوگ کلاسیکل شاعری کو نہیں سنتے ۔ 
سوال : آپ نے اس وقت تک کتنے ادبی تحفوں کو سنبھالا ہے ؟ 
جواب : میری کتاب ’’ سندھی کہانی اور کردار ‘‘ کے نام سے 2017 میں چھپی ہے ۔ اور دیگر میرے پی ایچ ڈی کے تھیسز بھی ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف تحقیقی کھوج جرنلوں اور مقالوں کو شائع کیا گیا ہے اس طرح اگر ان کو جوڑا جائے تو چار پانچ کتاب چھپ سکتے ہیں ۔
سوال : شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ چےئر کے بارے میں تھوڑی آگاہی دیجئے ۔
جواب: دیکھئے بنیادی طور پر ان چےئرز کاکام اس شخص کے کیے ہوئے کام کو آنے والی نسل تک پہنچا نا ہے ۔ ایسے ہی ہمارے مرزا قلیچ بیگ اپنی شخصیت میں ایک ادارہ تھے جنہوں نے علم کی شاخ پر کام کیا ۔ یہ چےئر انہی کے کام محفوظ کرنے کے لیے ہمارے اس وقت کے وائس چانسلر مظہر الحسن صدیقی کی صدارت میں 2008 میں بنیاد رکھی گئی جس کے پہلے ڈائریکٹر محمد قاسم بگھیو تھے ۔ دسمبر 2017سے یہ چارج میرے پاس ہے ۔ اس وقت تک میں نے تین سیمینار کروائے ہیں جبکہ چار کتاب چھپنے کے لیے بھیجے ہیں ۔
سوال : ہمارے نوجوانوں یا پڑھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے ۔ 
جواب : ان کے لیے پیغام ہے کہ اپنے کام میں مخلص رہیں ، اساتذہ سے سچا عشق اور چاہ پیدا کریں ۔ ہمارے بڑوں سے ملے ہوئے اداروں کی باقائدہ حفاظت کریں ۔ انسان ذات سے بھلائی کریں ۔ ان کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ خود بیدارہوں، نیکی کی راہ لیں اور اچھائی کے کامون کی طرف غور و فکر کریں ۔

Munawar Feature BS


تحریر: منور خان
رول نمبر: 2k16/MC/72
کلاس: بی ایس پارٹ3

فیچر:
سینی موش 3D سنیما ہاس
انٹرٹینمنٹ انسانی زندگی کا لازمی مشغلہ ہے۔ انسان کی زندگی جب مشکل حالات، مصائب اور پریشانی سے دوچار ہوتی ہے تو اس کا سامنا کرنے کے لئے اس کے پاس مضباط اعصاب کا ہونا بہت لازمی ہے اور انٹرٹینمنٹ اعصاب کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ انٹرٹینمنٹ کی بہت ساری اقسام ہیں جن میں سنیما گھر بھی انٹرٹینمنٹ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
1947 کی جنگِ آزادی کے بعد لاہور پاکستان کے سنیما گھروں کا مرکز تھا۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کی تاریخ کی سب سے پہلی فلم تیری یاداں ہے جو کہ لاہور کے بربت تھیٹر میں ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان فلم انڈسٹری نے عروج حاصل کرنا شروع کردیا اور پاکستان میں سنیما گھروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔ آج پاکستان کے تقریبا ہر شہر میں سنیما گھر موجود ہیں جہاں پر لوگ فلم دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان کے شہر حیدرآباد میں بھی کافی سنیما گھر موجود ہیں جن میں سب سے نمایاں مقام سینی موش 3Dسنیما ہاس کو حاصل ہے۔ یہ حیدرآباد کا سب سے پہلا 3D سنیما ہاس ہے جو کہ پر کشش آٹو بھان روڈ پر واقع ہے۔ شہر حیدرآباد میں کافی سنیما گھر ہیں مگر سینی موش سنیما گھر کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر ہالی وڈ، بالی وڈ اور لالی وڈ کی نت نئی فلم سب سے پہلے سینی موش میں ہی دکھائی جاتی ہیں۔ سینی موش دوسرے سنیما گھروں سے اس لئے نمایاں ہے کیوں کہ یہاں کو ماحول اچھے معیار کا ہے۔ یہاں نہ صرف امیر گھرانے کے لوگ فلم دیکھنے جاتے ہیں بلکہ مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ سینی موش میں تین قسم کے ٹکٹ فراہم کیے جاتے ہیں جن میں سب سے نچلے درجے کی ٹکٹ سلور ، اسکے بعد گولڈ اور سب سے نمایاں پلاٹیننیم ہوتی ہے اور ان ٹکٹ پر ان کے رنگ اور درجے کے حساب سے الگ الگ ریٹ پر فروخت کیے جاتے ہیں جب کہ اسکول، کالجز اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے لئے خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے طالبِ علموں کی خاص تعداد سینی موش کا رخ کرتے ہیں۔
سنیما ہاس میں فلم دیکھنے کی خاص وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو بھی نئی فلم ریلیز ہوتی ہے اس کا ایچ ڈی پرنٹ صرف سنیما گھروں میں ہی دستیاب ہوتا ہے اسی لئے ہر رنگ و نسل اور ذات پات کے لوگ بلا کسی تفریق کے ساتھ بیٹھ کر فلم کو دیکھ کر محظوظ ہوتیہیں۔

Munawar Interview BS


تحریر : منور خان 
رول نمبر : 2K16 / MC / 72
کلاس : بی ۔ایس پارٹ ۳

انٹرویو :-
الحاج اشرف بن محمد

الحاج اشرف بن محمد جوکہ آل سندھ پرا ئیویٹ ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے صدر ہیں ۔ انکو انکی تعلیمی صلاحیتوں اور انسانی خدمات کی وجہ سے کئی اعزاز ات سے نوازا جا چکا ہے ۔اس کے علاوہ یہ ٹیچر ز کے حقوق کیلئے گسٹا یونین میں بھی کافی محترک رہے ہیں اور ہر محاظ پر ٹیچر ز حقوق اور ایجوکیشن میں مثبت کردار ادا کرنے کے جذبہ سے سر شار الحاج اشرف بن محمد سے ہونے والی گفتگو سوال وجواب کی صورت میں نذر قارئین ہے۔
سوال نمبر ۱: سب سے پہلے تو آپ اپنی کو الیفیکشن کے بارے میں بتائیں اور آپ کتنے سال سے ایجوکیشن کیلئے خدمات فراہم کررہے ہیں؟
جواب: میں نے ماسٹر کیا ہے (Math)میں اور الحمد اللہ میں بتیس سال سے ایجوکیشن کے حوالے سے خدمات فراہم کر رہا ہوں 
سوال نمبر ۲: ایجوکیشن کے علاوہ انسانی حقوق کیلئے آپکی کیا خدمات ہیں ؟
جواب: ہومن رائٹس کا بھی میں (ایچ ۔آر۔ سی ۔پی)ممبر ہوں اور اس میں بھی میں نے آواز جہاں پر اٹھانی تھی اٹھائی ہے اور میں نے چائلڈ لیبر کیلئے ہر لحاظ پر آواز اٹھائی ہے (ایچ۔ آر۔ سی ۔پی ) کے پلیٹ فارم کے تحت کہ حکومت نے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک کیلئے تعلیم مفت کردی گئی ہے مگر یہ بچے سڑکوں پر اور کارخانے وغیرہ میں معمولی اجرت پر کام کررہے ہیں جس کی وجہ سے یہ بچے اسکول کی تعلیم سے محروم ہیں میں نے کئیں مرتبہ گورنمنٹ سے اس بات پر آواز اٹھائی ہے کہ آپ ان کو پابند کر یں کہ ان بچوں کو مزدوری کے بچائے تعلیم دلائیں ۔
سوال نمبر ۳: آپ کا ایجوکیشن کیرئیر کس مقام سے شروع ہو تا ہے ؟
جواب: ابتدا میری جو ہے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 22نومبر 1947میں ہوئی ۔اس کے بعد میں وقتاًفوقتاً پرا ئمری سے ترقی کرتا ہوا ہائرسکینڈری اسکول کای ہیڈ ماسٹر ہوکہ ریٹائرڈ ہوا۔

سوال نمبر ۴: آپکے خیال میں ایسے کیا اقدامات ہونے چائیے جس سے ہماری ایجوکیشن میں بہتری آسکے ؟
جواب: میرے خیال سے پاکستان کے ایجوکیشن سسٹم میں تمام پرائیویٹ اور گورنمنٹ اسکول اور کا بجز میں ایک ہی معیار کی تعلیم ہونی چائیے اور ان کا کانصاب تعلیم بھی ایک جیسا ہونا چائیے ۔ہمارے یہاں المبہ یہ ہے کہ امیر کیلئے الگ معیار تعلیم ہے اور غریب کیلئے الگ یہ امتیازی فرق ختم کرکے سب کو ایک جیسا ماحول اور معیار دینا چائیے ۔جبکہ اساتذہ کو پنکچول کر نا بھی بے حد ضروری ہے ۔

Munawar Profile BS



تحریر : منور خان 
رول نمبر : 2K16 / MC / 72
کلاس : بی ۔ایس پارٹ ۳

پروفائل :-
ابتسام شیخ 

اگر انسان کے حوصلے بلند ہوں اور ارادے نیک ہوں اور خدا پر یقین ہوں تو نا ممکن کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔اس کی جیتی جاگتی مثال حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ابتسام شیخ کی ہے جو کہ حالیہ پی ایس ایل کے ٹھرڈ ایڈیشن میں پشاور زلمی کی نمائندہ گی کررہے ہیں ۔ ابتسام شیخ نے تمام مصائب کا سامنا کیا اور ناممکن کو ممکن کردکھایا ۔ 
ابتسام شیخ کو بچپن سے ہی کرکٹ سے جنون کی حدتک لگاؤ تھا ۔ ابتسام شیخ کا بچپن عام بچوں سے مختلف رہا ہے نہ انکی شامیں
آوار اگردی میں گزری نا کسی بڑی عادت کا شکار ہوئے ۔چھوٹی عمرسے ہی ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز بس کرکٹ ہی کو اپنا سب کچھ بنالیا۔ اپنے شوق کو پورا کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کیلئے ابتسام شیخ نے ما ما شوکت بلوچ کی اکیڈمی جوائن کری جوکہ سنی کالج میں نیٹ پریکٹس کرتے تھے ۔ایسی وجہ سے ابتسام شیخ نے تعلیم بھی وہیں سے حاصلکی یعنی سٹی کالج اور سیٹھ کمال الدین ہائی اسکول سے ابتسام شیخ نے محنت لگن اورجذبہ سے لیگ اسپن کی پریکٹس شروع کی ابتسام شیخ کا پسند یدہ بولر شین وارن ہے اسی لیے شین وارن کی طر ز پر بالنگ سیکھنا شروع کردی ابتسام شیخ کو کم عمری میں ہی لیگ اسپن بالنگ میں مہارت حاصل ہوگئی ۔ابتسام شیخ نے آفیشل کرکٹ 14سال کی عمر میں U-16ریجن کھیل کرشروع کی ۔
ابتسام شیخ کی اصل کامیابی کا اور اس وقت شروع ہوا جب ابتسام نے U-19ڈسٹرک میں ٹاپ کیا پھر ابتسام شیخ کو اس کی اعلیٰ پر فارمنس کی بدولت نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی طرف سے دیجنل کرکٹ کھیلنے کی آفر ہوئی یہ ابتسام شیخ کے کیر ئیر کیلئے ترننگ پوائنٹ ثابت ہوا ۔ کیونکہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پاکستانی انٹرنیشنل کہ کٹرز کے ساتھ نیٹ پر یلکٹس کرنے کا موقع ملابس سے ان کے موراں میں بے انہتا اضافہ ہوا۔ 
ابتسام شیخ اوور ایج ہونے کی وجہ سے U-19ورلڈ کپ نہ کھیل سکے بد قسمتی سے مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ ابتسام شیخ نے فیصل آباد کی طرف سے اپنے فرسٹ کلاس میچ کاڈ یو کیا ور اپنی اعلیٰ کارکردگی کی بدولت سلیکٹر ز کی نظروں میں آگئے ۔ اسی لیے ابتسام شیخ کو پی ایس ایل تھری میں پشاور زلمی کیلئے امر جنگ پلیئرنگ میں شامل کرلیا گیا ۔ واضح رہے کہ ابتسام شیخ دوسرے حیدرآباد کے کھلاڑی ہیں ۔
جوپی ایس ایل میں شامل ہوئے ۔ان سے پہلے شرجیل خان کویہ اعزاز حاصل ہو چکا ہے ۔
ابتسام شیخ کی حسن کارکردگی کا سلسلہ ابھی رکا نہیں بلکہ پی ایس ایل میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لو ہا منوا چکے ہیں اور اگر اسی طرح اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا تو اس بات کے قوی امکان ہیں کہ ابتسام شیخ کو جدل ہی پاکستان کی نمائندہ کرنے کا اعزاز حاصل ہوجائے۔